![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/george-orwell1.jpg) |
انگریزی کے مقبول ترین ادیبوں میں سے ایک، جارج اورویل بھارت میں پیدا ہوئے تھے
|
انگریزی
کے مشہور مصنف، صحافی ، ناول نگار اور طنز نگارجارج اورویل جن کا اصل نام ایرک
آرتھر بلیئر تھا، 25 جون 1903ءکو
شمالی بہار کے دور افتادہ علاقے موتیہاری میں پیدا ہوئے تھے، جہاں ان کے والد رچرڈ والمیسے بیلیر برطانوی حکومت کے آب کاری
افسر کی حیثیت سے تعینات تھے۔
موتیہاری
میں یہ تاریخی مکان اب بھی موجود ہے جو اپنی خستہ حالی پر نوحہ کناں ہے۔ 2003ءمیں
جب جارج اورویل کی پیدائش کی صدی منائی جارہی تھی مقامی انتظامیہ نے اس مکان کو
محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اس پر عمل نہیں ہوسکا اور یہ
مکان اب بھی ویسی ہی خستہ حالت میں موجود ہے۔
لیکن اب لندن میں رہنے والے ایک انگریز پروفیسر
کلائیو کولنز اور ان کی اہلیہ مونیکا کولنس نے تعاون کی پیش کش کی
ہے تاکہ اس مکان کی جس میں انگریزی کے اس عظیم ادیب کی پیدائش ہوئی تھی کی مرمت کی جاسکے۔ پروفیسر کولنز
انگریزی کے پروفیسر کی حیثیت سے اپنی ذمےداریوں سے سبک دوش
ہو چکے ہیں اور وہ اورویل کے زبردست مداح
ہیں۔
انہوں نے موتیہاری انتظامیہ کو لکھا ہے کہ وہ
جارج اورویل کی جائے پیدائش موتیہاری میں مستقل یادگار قائم کرنے کے لیے
ہر طرح کے تعاون کے لیے تیار ہیں۔
جارج
اورویل نے یوں تو ادیب اور صحافی کی حیثیت سے کافی کچھ لکھا مگر ان کا ناول 1984
اور 'اینیمل فارم' انگریزی ادب میں
کلاسکس کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ یہ دونوں ناول طنزیہ ہیں ۔ 1984 کو تو اس لحاظ
سے بے حد اہمیت کا حاصل ہے کہ اپنی شاہکار تحریر میں اورویل نے 1984ء میں کمیونزم کے اختتام کا اعلان کر دیا تھا جب کہ یہ ناول 1949ءمیں شائع ہوا تھا۔
اورویل کی یہ پیش گوئی اس حد تک درست ثابت ہوئی
کہ آٹھویں دہائی میں کمیونزم کا خاتمہ ہو گیا اور روس انتشار کا شکار ہو گیا اس لیے
ان کی اس تحریر کو ماورائے عصر مانا جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی
معنویت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔
اس ناول کی اثرانگیزی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا
سکتا ہے اس میں برتی جانے والی کئی
اصطلاحات انگریزی زبان کا حصہ بن گئی ہیں، جن میں 'بِگ برادر'، 'ڈبل سپیک' اور
'تھاٹ پولیس' وغیرہ شامل ہیں۔
اس سے قبل 1945ء میں شائع شدہ ان کا تمثیلی
شاہکار 'اینیمل فارم' ادبی حلقوں میں
ہنگامہ خیز ثابت ہوا تھا۔ اس ناول کو بیسویں صدی کی عظیم دستاویز کہا جاتا ہے
کیونکہ انہوں نے اپنی اس تحریر میں جمہوری نظام کا مذاق اڑایا تھا اور
جانوروں کی تمثیل کے ذریعہ جمہوریت کی خامیوں کو اجاگر کیا تھا۔
ناول کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ ہر انقلاب اپنے ساتھ نت نئے
