امریکی قانون سازوں نے کہا ہے
کہ چینی حکام نے انہیں بیجنگ کے دورے کے دوران انسانی حقوق کے وکلا سے ملنے سے روک دیا ۔
چین کے بارے میں کانگریشنل
ایگزیکٹو کمیشن میں ایک ری پبلیکن رکن کانگریس مین کرس سمتھ نے کہا ہے کہ انہیں اور ان کے ری پبلکین ساتھی
کانگریس مین فرینک ولف کو اتوار کی رات انسانی حقوق کے تین وکلا کے ساتھ رات کا
کھانا کھاناتھا لیکن انہوں نے بتایا کہ ان وکلا کو دھمکیا ں دی گئیں اور انہیں
کسی دوسری جگہ پہنچادیا گیا یا گھروں میں
نظر بند کردیا گیا۔
قانون سازوں نے یہ بھی کہا کہ
انہوں نے 734 چینی سیاسی قیدیوں کے مقدمات کی ایک فہرست چینی مقننہ کی خارجہ امور کی کمیٹی کے چیئر مین لی
زہاوکسنگ کو پیش کی۔
چینی وزارت خارجہ کے ترجمان لیوجیانگ چاؤ نے کہا
ہے کہ انہیں اس فہرست کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔ لیکن انہوں نے کہا اگر وہ
فہرست پیش کی گئی ہے تو قانون سازوں کے دورے کے سرکاری مقصد سے اس کا کوئی تعلق
نہیں تھا۔