امریکہ کے
مختلف شہروں میں اکثر غیر ملکی ٹیکسی اور لیموزین چلا کر اپنی روزی کماتے ہیں۔ ان
میں ایک بڑی تعداد پاکستانیوں کی بھی ہے۔
امریکی دارلحکومت واشنگٹن ڈی سی اور اس کے مضافات میں واقع ریاست ورجینیا اور میری
لینڈ کے شہروں میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں کی تعداد ہزاروں میں ہے۔
واشنگٹن ڈی
سی میں ٹیکسی چلانے والے پاکستانی فاروق خان کہتے ہیں کہ یہ کام نسبتاً آسان لیکن
بہت پرخطر ہے۔ ایک اچھا ڈرائیور ٹیکسی چلانے کا خصوصی لائسنس لے کر ٹیکسی چلاسکتا
ہے۔ اس میں فوراً ہی معاوضہ مل جاتا ہے اور وہ بھی نقدی کی صورت میں جو بہت اچھا
لگتا ہے۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ کا بہت خطرناک بھی ہے کیونکہ آپ اپنے ساتھ سفر
کرنے والے کو نہیں جانتے ۔ آپ کو یہ معلوم نہیں ہے کہ وہ ایک شریف شہری ہے یا ایک
خطرناک مجرم۔
واشنگٹن
کودنیا کے چند ایسے شہرو ں میں شمار کیا جاتا ہے جہاں جرائم کی شرح زیادہ ہے۔
فاروق خان کا کہنا ہے کہ ایک بار انہیں بھی مسافر بن کر ڈاکوؤں نے لوٹ لیا۔
ڈاکو تمام پونجی سمیٹ کر انہیں گولی مار کر ہلاک کرنا
چاہتے تھے مگر کوئی نیکی فاروق خان کے کام آگئی اور ڈاکونے ، جس نے اپنی ہینڈ گن
کی لبلبی پر انگلی رکھی ہوئی تھی، جانے کیا سوچ کر اس نے اپنا ارادہ بدل دیا اور
بندوق کی نالی نیچی کرتے ہوئے اندھیرے میں
گم ہوگیا۔
فاروق خان کو
امریکہ آئے ہوئے بیس سال سے اوپر ہوچکے ہیں۔انہوں نے یہاں دس سال اکیلے زندگی
گذاری اورپھر جب انہیں یہاں کی شہریت مل گئی تو انہوں نے اپنے بچوں کو امریکہ بلوا
لیا۔ ان کے بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں اور وہ انہیں ایک کامیاب شہری بنانے کی خواہش
رکھتے ہیں ۔