![[insert caption here] [insert caption here]](/urdu/images/Josh-Malihabadi.jpg) |
جوش ملیح آبادی
|
گذشتہ ہفتہ لکھنئو میں شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی کی
ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل کلیات کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ اس کو ڈاکٹر عصمت ملیح
آبادی نے مرتب کیا ہے۔ عصمت ملیح آبادی کا تعلق جوش کے خانوادے سے ہے اور انہوں نے
جوش کی رومانی شاعری پر تحقیقی مقالہ لکھ کر لکھنئو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی
ڈگری حاصل کی تھی۔
کلیاتِ جوش ملیح
آبادی میں ان کے تمام 15 شعری مجموعوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔
بلاشبہ جوش ایک صاحب طرز اور قادر الکلام شاعر تھے۔ انہوں
نے نصف صدی تک ادبی کائنات پر حکومت کی تھی۔ مگر اپنی افتاد ِطبع اورسرگذشت 'یادوں
کی برات' کی اشاعت کے بعد ان کی شخصیت بے حد متنازعہ ہو گئی۔
مگر اس کے سبب ان
کے شعری سرمائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اردو ادب کا قابل فخر سرمایہ ہے جوش کے ہم
عصروں میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور حفیظ جالندھری جیسی نابغہٴ روزگار
شخصیتیں تھیں، اس کے باوجود جوش نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ جہاں پاکستان
میں راغب مرادابادی، خورشید علی خاں اور محمد علی صدیقی نے ان کے فن پر کام کرکے
جوش شناسی کی فضا پیدا کی وہیں بھارت میں ان پر قابل ذکر کام نہیں ہو سکا۔
جامعات میں جو
تحقیقی کام ہوا وہ اعلی درجے کا نہیں ہے اس کے علاوہ اردو اکادمیوں اور دوسرے اردو
اداروں نے بھی جوش شناسی میں کوئی پہل نہیں کی۔
گذشتہ ماہ غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی میں جو ش کے پیدائش کے
ایک سو دس سال مکمل ہونے پر ایک عالمی جوش سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا، مگر اس
کے ذریعہ بھی ادبی فضا میں ہلچل پیدا نہیں ہو سکی۔
ڈاکٹرعصمت ملیح
آبادی کی مرتب کردہ کلیات کے اجرا کے موقع پر لکھنئو میں منعقدہ جلسے میں اظہارِ
خیال کرتے ہوئے پروفیسر شارب ردولوی نے کہا ' یہ المیہ ہے کہ جوش جیسے عبقری شاعر
کو اتنے کم عرصے میں فراموش کر دیا گیا۔ حالانکہ ابھی ان کے انتقال کو ربع صدی ہی
گزری ہے مگر اس درمیان ان پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ اس عرصے میں جوش شناسی
کی روایت کو مستحکم ہونا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اب بھی اردو
اداروں کو اس جانب توجہ کرنی چاہیئے، کیونکہ جوش ماورائے عصر شاعر ہیں۔'
جلسے کی
صدارت بزرگ شاعر اور ناقد ملک زادہ منظور
احمد نے کی۔ انھوں نےجوش کے سلسلے میں اپنے ذاتی تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ' وہ صرف اور صرف ایک شاعر تھے، ادبی سیاست
کے داؤ پیچ سے ان کی واقفیت نہیں تھی۔ شاید یہی ان کی ناکامیابی کا سبب ہے ورنہ
قدرت نے انہیں جو صلاحیتیں ودیعت کی تھیں وہ ان کو ممتاز و ممیز بناتی
ہیں۔ وہ یقینا اپنے عہد کے باکمال شاعر تھے۔ عظیم مفکر اور زبان و بیان کے قافلہ
سالار تھے۔'
جوش کے 15 شعری مجموعے شائع ہوئے تھے ان میں بیشتر اب بازار
میں دستیاب نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے کئی جامعات کے نصاب میں شامل ہیں ان کی
تلاش میں طلبہ کو لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ایسے میں عصمت ملیح آبادی کے
ذریعہ کلیات کی اشاعت احسن قدم ہے۔
المیہ یہ ہے کہ جوش نے محض نو برس کی عمر میں یہ شعر کہا
تھا:
شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فنِ
خاندانی ہے
لیکن حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ شاعری جوش کو راس
نہیں آئی کیونکہ اپنی افتاد طبع کے سبب ان کو زندگی میں بہت تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔
ساری زندگی انہیں یہی گلہ رہا کہ ان کے فن کا شایانِ شان اعتراف نہیں کیا گیا۔
افسوس کا مقام ہے کہ مرنے کے بعد بھی جوش کو اب تک وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کے
وہ مستحق تھے۔