Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

انگریزی کے مشہور ادیب جارج اورویل کی یادگار بہار میں قائم کی جائے گی


June 24, 2008

[insert caption here]
انگریزی کے مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک، جارج اورویل بھارت میں پیدا ہوئے تھے
انگریزی کے مشہور مصنف، صحافی ، ناول نگار اور طنز نگارجارج اورویل جن کا اصل نام ایرک آرتھر بلیئر تھا، 25 جون 1903ءکو شمالی بہار کے دور افتادہ علاقے موتیہاری میں پیدا ہوئے تھے، جہاں ان کے والد رچرڈ والمیسے بیلیر برطانوی حکومت کے آب کاری افسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔

 موتیہاری میں یہ تاریخی مکان اب بھی موجود ہے جو اپنی خستہ حالی پر نوحہ کناں ہے۔ 2003ءمیں جب جارج اورویل کی پیدائش کی صدی منائی جارہی تھی مقامی انتظامیہ نے اس مکان کو محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوسکا  اور  یہ مکان اب بھی ویسی ہی خستہ حالت میں موجود ہے۔

 لیکن اب لندن میں رہنے والے ایک انگریز پروفیسر کلائیو کولنز اور ان کی اہلیہ مونیکا کولنس نے تعاون کی پیش کش کی ہے تاکہ اس مکان کی جس میں انگریزی کے اس عظیم ادیب کی پیدائش ہوئی تھی کی مرمت  کی جاسکے۔ پروفیسر کولنز انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنی ذمےداریوں سے سبک دوش ہو چکے ہیں اور وہ اورویل کے زبردست مداح ہیں۔

 انہوں نے موتیہاری انتظامیہ کو لکھا ہے کہ وہ جارج اورویل کی جائے پیدائش موتیہاری میں مستقل یادگار قائم کرنے کے لیے ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔

جارج اورویل نے یوں تو ادیب اور صحافی کی حیثیت سے کافی کچھ لکھا مگر ان کا ناول 1984 اور 'اینیمل فارم' انگریزی ادب میں کلاسکس کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ دونوں ناول طنزیہ ہیں ۔ 1984 کو تو اس لحاظ سے بے حد اہمیت کا حاصل ہے کہ اپنی شاہکار تحریر میں اورویل نے 1984ء میں کمیونزم کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا جب کہ یہ ناول 1949ءمیں شائع ہوا تھا۔

 اورویل کی یہ پیش گوئی اس حد تک درست ثابت ہوئی کہ آٹھویں دہائی میں کمیونزم کا خاتمہ ہو گیا اور روس انتشار کا شکار ہو گیا اس لیے ان کی اس تحریر کو ماورائے عصر مانا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی معنویت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اس ناول کی اثرانگیزی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے اس میں برتی جانے والی کئی اصطلاحات انگریزی زبان کا حصہ بن گئی ہیں، جن میں 'بِگ برادر'، 'ڈبل سپیک' اور 'تھاٹ پولیس' وغیرہ شامل ہیں۔

 اس سے قبل 1945ء میں شائع شدہ ان کا تمثیلی شاہکار 'اینیمل فارم' ادبی حلقوں میں ہنگامہ خیز ثابت ہوا تھا۔ اس ناول کو بیسویں صدی کی عظیم دستاویز کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے اپنی اس تحریر میں جمہوری نظام کا مذاق اڑایا تھا اور جانوروں کی تمثیل کے ذریعہ جمہوریت کی خامیوں کو اجاگر کیا تھا۔

 ناول کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ ہر انقلاب اپنے ساتھ نت نئے وعدے اور روشن امیدیں لے کر آتا ہے لیکن رفتہ رفتہ بعض مفاد پسند عناصر انقلاب کو ہائی جیک کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اورانجامِ کار لوگوں کی قربانیاں بے کار چلی جاتی ہیں۔

 ان دونوں ناولوں پر کئی بار فلمیں بن چکی ہیں۔

 جارج اورویل کا اصل نام ایرک بلیئر تھا اور ان کی پیدائش بہار کے قصبے موتیہاری میں ہوئی تھی مگر وہ اپنی ماں لیموزین کے ہمراہ اس وقت لندن چلے گئے تھے جب ان کی عمر محض ایک سال تھی ۔ ان کے دادا ایک متمول زمیندار تھے انہوں نے لندن میں اورویل کی تعلیم کا معقول انتظام کیا ۔ ادب کا چسکا تعلیم کے دوران ہی لگ گیا تھا اور انہوں نے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں۔

 تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے انڈین سول سروس کو منتخب کیا اور ان کی تقرری امپیریل پولیس کے تحت برما (اب میانمار) میں ہوئی جہاں انہوں نے 1927ء تک کام کیا۔

لیکن اورویل ان پانچ برسوں کو تضیعِ اوقات کہہ کر 1928ء میں ملازمت سے استعفی دے دیا اور  آزادانہ صحافت کرنے کے لیے پیرس چلے گئے، مگر وہاں اورویل کو ناکامی ہی ہاتھ لگی کیونکہ ان کی طنزیہ تحریروں کو وہاں کے اخبارات و رسائل شائع کرنے کے روادار نہ تھے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔

