آج برصغیر بھر میں بھارتی فلمی موسیقی میں نت نئے تجربات کرنے اور مغربی دھنوں
اور مہارت سے استعمال کرنے کے لیے شہرت رکھنے والے موسیقار آر ڈی
برمن کی 70
ویں سالگرہ منائی جارہی ہے۔ ان کا انتقال 1994ء میں ہوا تھا۔
تیسری منزل، آندھی، شعلے، دیوار، کٹی پتنگ،آرادھنا اور پڑوسن جیسی کئی
فلموں میں لاجواب موسیقی دینے والے آرڈی برمن کی پیدائش 1939ء میں کولکتہ میں
ہوئی تھی۔ نو سال کی عمر سے ہی آر ڈی برمن نے موسیقی کے سُروں کو اِتنی اچھی طرح
سے سمجھ لیا کہ اُنھوں
نے لڑکپن میں ہی ایک دُھن تیار کر ڈالی۔ ابتدا میں کئی برسوں تک اپنے والد ایس ڈی برمن کے لیے
معاون کے طور پر کام کرنے اور استاد علی اکبر سے سرود بجانے کی تربیت لینےکے بعد1961ء میں آر ڈی برمن نے بطور موسیقار اپنی پہلی فلم 'چھوٹے نواب' سائن کی۔
پنچم کی پہلی ہٹ فلم 'تیسری منزل' تھی۔ اِس فلم کے نغموں نے
کامیابی کے تمام ریکارڈتوڑ دیے۔ اُس کے بعد
کامیابی نے ہر موڑ پر پنچم کے قدم چومے۔ بالی وڈ میں 300 سے زائد فلموں کے لیے دھن تیار
کرنے والے پنچم نے 18 فلموں میں بطور پلے بیک سنگر گانا گایا۔ فلم' شعلے' میں' محبوبہ او محبوبہ' نغمہ گانے کے لیے آر ڈی کو پلےبیک گلوکار کے زمرے میں
فلم فئیر ایوارڈکے لیے بھی نامزد کیا گیا۔
آر ڈی برمن کو اپنی زندگی میں جن تین فلموں کے لیے بہترین موسیقی تیار
کرنے کے لیے فلم
فئیر ایوارڈ ملا اُس میں وِدھو ونود چوپڑا کی فلم '1942 اے لو اسٹوری'بھی شامل ہے۔ آرڈی برمن کی موسیقی زمانے کی
قید سے آزاد ہے۔ جس کا ثبوت یہ ہے کہ وہ واحد موسیقار ہیں جن کے بنائے گانے آج بھی سب سے زیادہ ری مکس کیے جا رہے ہیں۔ یہی نہیں، بلکہ موسیقار جوڑی وشال شیکھر نے تو فلم
'جھنکار بیٹ' میں آر ڈی برمن کی
بےمثال خدمات کو خراج پیش کرتے ہوئے اُن کی دُھنوں کو اپنی فلم میں استعمال
کیا ۔ فلم 'دِل وِل پیار ویار' میں بھی آر ڈی کے گانوں
کو استعمال کیا گیا۔
پنچم نے اپنی زندگی میں دو شادیاں کیں۔ اُن کی دوسری شادی مشہور گلوکارہ آشابھوسلے سے ہوئی۔ آشا اور آر ڈی کی جوڑی
نے ایک ساتھ مل کر ہندی فلم انڈسٹری کو'دم مارو دم'، 'پیا تو اب تو آجا' ، 'چُرا لیا ہے تم نے' اور 'میرا سامان لوٹا دو ' جیسے کئی لافانی نغمے دیے۔