نیویارک کی ایک تنظیم اسکول کی طالبات کو نثر، شاعری اور ادب کی دوسری اصناف لکھنے کی جانب مائل کرنے کے لیے ایک پروگرام چلارہی ہے۔ اس پروگرام کا مقصد لڑکیوں کو اپنے اظہار میں مدد دینے کے ساتھ ساتھ مستقبل کے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی بھی ہے۔
کارمن
لی اس وقت صرف 13 سالہ تھی جب اس کی ایک ٹیچر نےیہ محسوس کیا کہ اسے لکھنے
کا شوق ہے ۔ چنانچہ اس نے کیرمن کو ،گرل رائٹ ناؤ، نامی پروگرام
میں شرکت کا مشورہ دیا۔ کارمن لی کا کہنا ہے کہ اس سے پہلے میں صرف اسکول
کے لیے لکھتی تھی، یعنی سکول کا کام ۔ میں نے کبھی اپنے لیے نہیں لکھا تھا۔
اب کارمن اپنے ادب کی استانی شیلی سے ہفتے میں ایک بار ملتی ہیں۔ وہ شاعری اورنثری اصناف میں بھی لکھتی ہے۔
شیلی اس سے دس برس بڑی ہے
۔ اس کی شاعری شائع ہوتی ہے۔ ان کا تعلق جنوبی امریکہ کے ایک دیہی علاقے
سے ہے۔ کارمن کے والدین چین سے نقل مکانی کرکے آئے تھے۔ وہ من ہٹن میں
پیدا ہوئی۔
شیلی ٹیلر کہتی ہیں کہ ہم دنیا کے دو بالکل
مختلف علاقوں سے ہیں۔ میرا تعلق بہت ہی مختلف علاقے سے ہے۔ میں ننگے پاؤں
چل کر اور گھوڑے کی پیٹھ پر سواری کرتے ہوئے پروان چڑھی۔ جب میں نیویارک آئی
تومجھے زمین دوز ریل گاڑی میں بیٹھنے سے ڈرلگتاتھا۔ مجھے نہ تو اس شہر کے
بارے میں پتہ تھا اور ہی کارمن کے بارے میں اور نہ ہی میں یہ جانتی تھی کہ
میں اور کارمن ایک جیسی ہیں۔
کارمن لی کہتی ہے کہ میں ان
چیزوں کے بارے میں لکھنے کی کوشش کرتی ہوں جن کے متعلق عام طورپر میں نے
سنا نہیں ہوتا۔ اپنے بہت سے دوستوں کی طرح میں مجھے رومانوی شاعری پسند
ہے۔ ہم شاعری کے بارے میں بہت جذباتی ہیں کیونکہ ہم نوعمر ہیں۔
کارمن کا اپنے استاد سے رشتہ کلاس روم سے
باہر تک پھیلا ہوا ہے۔ ان کے درمیان دوستی قائم ہوچکی ہے۔ گرل رائٹ ،
تنظیم کی بانی نس بام کا کہنا ہے کہ بعض والدین بالخصوص تارکین وطن لکھنے
کے معاملے میں اپنے بچوں کی حوصلہ افزائی نہیں کرتے۔
وہ
کہتی ہیں اکثر والدین یہ چاہتے ہیں کہ ان کے بچے بزنس یا سائنس کے شعبے
میں جائیں جنہیں وہ زیادہ منافع بخش سمجھتے ہیں۔ چنانچہ ہماری تنظیم ادب کے شعبے میں کامیاب لوگوں کا ایک نیٹ ورک قائم کرنے کی کوشش کررہی ہے۔
کارمن کی تحریریں میں تلخی بھی ہے اور مٹھاس بھی مگر اس کا فن نکھر رہا ہے۔ شیلی کی نظموں کا موضوع اب نیویارک نہیں رہا کیونکہ وہ وہاں سے جاچکی ہے۔
گرلز
رائٹ پروگرام میں شامل ہو کر کارمن اپنی تحریروں پر کئی ایوارڈز جیت چکی
ہے۔ وہ کچھ عرصے بعد اپنی کالج کی زندگی شروع کرنے والی ہے۔
کارمن کا کہنا ہے کہ ایک روز اس کی شاعری کی کتاب شائع ہوگی جسے اس کی ٹیچر کی کتاب شائع ہوئی تھی۔ وہ گرلز رائٹ ناؤ پروگرام میں واپس جانا چاہتی ہے مگراس مرتبہ ایک استاد کی حیثیت سے۔