Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

ڈاکٹر مانگ ، برمی پناہ گزینوں کے لیے ایک مسیحا کا درجہ رکھتی ہیں


June 27, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Cyclone-affected children line up in the rain clutching bads of food handed out in the Shwepoukkan area of Rangoon, 25 May 2008

برما میں فوج حکومت کے جبر اورسختیوں سے تنگ آکر ہزاورں افرادبرما اور تھائی لینڈ کی سرحد پر واقع جنگلوں میں پناہ لے رکھی ہے۔ ڈاکٹر سنتھیا مانگ میں بھی ان میں شامل ہیں۔ ڈاکٹر مانگ نے اپنا وقت پناہ گزینوں کو صحت کی سہولتوں کی فراہمی کے لیے وقف کررکھا ہے۔دنیا بھر ان کی خدمات ،جذبے اور لگن کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔

برما چھوڑ نے والے زیادہ تر افراد کاتعلق برما کی جنگ زدہ ریاست کیرن سے ہے۔ ان میں سے اکثر پیدل طویل سفر کر کے اور کئی بہت مشکلوں سے گذر کر اس محفوظ مقام پر پہنچتے ہیں ۔ برما کے ہزاروں بیمار اور معذور پناہ گزینوں کے لیے ڈاکٹر سنتھیا مونگ کا کلینک ایک عافیت گاہ ہے۔ ڈاکٹر مونگ اپنے کلینک مائے تاؤ کے بارے میں کہتی ہیں کہ یہاں ان کے رضاکار روزانہ زندگیاں بچاتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ میں پہلے ایک رضاکار گروپ میں شامل ہوئی اور پھر جب فوج اقتدار میں آئی اور لوگ غائب ہونا یا لاپتہ ہونا یاسرحد پار فرار ہونا شروع ہوئے تو میں نے بھی یہ فیصلہ کیا کہ میں سرحد پر جاؤں اور سیاسی تبدیلی کے لیے جدوجہد کو جاری رکھوں۔

ڈاکٹر مونگ 1988 میں اس وقت برما سے فرار ہوئیں جب فوجی حکومت نےجمہوریت اور سماجی انصاف کا مطالبہ کرنے والی ایک مقبول تحریک کو کچلا ۔برما کی فوجی حکومت مونگ کو ایک دہشت گرد اور باغی سمجھتی ہے اور وہ ہزاورں افراد جن کی وہ مدد کرتی ہیں، وہ انہیں ایک مسیحا سمجھتے ہیں۔

انہوں نے کئی برس پہلے دوکمروں پر مشتمل ایک چھوٹے سے کلینک میں سرجری اور میٹرنٹی کا کام شروع کیا جہاں وہ اپنے آلات جراحی کو جراثیم سے پاک کرنے کے لیے ایک رائس ککر استعمال کیا کرتی تھیں۔

ڈاکٹر مانگ کے ساتھیوں کا کہناہے کہ ان کے جذبے اور لگن کی وجہ سے کلینک کی اہمیت میں بہت اضافہ ہوا ہے اور ان کے ساتھ کام کرنے والے کارکن ایک دوسرے کو اپنے گھر کا فرد سمجھتے ہیں ۔ انہوں نے کلینک کے ساتھ ایک تربیتی مرکز بھی قائم کررکھا ہے کہ کئی موقعوں پراس مرکز میں شادی بیاہ کی تقریبات بھی منعقد کی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر مونگ کلینک کے قریب ایک معمولی سے گھر میں رہتی ہیں۔وہ پناہ گزینوں کے ساتھ مشکل حالات میں رہنے کی بجائے برسوں پہلے یورپ جاکر بڑی تنخواہ حاصل کرسکتی تھیں اورپر آسائش زندگی گذار سکتی تھیں مگرانہوں نے یہاں ڈاکٹر کے طور پر کام کرنے فیصلہ کیا۔

