Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

مائیگرین کے علاج کا ایک جدید آلہ


July 1, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

[insert caption here]

باسٹھ سالہ کیرول مرفی کو جب مائیگرین ہوتا ہے تو وہ بمشکل ہی کوئی کام کرپاتی ہیں۔وہ کہتی ہیں کہ میں چھ یا سات مرتبہ اسپتال جا چکی ہوں۔ اور وہاں جاکر صرف یہ کہتی ہوں کہ بس میں اس سے لڑتے لڑتے تھک گئی ہوں مجھے کچھ بھی دے دیجیئے۔مجھے پرواہ نہیں۔

تاہم اب ٹی ایم ایس کہلانے والا ایک آلہ مائیگرینز سے متاثرہ لاکھوں افراد کی مدد کرسکے گا۔ مائیگرینز کے ہر پانچ مریضوں میں سے ایک شخص اورا سے متاثر ہوتا ہے۔ یہ دماغ میں ایک قسم کے برقی طوفان سے پیدا ہونے والے روشنی کے بصری جھماکے یا زگ زیگ لائینز ہوتی ہیں۔ اوریز مائیگرینز کے درد پیدا کرنے سے پہلے آتے ہیں۔ایک ہیر ڈارئیر کے سائز کا یہ آلہ ٹی ایم ایس ، اورا کے شروع ہونے پر مریض کے سر کےقریب رکھا جاتا ہے۔وہ مقناطیسی میدان کی دو مختصر لہریں دماغ میں بھیجتا ہے۔

البرٹ آئن سٹائن کالج آف میڈیسن کے ڈاکٹر رچرڈ لپٹن اس تحقیق کے مصنف ہیں۔ انہیں یقین ہے کہ یہ لہریں اوراکے دوران دماغ میں پیدا ہونے والے برقی طوفان کو روکتی ہیں۔ ان کے مطابق ٹی ایم ایس ، اورا سے متاثر ہ لوگوں کے لیے مدد گار ہو سکتا ہے۔

ڈاکٹر رچرڈ لپسٹن کہتے ہیں کہ یہ ایک بہت طاقت ور مقناطیس کو آن کرتا ہے جس سے دماغ میں تھوڑا سا کرنٹ پیدا ہوتا ہے جس کے اثرسے مائیگرین اورا بند ہو جاتا ہے۔

اس تحقیق نے اوریزکے ساتھ مائیگرینز سے متاثرہ دو سو مریضوں کا جائزہ لیا۔ نصف کو ٹی ایم ایس جب کہ باقی نصف کو ایک کھلونا آلہ دیا گیا۔ ٹی ایم ایس کو استعمال کرنے والے کئی لوگوں نے کہا کہ دو گھنٹوں کے بعد ان کا درد دور ہوچکا تھا۔ کیرول مرفی ان میں سے ایک ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ درد غائب ہو گیا۔ میں نے دس منٹ انتظار کیا اور کچھ نہیں ہوا مائیگرین کے دورے کے بعد بھی میں باہر جاسکتی تھی۔

سر کے درد کی امریکن سوسائٹی کی سٹڈیز سے ظاہر ہوتا ہے کہ مائیگرین کے مریضوں میں سے صرف نصف کو دستیاب علاج سے فائدہ ہوتا ہے۔ مائیگرینیز کے باعث امریکہ میں ہونے والے کام کے ضیاع کا اندازہ سالانہ تیرہ ارب ڈالرز سے زائد ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق مائیگرینز مردوں کے مقابلے میں خواتین میں دو سے تین گنا جبکہ سفید فام لوگوں میں افریقیوں اور ایشینز کے مقابلے میں زیادہ عام ہیں۔

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
”اوباما کے اقتدار سنبھالتے ہی حملے رک جائیں گے“

  مزید خبریں
افغانستان میں کار بم دھماکا
اے آر رحمان کی نئی فلم یووراج کی موسیقی مقبولیت حاصل کر رہی ہے
نیا امریکی وزیرِ خارجہ کیسا ہو؟
ایران کے پاس بم بنانے کا سامان ہے: امریکی سائنسندان
اخراجات میں کمی: حکومت ترقیاتی منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لے گی
چین میں پانچواں امریکی قونصل خانہ
امریکی حملوں کے خلاف طالبان کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
شکاریوں سے قدرتی وسائل کے محافظ تک کا سفر
بچوں کے تحفظ کی مشترکہ مہم شروع
”بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے من موہن سنگھ سے بات کروں گا“
قوم پرست لیڈر کی ہلاکت پر بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available