کانگریس کی قیادت
میں قائم مخلوط حکومت میں شامل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی ہفتہ کے روز علاحدہ ہو گئی،
اور یوں بظاہر حکمران پارٹی ایوان میں اپنی اکثریت گنوا بیٹھی۔ اسی تناظر میں یہ امکان
قوی تھا کہ وزیر اعلیٰ غلام نبی آزاد گورنر سے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کی درخواست
کریں گے۔
لیکن آج پیر کو انہوں نے گورنر کو ایک خط لکھ کر یہ دعویٰ
کیا ہے کہ انہیں پارلیمنٹ میں اکثریت کا اعتماد حاصل ہے۔ اس کے جواب میں گورنر نے
وزیر اعلیٰ کو ایوان میں اپنی اکثریت ثابت کرنے کے لیے سات جولائی تک کی مہلت دی
ہے۔
وزیرِ اعلیٰ کے قریبی ساتھیوں کا کہنا ہے کہ انہیں مختلف
چھوٹی جماعتوں اور آزاد اراکین نے اپنی حمیت کا یقین دلایا ہے۔
دوسری طرف جموں میں عام ہڑتال، مظاہروں اور تشدد کا سلسلہ
آٹھویں روز بھی جاری رہا۔
آج پیر کے دن ہونے والے ہنگاموں میں پولیس اور مظاہرین کے
درمیان تصادم میں تقریباً 50
مظاہرین زخمی ہو گئے۔
مختلف ہندو سیاسی اور مذہبی تنظیموں نے صوبائی حکومت
اور گورنر پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے کشمیر علاحدگی پسندوں اور مسلم عسکریت
پسندوں کے سامنے ہتھیار ڈال کر یہ سمجھوتا کیا ہے کہ امرناتھ یاترا کا انتظام
صوبائی حکومت کرے گی۔