پاکستان کے
صوبہ سندھ کے صحرائی علاقے تھرپارکر کے ایک دور افتادہ حصے میں واقع نو دیہاتوں میں
زندگی کی رونقیں واپس لانے کے لیےایک غیر سرکاری تنظیم تھر دیپ ایک منفرد پراجیکٹ
پر کام کررہی ہے۔ اس پراجیکٹ کا مقصد ان
دور افتادہ دیہاتوں کو بجلی فراہم کرنا ہے۔ تھر دیپ واپڈا یا دیگر بیرونی ذرائع
سے بجلی حاصل کرنے کی بجائے مقامی طور پر سورج کی روشنی سے بجلی پیدا کررہی ہے۔
بھارت کی
سرحد کے قریب واقع اس صحرائی علاقے میں بارشیں بہت کم ہوتی ہیں اور مقامی آبادی
پانی کی تلاش میں نقل مکانی کرتی رہتی ہے۔
ان کی زندگی کا انحصار بارش کے پانی پر ہے۔ وہاں پر کھیتی باڑی بھی بارش سے ہی
وابستہ ہے۔
تھر دیپ کے
شمسی توانائی کے پراجیکٹ کا فوکس پانی کی فراہمی پر ہے اور شمسی توانائی سے حاصل
ہونے والی بجلی کو زیادہ تر زمین سے پانی نکالنے کے لیے استعمال میں لایا جارہا
ہے۔ اس پراجیکٹ کے باعث ان بستیوں کے مکین اپنے گھروں کو واپس لوٹ آئے ہیں اور
صحرا کے اس حصے میں اب ہریالی دکھانے دینے لگی ہے۔