وعدے اور روشن امیدیں لے کر آتا ہے لیکن رفتہ رفتہ بعض مفاد پسند عناصر انقلاب کو
ہائی جیک کر کے اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں اورانجامِ کار لوگوں کی
قربانیاں بے کار چلی جاتی ہیں۔
ان دونوں ناولوں پر کئی بار فلمیں بن چکی ہیں۔
جارج
اورویل کا اصل نام ایرک بلیئر تھا اور ان کی پیدائش بہار کے قصبے موتیہاری میں ہوئی تھی مگر وہ اپنی ماں لیموزین کے ہمراہ اس وقت لندن چلے
گئے تھے جب ان کی عمر محض ایک سال تھی ۔ ان کے دادا ایک متمول زمیندار تھے انہوں
نے لندن میں اورویل کی تعلیم کا معقول انتظام کیا ۔ ادب کا چسکا تعلیم کے دوران ہی
لگ گیا تھا اور انہوں نے کہانیاں لکھنی شروع کر دی تھیں۔
تعلیم کے حصول کے بعد انہوں نے انڈین سول سروس
کو منتخب کیا اور ان کی تقرری امپیریل پولیس کے تحت برما (اب میانمار) میں ہوئی
جہاں انہوں نے 1927ء تک کام کیا۔
لیکن اورویل ان پانچ برسوں کو تضیعِ
اوقات کہہ کر 1928ء میں ملازمت سے استعفی دے دیا اور آزادانہ صحافت کرنے کے لیے
پیرس چلے گئے، مگر وہاں اورویل کو ناکامی ہی ہاتھ لگی کیونکہ ان کی
طنزیہ تحریروں کو وہاں کے اخبارات و رسائل شائع کرنے کے روادار نہ تھے۔ یہاں تک کہ فاقہ کشی کی نوبت آگئی۔
محض ایک سال بعد پھر 1930ء میں لندن آ کر اورویل نے نئے سرے سے زندگی کی شروعات کی۔ اس دوران انہیں بے حد کلفت اور جدوجہد کے
دور سے گزرنا پڑا ۔ ان کو اپنی زندگی کے وہ ایام بھیکاریوں، غنڈوں، چوروں ،
بدمعاشوں اور شہدوں کے درمیان گزارنے پڑے اور انہی لوگوں کے
ساتھ رہنا ، کھانا اور سونا پڑا۔
لیکن اس سے اورویل کو نئے تجربات حاصل ہوئے اورانھیں انسانی روح کو اس کی تمام خامیوں، کجیوں کے ساتھ رو بہ دیکھنے کا موقع حاصل
ہوا۔
ان کو کچھ عرصہ تدریس کی ملازمت بھی ملی اور پھر ایک بک اسٹور میں ملازم ہو گئے
اسی ملازمت کے دوران ان کی کتابوں کی اشاعت ہو سکی ۔
اورویل
نے 1936ء میں ایلن سے شادی کی لیکن اس کے کچھ عرصے بعد ہی اسپین کی سول وار شروع
ہو گئی جس میں حکومت کی حمایت میں اورویل ا ور ایلن دونوں نے عملی طور پر شرکت کی
اورویل شدید طور پر زخمی ہو گئے اور اس کے بعد ہی ان کے دل میں کمیونسٹ نظام سے
نفرت پیدا ہو گئی۔
1939ء
میں وہ انگلینڈ واپس آگئے انہوں نے اخبارات میں مضامین لکھنے شروع کیے
اور کچھ عرصے تک بی بی سی میں بھی کام کیا ۔ 1949ء میں وہ ٹی بی کا شکار ہوئے اور
21جنوری 1950ء کو بے حد کس مپرسی کی حالت میں ان کی موت واقع ہو گئی۔
جارج
اورویل کا جو سفر 25جون 1903ء کو بہار کے دور افتادہ ضلع موتیہاری سے شروع ہو ا
تھا 21جنوری 1950ء کو محض 46سال کی عمر میں آکسفورڈ شائر انگلینڈ میں ختم ہو گیا۔
اورویل نے بے حد جدوجہد بھری زندگی گزاری اور
اپنے منفرد طرز اسلوب سے انگریزی ادب پر گہرے نقوش چھوڑے۔ اس لیے
موتیہاری کو بھی اپنے اس سپوت پر فخر ہے۔