برما میں فوج
حکومت کے جبر اورسختیوں سے تنگ آکر ہزاورں افرادبرما اور تھائی لینڈ کی سرحد پر
واقع جنگلوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ڈاکٹر سنتھیا مانگ میں بھی ان میں شامل ہیں۔
ڈاکٹر مانگ نے اپنا وقت پناہ گزینوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے وقف
کررکھا ہے۔دنیا بھر ان کی خدمات ،جذبے اور لگن کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
برما چھوڑ نے
والے زیادہ تر افراد کاتعلق برما کی جنگ
زدہ ریاست کیرن سے ہے۔ ان میں سے اکثر
پیدل طویل سفر کر کے اور کئی بہت مشکلوں
سے گذر کر اس محفوظ مقام پر پہنچتے ہیں ۔ برما کے ہزاروں بیمار اور معذور پناہ
گزینوں کے لیے ڈاکٹر سنتھیا مونگ کا کلینک ایک عافیت گاہ ہے۔ ڈاکٹر مونگ اپنے
کلینک مائے تاؤ کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہاں ان کے رضاکار روزانہ زندگیاں بچاتے ہیں۔
ان کا کہنا
ہے کہ میں پہلے ایک رضاکار گروپ میں شامل ہوئی اور پھر جب فوج اقتدار میں آئی اور
لوگ غائب ہونا یا لاپتہ ہونا یاسرحد پار فرار ہونا شروع ہوئے تو میں نے بھی یہ
فیصلہ کیا کہ میں سرحد پر جاؤں اور سیاسی تبدیلی کے لیے جدوجہد کو جاری رکھوں۔
ڈاکٹر مونگ
1988 میں اس وقت برما سے فرار ہوئیں جب فوجی حکومت نےجمہوریت اور سماجی انصاف کا
مطالبہ کرنے والی ایک مقبول تحریک کو کچلا ۔برما کی فوجی حکومت مونگ کو ایک دہشت
گرد اور باغی سمجھتی ہے اور وہ ہزاورں افراد جن کی وہ مدد کرتی ہیں، وہ انہیں ایک
مسیحا سمجھتے ہیں۔
انہوں نے کئی
برس پہلے دوکمروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے
کلینک میں سرجری اور میٹرنٹی کا کام شروع
کیا جہاں وہ اپنے آلات جراحی کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے ایک رائس ککر استعمال
کیا کرتی تھیں۔
ڈاکٹر مانگ
کے ساتھیوں کا کہناہے کہ ان کے جذبے اور لگن کی وجہ سے کلینک
کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور ان کے ساتھ کام کرنے والے کارکن ایک دوسرے کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے
کلینک کے ساتھ ایک تربیتی مرکز بھی قائم کررکھا ہے کہ کئی موقعوں پراس مرکز میں
شادی بیاہ کی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔
ڈاکٹر مونگ
کلینک کے قریب ایک معمولی سے گھر میں رہتی
ہیں۔وہ پناہ گزینوں کے ساتھ مشکل حالات میں رہنے کی بجائے برسوں پہلے یورپ جاکر بڑی تنخواہ حاصل کرسکتی تھیں اورپر آسائش زندگی گذار سکتی تھیں مگرانہوں نے یہاں ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے
فیصلہ کیا۔
ڈاکٹر مونگ کہتی
ہیں کہ یہاں رہتے ہوئے ہم نہ صرف بیماریوں کا علاج کرسکتے ہیں بلکہ ان نوجوانوں کو
تربیت بھی دے سکتے ہیں جو واپس جاکر اپنی کمیونٹی میں خدمات انجام دینا چاہتے
ہیں اور جو اپنے دیہاتوں میں صحت کی دیکھ
بھال کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔
وہ اور ان کے
طبی عملے کے نوجوان رضاکار روزانہ سخت گرمی میں کام کرتے ہیں اور ہرسال ڈیڑھ لاکھ
لوگوں کا علاج کرتے ہیں جن میں بارودی سرنگ سے زخمی ہونے والوں سے لے کر پیٹ کے
امراض میں مبتلاافرادشامل ہوتے ہیں۔
امریکہ سمیت
غیرملکی حکومتیں اور بین الاقوامی امدادی ادارے انہیں کچھ امداد فراہم کرتے
ہیں ڈاکٹر مونگ کی شہرت یہ ہے کہ وہ
صرف ان مریضوں سے علاج معالجے کے لیے پیسے لیتی ہیں جو اس کی استعداد رکھتے ہیں
اور ا ان کا علاج بھی ایک ڈالر سے کم میں ہوجاتا ہے۔
وہ جن
رضاکاروں کو طبی تربیت دیتی ہیں وہ ریاست کیرن اور تھائی لینڈ کی سرحد کے برما کے
الگ تھلگ علاقوں میں کام کرتے ہیں۔
ڈاکٹر مانگ
کہتی ہیں کہ ہمیں ان نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ خود کو مجبور اور بے کس نہ سمجھیں بلکہ وہ خود ایسے لوگ سمجھیں جو
تبدیلی لاسکتے ہیں یا جو صورت حال کو بہتر بناسکتے ہیں۔
اپنے اس سفر
میں اب ڈاکٹر مانگ اکیلی نہیں ہیں ۔ اب سینکڑروں رضاکار ان کے ساتھ ہیں جو ان کے
تصور کو ساتھ لے کر دکھی انسانیت کی خدمات کررہے ہیں۔