گذشتہ دنوں
امریکہ کی وسطی ریاستوں میں آنے والی شدید بارشوں اور سیلاب کے باعث بڑے پیمانے پر
فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔ فصلوں کی اس تباہی کے نتیجے میں اناج کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
اناج کا
استعمال توانائی کے ایک اہم ذریعے ایتھنول کی پیداوار کے لیے بھی کیا جاتا ہے اور امریکہ میں حکومت
کی جانب سے ایتھنول کی پیدوار میں قابلِ ذکر سبسیڈی دی جاتی ہے۔ امریکہ ریاست
آئیوا سیلاب سے متاثرہ امریکی علاقوں میں سے ایک ہے۔ یہاں کے ایک کاشتکار ملو
روفکورن کہتے ہیں کہ اس سال کے شروع میں کاشت کی جانے والے فصلوں کو بارش سے شدید
نقصان پہنچا۔ان کا کہنا ہے کہ یہ فصلیں اپریل
کے اواخر میں ہوتی ہیں لیکن آپ دیکھ سکتے ہیں کہ یہ جگہ کتنی خراب ہوگئی ہے۔ جس
جگہ پانی جمع ہوجائے وہاں فصلیں تو خراب ہوں گی ہی۔
ایک اور
کاشتکار لیری کنگ کا کہنا ہے کہ فصلوں پر آنے والے اخراجات کے باعث زیادہ نفع ہونے
کی امید کم ہے۔ لیری کے مطابق اتنی تاخیر فصلوں کی زیادہ پیداوار کو بھی متاثر
کرسکتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اس موسم میں فصلوں کی کاشت کی وجہ سے گزشتہ سال کے
مقابلے میں 40 سے 50 فیصد تک کمی آسکتی ہے۔
قیمتوں میں
اضافے کی ایک اور وجہ ایتھنول میں اناج کا استعمال ہے۔ حالیہ سیلاب اور بارشوں
سے قبل ہی ایتھنول میں اناج کے استعمال کے
باعث مویشیوں کو دی جانے والی خوارک کی
قیمتوں میں اضافہ ہوگیا تھا۔ امریکی ریاست ٹیکساس کے گورنر رک پیری کہتے ہیں کہ
قیمتوں میں اضافے کے باعث ریاستوں میں قائم زرعی فارموں کو خسارے کا سامنا ہےاور
وہ کانگریس درخواست کررہے ہیں کہ ایتھنول کے لیے دی جانے والی سبسڈی کو 50 فیصد تک
کم کریں۔
ان کا کہنا
ہے کہ حالانکہ ایتھنول اور توانائی کے دوبارہ استعمال کے ذرائع کو دی جانے والی
سہولیات بہت اچھا آئیڈیا تھا لیکن صرف 4 سے 5 سال پہلے تک۔ اب عام امریکیوں کو اس
کا نقصان ہو رہا ہے۔
کاشتکاری اور توانائی کے متبادل ذرائع کے شعبوں میں
کام کرنے والے کچھ حلقوں کے مطابق غذائی اشیا کی قیمتوں میں اضافے کا ایک بہت بڑا
سبب قدرتی آفات ہیں۔ اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ خراب موسم مارکیٹ میں قیمتوں کو متاثر کرسکتاہے۔ امریکہ
کا محکمہِ زراعت آئندہ چند ہفتوں کے دوران فصلوں کی قیمتوں کا تخمینہ پیش کرے گا
جس سے مستقبل میں قیمتوں کے بارے میں
صورتحال زیادہ واضح ہونے کی امید ہے۔