 |
شعیب اختر
|
فاسٹ باؤلر شعیب اختر نے پیر کے روز اپنی ڈیڑھ سالہ پابندی اور 70
لاکھ روپے جرمانے کے خلاف ہائی کورٹ میں رٹ پیٹیشن داخل کر دی ہے، جس کی سماعت کل
سے شروع ہوگی۔
یہ پابندی گذشتہ دنوں اپیلیٹ ٹربیونل نے شعیب اختر پر عائد کی تھی۔
شعیب اختر کی طرف سے اُس کے مؤکل عابد حسن منٹو نے لاہور ہائی کورٹ
میں پیٹیشن دائر کی جس میں استدعا کی گئی ہے کہ اپیلیٹ ٹربیونل کے فیصلے کو مسترد
کرتے ہوئے شعیب اختر کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت دی جائے۔
پیٹیشن کی سماعت منگل سے چیف جسٹس سید زاہد حسین کی عدالت میں ہوگی۔
عابد منٹو نے کہا کہ درخواست کے ساتھ ٹیلی ویژن انٹرویو اور اخباری
تراشے بھی نتھی کیے گئے ہیں جن میں بورڈ کے حکام نے ان کے مؤکل کے خلاف خیالات کا
اظہار کیا ہے۔
انھوں نے کہا کہ پیٹیشن دائر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بورڈ کی طرف سے جاری کردہ ضابطہٴ اخلاق کا
اطلاق صرف ان کھلاڑیوں پر ہوتا ہے جو باقاعدہ بورڈ کے کنٹریکٹ کھلاڑی ہوں۔ چوں کہ
شعیب بورڈ کے مستقل کنٹریکٹر نہیں ہیں، اس لیے ان کے خلاف جو بھی فیصلہ ہوا اس کا
طریقہٴ کار غلط تھا۔
منٹو نے تسلیم کیا کہ شعیب اختر
کو سماجی اور معاشرتی رہنمائی کی ضرورت ہے۔ انھوں نےکہا کہ شعیب کا تعلق ایک
چھوٹے سے گاؤں سے ہے اور وہ زیادہ ادب و آداب سے زیادہ واقف نہیں ہیں۔