محض ایک سال بعد پھر 1930ء میں لندن آ کر اورویل نے  نئے سرے سے زندگی کی شروعات کی۔ اس دوران  انہیں بے حد کلفت اور جدوجہد کے دور سے گزرنا پڑا ۔ ان کو اپنی زندگی کے وہ ایام بھیکاریوں، غنڈوں، چوروں ، بدمعاشوں اور شہدوں کے درمیان گزارنے پڑے اور انہی لوگوں کے ساتھ رہنا ، کھانا اور سونا پڑا۔

لیکن اس سے اورویل کو نئے تجربات حاصل ہوئے اورانھیں انسانی روح کو اس کی تمام خامیوں، کجیوں کے ساتھ رو بہ دیکھنے کا موقع حاصل ہوا۔ ان کو کچھ عرصہ تدریس کی ملازمت بھی ملی اور پھر ایک بک اسٹور میں ملازم ہو گئے اسی ملازمت کے دوران ان کی کتابوں کی اشاعت ہو سکی ۔

اورویل نے 1936ء میں ایلن سے شادی کی لیکن اس کے کچھ عرصے بعد ہی اسپین کی سول وار شروع ہو گئی جس میں حکومت کی حمایت میں اورویل ا ور ایلن دونوں نے عملی طور پر شرکت کی اورویل شدید طور پر زخمی ہو گئے اور اس کے بعد ہی ان کے دل میں کمیونسٹ نظام سے نفرت پیدا ہو گئی۔

1939ء میں وہ انگلینڈ واپس آگئے انہوں نے اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے اور کچھ عرصے تک بی بی سی میں بھی کام کیا ۔ 1949ء میں وہ ٹی بی کا شکار ہوئے اور 21جنوری 1950ء کو بے حد کس مپرسی کی حالت میں ان کی موت واقع ہو گئی۔

جارج اورویل کا جو سفر 25جون 1903ء کو بہار کے دور افتادہ ضلع موتیہاری سے شروع ہو ا تھا 21جنوری 1950ء کو محض 46سال کی عمر میں آکسفورڈ شائر انگلینڈ میں ختم ہو گیا۔

 اورویل نے بے حد جدوجہد بھری زندگی گزاری اور اپنے منفرد طرز اسلوب سے انگریزی ادب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس لیے موتیہاری کو بھی اپنے اس سپوت پر فخر ہے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر

  مزید خبریں
دلیپ کمار کی واپسی
کینیڈا میں 14اکتوبر کو نئے انتخابات کرانے کے لیے پارلیمنٹ توڑ دی گئی
نواز ،زرداری ملاقات، مسلم لیگ ن کی اتحاد میں شمولیت سے معذرت
قومی ہاکی ٹیم کی شرمناک کار کر دگی کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم
پاکستانی صدر کی تقریب حلف برداری میں حامد کرزئی بھی شرکت کریں گے
مسائل پر قابو پانے کے لیے نوازشریف کو ساتھ لے کر چلنا زرداری کے لیے ضروری ہے  Video clip available
نیوزیم کی نیوز ہسٹری گیلری  Video clip available
نو منتخب صدر آصف زرداری منگل کو حلف اٹھائیں گے
پاکستان میں یوایس ایڈ کا کردار  Video clip available
خدا بخش لائبریری میں فراز کے انتقال پر تعزیتی جلسہ
امریکی سفارت خانے کو  مشکوک لفافے موصول ہوئے ہیں
اگر پی سی بی کو ضرورت نہ ہو تو وطن واپس جانے کے لیے تیار ہوں: جیف لاسن
پشاور کے نواح میں ہونے والے خود کش حملے میں ہلاک شدگان 33 ہوگئی
جارجیا کے بحران پر یورپ اور امریکہ کو متحد ہونے کی ضرورت ہے: وزیر خارجہ اٹلی
مسلمانوں کا امریکہ: مسلمان خواتین ۔۔۔ چوتھی قسط: تیسرا حصہ  Video clip available
Muslims’ America: Women in Islam … Episode 4, Part 3  Video clip available
ہری کین آئیک سے بہاماز،کیوبا اور امریکی خلیجی ساحل کو خطرہ
اسرائیل کا مغربی کنارے سے یہودی بستیاں ختم کرنے پر غور
دارفر میں باغیوں کے ٹھکانوں پر سوڈانی فوج کے حملے
مصر میں چٹان پھسلنے سے 30 افراد ہلاک 
انگولا کے پارلیمانی انتخابات میں حکمران جماعت جیت رہی ہے
بھارتی کنٹرول کے کشمیر میں پولیس اور مظاہرین میں جھڑپیں
ایران  میں پیر سے تین روزہ  جنگی مشقیں 
افغانستان میں پولیس ہیڈ کواٹرز پر خود کش حملے میں چھ افراد ہلاک
پاکستان کے نو منتخب صدر کے بارے میں ردِّ عمل؛  توقعات، امیدیں اور خدشات
ایوانِ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن قائم کرنا اَوّلین ترجیح ہوگی: نو منتخب صدر زرداری
وکلاء کا احتجاج، پولیس کا لاٹھی چارج  Video clip available
صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیئےری پبلیکن پارٹی کا نیشنل کنونشن  Video clip available
ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار سارہ پالین  Video clip available
بھارت میں کئی کال سینٹرز نابینا افراد کو روزگار فراہم کررہے ہیں  Video clip available