Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

جوش ملیح آبادی کی یاد میں


June 25, 2008

[insert caption here]
جوش ملیح آبادی
گذشتہ ہفتہ لکھنئو میں شبیر حسین خان جوش ملیح آبادی کی ڈیڑھ ہزار صفحات پر مشتمل کلیات کی تقریبِ رونمائی ہوئی۔ اس کو ڈاکٹر عصمت ملیح آبادی نے مرتب کیا ہے۔ عصمت ملیح آبادی کا تعلق جوش کے خانوادے سے ہے اور انہوں نے جوش کی رومانی شاعری پر تحقیقی مقالہ لکھ کر لکھنئو یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھی۔

 کلیاتِ جوش ملیح آبادی میں ان کے تمام 15 شعری مجموعوں کو یکجا کر دیا گیا ہے۔

 بلاشبہ جوش ایک صاحب طرز اور قادر الکلام شاعر تھے۔ انہوں نے نصف صدی تک ادبی کائنات پر حکومت کی تھی۔ مگر اپنی افتاد ِطبع اورسرگذشت 'یادوں کی برات' کی اشاعت کے بعد ان کی شخصیت بے حد متنازعہ ہو گئی۔

 مگر اس کے سبب ان کے شعری سرمائے کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کیونکہ یہ اردو ادب کا قابل فخر سرمایہ ہے جوش کے ہم عصروں میں علامہ اقبال، فیض احمد فیض اور حفیظ جالندھری جیسی نابغہٴ روزگار شخصیتیں تھیں، اس کے باوجود جوش نے اپنی انفرادیت کا لوہا منوایا۔ جہاں پاکستان میں راغب مرادابادی، خورشید علی خاں اور محمد علی صدیقی نے ان کے فن پر کام کرکے جوش شناسی کی فضا پیدا کی وہیں بھارت میں ان پر قابل ذکر کام نہیں ہو سکا۔

 جامعات میں جو تحقیقی کام ہوا وہ اعلی درجے کا نہیں ہے اس کے علاوہ اردو اکادمیوں اور دوسرے اردو اداروں نے بھی جوش شناسی میں کوئی پہل نہیں کی۔

گذشتہ ماہ غالب انسٹی ٹیوٹ نئی دہلی میں جو ش کے پیدائش کے ایک سو دس سال مکمل ہونے پر ایک عالمی جوش سمینار کا انعقاد کیا گیا تھا، مگر اس کے ذریعہ بھی ادبی فضا میں ہلچل پیدا نہیں ہو سکی۔

 ڈاکٹرعصمت ملیح آبادی کی مرتب کردہ کلیات کے اجرا کے موقع پر لکھنئو میں منعقدہ جلسے میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے پروفیسر شارب ردولوی نے کہا ' یہ المیہ ہے کہ جوش جیسے عبقری شاعر کو اتنے کم عرصے میں فراموش کر دیا گیا۔ حالانکہ ابھی ان کے انتقال کو ربع صدی ہی گزری ہے مگر اس درمیان ان پر کوئی قابل ذکر کام نہیں ہوا۔ اس عرصے میں جوش شناسی کی روایت کو مستحکم ہونا چاہئے تھا مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہو سکا اب بھی اردو اداروں کو اس جانب توجہ کرنی چاہیئے، کیونکہ جوش ماورائے عصر شاعر ہیں۔'

 جلسے کی صدارت  بزرگ شاعر اور ناقد ملک زادہ منظور احمد نے کی۔ انھوں نےجوش کے سلسلے میں اپنے ذاتی تاثرات بیان کرتے ہوئے  کہا کہ' وہ صرف اور صرف ایک شاعر تھے، ادبی سیاست کے داؤ پیچ سے ان کی واقفیت نہیں تھی۔ شاید یہی ان کی ناکامیابی کا سبب ہے ورنہ قدرت نے انہیں جو صلاحیتیں ودیعت کی تھیں وہ ان کو ممتاز و ممیز بناتی ہیں۔ وہ یقینا اپنے عہد کے باکمال شاعر تھے۔ عظیم مفکر اور زبان و بیان کے قافلہ سالار تھے۔'

 جوش کے 15 شعری مجموعے شائع ہوئے تھے ان میں بیشتر اب بازار میں دستیاب نہیں ہیں حالانکہ ان میں سے کئی جامعات کے نصاب میں شامل ہیں ان کی تلاش میں طلبہ کو لائبریریوں کی خاک چھاننی پڑتی ہے ایسے میں عصمت ملیح آبادی کے ذریعہ کلیات کی اشاعت احسن قدم ہے۔

 المیہ یہ ہے کہ جوش نے محض نو برس کی عمر میں یہ شعر کہا تھا:

 شاعری کیوں نہ راس آئے مجھے
یہ مرا فنِ خاندانی ہے

لیکن حالات تو یہی بتاتے ہیں کہ شاعری جوش کو راس نہیں آئی کیونکہ اپنی افتاد طبع کے سبب ان کو زندگی میں بہت تکلیفیں اُٹھانی پڑیں۔ ساری زندگی انہیں یہی گلہ رہا کہ ان کے فن کا شایانِ شان اعتراف نہیں کیا گیا۔ افسوس کا مقام ہے کہ مرنے کے بعد بھی جوش کو اب تک وہ مقام نہیں مل سکا ہے جس کے وہ مستحق تھے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا

  مزید خبریں
”طالبان کے خلاف جنگ نہ جیتنے کا تاثر غلط“
ٰISIکے نامزد سربراہ بند کمرے میں اراکین پارلیمان کو بریفنگ دیں گے
بھارتی کشمیر میں کرفیوختم، زندگی معمول پر آ گئی
جماعت اسلامی احتجاجی ٹرین مارچ
بھکر خود کش حملے کی تحقیقات جاری
امریکی معیشت دوسرے صدارتی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے  Video clip available
پاک امریکہ کشدیدگی کا فائدہ القاعدہ کو ہوگا: امریکی تھنک ٹینکس  Video clip available
امریکی آٹو انڈسٹری بھی بحران کی لپیٹ میں،ستمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 27 فی صد کمی   Video clip available
زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
صدارتی انتخابات میں چار ہفتے باقی: انتخابی مہم میں گہما گہمی
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
ترک فضائیہ کا شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر حملہ
بہار کے سیلاب زدگان کی عید
ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
مالی مشکلات کے پیشِ نظر، پاکستان کی  ریٹنگ میں کمی
مصری پولیس نے غزہ کی پٹی میں طبی سامان لے جانے سے روک دیا
کرغزستان میں زلزلے سے 60 افراد ہلاک
2008 کا نوبیل انعام تین یورپی سائنس دانوں نے حاصل کرلیا
عالمی عدالت کے استغاثہ کی جانب سے یوگنڈا کے باغیوں کی گرفتاری کی اپیل
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک