واشنگٹن ڈی
سی میں دنیا کے اکثر ملکوں کے سفارت خانے موجود ہیں۔ ان میں سے کئی سفارت خانوں کی
عمارتیں ضروری دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے خستہ حال ہوچکی ہیں۔ علاقے کے مکین ان قدیم اور تاریخی عمارتوں کو
اپنے اصل رنگ و روپ میں قائم رکھنے کے لیے فوری اقدام کے خواہاں ہیں۔
واشنگٹن ڈی
سی کے جس علاقے میں زیادہ تر غیر ملکی سفارت خانے موجود ہیں ، اسے شہر کا ایک
متمول علاقہ تصور کیا جاتا ہے۔ متوازی چلنے والی دو سڑکوں پر غیر ملکی سفارت خانے
اور دیگر رہائشی عمارتیں موجود ہیں ۔ ان میں سے اکثر عمارتیں سو سال سے زیادہ
پرانی ہیں۔
اس علاقے کے
ایک مکین ہیلی گن کہتے ہیں کہ ان میں سے اکثر عمارتوں کی حالت بہت خستہ ہے اور
باہر سے جوعمارتیں بہتر دکھائی دیتی ہیں ، اگر ان کے اندر جائیں تو پتہ چلتا ہے کہ
وہ بھی بہت بری حالت میں ہیں ۔ان کی کھڑکیاں اور دروازے زنگ آلود ہوچکے ہیں۔
کئی عمارتوں
میں پرندوں اور کیڑے مکوڑوں نے ڈیرے جمارکھے ہیں۔عمارتوں کی خستہ حالی کے بارے میں
شہریوں کا کہنا ہے کہ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اکثر سفارت خانے دوسرے علاقوں میں
اپنی نئی عمارتوں میں منتقل ہوچکے ہیں۔ وہ اب اپنی پرانی عمارتوں کے بارے میں فکر
مند نہیں ہیں اور انہیں اس کی کوئی پروا نہیں ہے کہ پرانی عمارت رفتہ رفتہ خستگی
کا شکار ہورہی ہے۔
اس علاقے میں
پاکستانی سفارت خانے کی پرانی عمارت بھی موجود ہے ۔ وہ بھی دوسری ہی عمارتوں کی
طرح خستہ ہوچکی ہے۔
راب ہیلی گن
کا کہنا ہے کہ خستہ عمارتوں کی وجہ سے اس علاقےمیں رہنے والے امریکیوں میں بہت غصہ
اور اشتعال پایا جاتا ہے کیونکہ سفارت خانوں کی خستہ حال عمارتوں کی وجہ سے ان کے
مکانوں کی قیمتیں گررہی ہیں۔ کیونکہ خریدار اس علاقے کو ترجیج دیتے ہیں
جہاں اردگرد کا ماحول اچھا ہو۔