 |
| رچرڈ باؤچر کی وزیراعظم گیلانی سے ملاقات |
جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے امریکہ کے اعلیٰ سفارتکار رچرڈ باؤچر چار روزہ دورے پر پیر کو اسلام آباد پہنچے جہاں انہوں نے پہلی باضابطہ ملاقات وزیراعظم یوسف رضاگیلانی سے کی ۔ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، علاقائی سلامتی کی صورتحال، انسداد دہشت گردی میں جاری تعاون سمیت اہم امور پر تبادلہ خیال کیاگیا۔
ادھر پیر کو امریکی کانگریس کے ایک پانچ رکنی وفد نے سینیٹر بینجمن کارڈن کی سربراہی میں صدر پرویز مشرف اور وزیراعظم گیلانی سے علیحدہ علیحدہ ملاقاتیں کیں جس کے بعد اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفد کے اراکین نے بتایا کہ انہوں نے پاکستانی قیادت کے ساتھ دوطرفہ سیاسی و اقتصادی تعلقات ، دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی بہتر کرنے کی کوششوں پر بات چیت کی۔
وفد کے اراکین کا کہنا تھا پاکستانی رہنماؤں نے انہیں یقین دلایا ہے کہ انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے حکومت ایک وسیع البنیاد پالیسی پر عمل پیرا ہے لیکن بوقت ضرورت انتہا پسندوں کے خلاف بھرپور فوجی کاروائی کی جائے گی۔ امریکی کانگریس کے وفد نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو روزگار مہیا کرنے ، صحت اور تعلیم کی بہتر سہولتیں فراہم کرنے سے انتہا پسندانہ اور دہشت گردانہ کاروائیوں کی حوصلہ شکنی میں مدد ملے گی۔
امریکی کانگریس کا وفد اور رچرڈ باؤچرایک ایسے وقت پاکستان آئے ہیں جب پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت نے سرحد کے قبائلی علاقوں میں مذہبی انتہا پسندوں کے خلاف مذاکرات کی پالیسی کو تبدیل کرکے کاروائی کا آغاز کررکھا ہے جو حکومت کے بقول امن و امان کی صورتحال خراب کرنے والے شرپسندوں کے خاتمے اور حکومت کی عملداری قائم کرنے کے لیے کیاجارہا ہے۔
وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے اپنی اتحادی صوبائی حکومت کی طرف سے شرپسندوں کے خلاف شروع کیے جانے والے آپریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ سوات میں لڑکیوں کے سکولوں کو دھماکوں سے تباہ کرنے اور لوگوں کو سرعام قتل کرنے کے واقعات کے علاوہ پشاور میں کی جانے والی شدت پسند کاروائیوں کے بعد حکومت کے پاس ان عناصر کے خلاف کاروائی کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