باسٹھ سالہ کیرول
مرفی کو جب مائیگرین ہوتا ہے تو وہ بمشکل ہی کوئی کام کرپاتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں
چھ یا سات مرتبہ اسپتال جا چکی ہوں۔ اور وہاں جاکر صرف یہ کہتی ہوں کہ بس میں اس
سے لڑتے لڑتے تھک گئی ہوں مجھے کچھ بھی دے دیجیئے۔مجھے پرواہ نہیں۔
تاہم اب ٹی ایم
ایس کہلانے والا ایک آلہ مائیگرینز سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کرسکے گا۔ مائیگرینز
کے ہر پانچ مریضوں میں سے ایک شخص اورا سے
متاثر ہوتا ہے۔ یہ دماغ میں ایک قسم کے برقی طوفان سے پیدا ہونے والے روشنی کے بصری
جھماکے یا زگ زیگ لائینز ہوتی ہیں۔ اوریز مائیگرینز کے درد پیدا کرنے سے پہلے آتے
ہیں۔ایک ہیر ڈارئیر کے سائز کا یہ آلہ ٹی ایم ایس ، اورا کے شروع ہونے پر مریض کے
سر کےقریب رکھا جاتا ہے۔وہ مقناطیسی میدان کی دو مختصر لہریں دماغ میں بھیجتا ہے۔
البرٹ آئن
سٹائن کالج آف میڈیسن کے ڈاکٹر رچرڈ لپٹن اس تحقیق کے مصنف ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ یہ
لہریں اوراکے دوران دماغ میں پیدا ہونے والے برقی طوفان کو روکتی ہیں۔ ان کے مطابق
ٹی ایم ایس ، اورا سے متاثر ہ لوگوں کے لیے مدد گار ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر رچرڈ
لپسٹن کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت طاقت ور مقناطیس کو آن کرتا ہے جس سے دماغ میں تھوڑا
سا کرنٹ پیدا ہوتا ہے جس کے اثرسے مائیگرین اورا بند ہو جاتا ہے۔
اس تحقیق نے
اوریزکے ساتھ مائیگرینز سے متاثرہ دو سو مریضوں کا جائزہ لیا۔ نصف کو ٹی ایم ایس
جب کہ باقی نصف کو ایک کھلونا آلہ دیا گیا۔ ٹی ایم ایس کو استعمال کرنے والے کئی
لوگوں نے کہا کہ دو گھنٹوں کے بعد ان کا درد دور ہوچکا تھا۔ کیرول مرفی ان میں سے
ایک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ درد غائب ہو گیا۔ میں نے دس منٹ انتظار کیا اور کچھ نہیں
ہوا مائیگرین کے دورے کے بعد بھی میں باہر جاسکتی تھی۔
سر کے درد کی امریکن سوسائٹی کی سٹڈیز سے ظاہر ہوتا
ہے کہ مائیگرین کے مریضوں میں سے صرف نصف کو دستیاب علاج سے فائدہ ہوتا ہے۔ مائیگرینیز
کے باعث امریکہ میں ہونے والے کام کے ضیاع کا اندازہ سالانہ تیرہ ارب ڈالرز سے
زائد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مائیگرینز مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دو
سے تین گنا جبکہ سفید فام لوگوں میں افریقیوں اور ایشینز کے مقابلے میں زیادہ عام
ہیں۔