کانگریس کی جانب سے بھارت امریکہ معاہدے پر حکومت کو داؤ پر
لگانے کا اشارہ ملنے اور کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کی طرف سے اپنی جماعت کے
لیڈروں کو انتخابات کی تیاری کی ہدایت کے ایک دن بعد معاہدے کے کے مخالف بائیں
محاذ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی وقت حکومت کی حمایت سے دست کش ہو سکتے
ہیں۔
اتوار کے روز دہلی میں سی پی آئی پولٹ بیورو کے ہنگامی اجلاس میں موجودہ
سیاسی صورتِ حال پر غور کیا گیا۔ پولٹ بیورو معاہدے کے بارے میں پارٹی کے موقق کی
توثیق کرتے ہوئے اسے حکومت کی حمایت واپس لینے کا اختیار سونپ دیا۔
اجلاس کے بعد پارٹی کے جنرل سیکریٹری پرکاش کرات نے کہا کہ
اگر حکومت اب بھی اس نقصان دہ معاہدے پر پیش رفت کرتی ہے ، جس کو پارلیمنٹ کی
حمایت حاصل نہیں ہے تو سی۔پی۔ آئی (ایم) اور بایئں دھڑے کی جماعتیں اپنی حمایت
واپس لے سکتی ہیں۔
خیال رہے کہ پرکاش کرات نے دو روز قبل اس پورے بحران کا
ذمّہ دار ڈاکٹر من موہن سنگھ کی ضد کو قرار دیا تھا۔
جب کہ دوسری
طرف سونیا گاندھی اس کے لیے تیار نہیں کہ وزیر اعظم من موہن سنگھ کی ساکھ کو ذرا
بھی دھچکا لگے۔ وہ قبل از وقت انتخابات کا خطرہ تو مول لے سکتی ہیں لیکن وہ امریکہ
بھارت غیر فوجی جوہری معاہدے سے منحرف ہونے پر تیار نہیں۔