ڈاکٹر مونگ کہتی ہیں کہ یہاں رہتے ہوئے ہم نہ صرف بیماریوں کا علاج کرسکتے ہیں بلکہ ان نوجوانوں کو تربیت بھی دے سکتے ہیں جو واپس جاکر اپنی کمیونٹی میں خدمات انجام دینا چاہتے ہیں اور جو اپنے دیہاتوں میں صحت کی دیکھ بھال کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں۔

وہ اور ان کے طبی عملے کے نوجوان رضاکار روزانہ سخت گرمی میں کام کرتے ہیں اور ہرسال ڈیڑھ لاکھ لوگوں کا علاج کرتے ہیں جن میں بارودی سرنگ سے زخمی ہونے والوں سے لے کر پیٹ کے امراض میں مبتلاافرادشامل ہوتے ہیں۔

امریکہ سمیت غیرملکی حکومتیں اور بین الاقوامی امدادی ادارے انہیں کچھ امداد فراہم کرتے ہیں ڈاکٹر مونگ کی شہرت یہ ہے کہ وہ صرف ان مریضوں سے علاج معالجے کے لیے پیسے لیتی ہیں جو اس کی استعداد رکھتے ہیں اور ا ان کا علاج بھی ایک ڈالر سے کم میں ہوجاتا ہے۔

وہ جن رضاکاروں کو طبی تربیت دیتی ہیں وہ ریاست کیرن اور تھائی لینڈ کی سرحد کے برما کے الگ تھلگ علاقوں میں کام کرتے ہیں۔

ڈاکٹر مانگ کہتی ہیں کہ ہمیں ان نوجوانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ وہ خود کو مجبور اور بے کس نہ سمجھیں بلکہ وہ خود ایسے لوگ سمجھیں جو تبدیلی لاسکتے ہیں یا جو صورت حال کو بہتر بناسکتے ہیں۔

اپنے اس سفر میں اب ڈاکٹر مانگ اکیلی نہیں ہیں ۔ اب سینکڑروں رضاکار ان کے ساتھ ہیں جو ان کے تصور کو ساتھ لے کر دکھی انسانیت کی خدمات کررہے ہیں۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
باجوڑایجنسی سے افغان مہاجرین کا انخلا

  مزید خبریں
”طالبان کے خلاف جنگ نہ جیتنے کا تاثر غلط“
ٰISIکے نامزد سربراہ بند کمرے میں اراکین پارلیمان کو بریفنگ دیں گے
بھارتی کشمیر میں کرفیوختم، زندگی معمول پر آ گئی
جماعت اسلامی احتجاجی ٹرین مارچ
بھکر خود کش حملے کی تحقیقات جاری
امریکی معیشت دوسرے صدارتی مباحثے کا ایک اہم موضوع بن سکتی ہے  Video clip available
پاک امریکہ کشدیدگی کا فائدہ القاعدہ کو ہوگا: امریکی تھنک ٹینکس  Video clip available
امریکی آٹو انڈسٹری بھی بحران کی لپیٹ میں،ستمبر میں گاڑیوں کی فروخت میں 27 فی صد کمی   Video clip available
زرداری بیان: کشمیر میں شدید مذمت، بھارتی حکومت کا خیر مقدم
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
صدارتی انتخابات میں چار ہفتے باقی: انتخابی مہم میں گہما گہمی
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
ترک فضائیہ کا شمالی عراق میں کرد ٹھکانوں پر حملہ
بہار کے سیلاب زدگان کی عید
ملائیشیا کے مقبول بلاگر کو الزام تراشی کے مقدمے کا سامنا
مالی مشکلات کے پیشِ نظر، پاکستان کی  ریٹنگ میں کمی
مصری پولیس نے غزہ کی پٹی میں طبی سامان لے جانے سے روک دیا
کرغزستان میں زلزلے سے 60 افراد ہلاک
2008 کا نوبیل انعام تین یورپی سائنس دانوں نے حاصل کرلیا
عالمی عدالت کے استغاثہ کی جانب سے یوگنڈا کے باغیوں کی گرفتاری کی اپیل
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک