لاس انجلس کا
شمار دنیا کے ان چند شہروں میں ہوتاہے جہاں مختلف قومیتوں کے لوگ بستے ہیں۔ یہاں کی
موسم گرما کی موسیقی کی سیریز شہر میں بسنے والی ان قومیتوں کو اکٹھا کرتی ہے۔ اس
سال کی کنسرٹ سیریز کا آغازایک معروف افریقی موسیقار فیلا کٹی کے بیٹے سون کٹی کی
پرفارمنس سے ہوا جو نائجیریا کی موسیقی کو لاس اینجلس میں لے آئے۔ افتتاحی تقریب میں
6 ہزار سے زیادہ لوگ شریک ہوئے۔
راکی دووانی
کا کہنا ہے کہ چونکہ لاس انجلس مختلف قومیتوں کو ملاتا ہے اس لیے اس موسیقی کے ذریعے
ہم اس شہر کے تنوع کا جشن مناتے ہیں۔ یہاں دنیا کے مختلف حصوں سے آئے ہوئے لوگ
رہتے ہیں اور یہ گروپس کی صورت میں شہر کے مختلف حصوں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ اس میوزک
نے یہ کیا کہ افریکن میوزک کے چاہنے والوں کو اکٹھا کر دیا۔
مائیکل الیگزینڈر
کہتے ہیں کہ ہم مختلف علاقوں کے حاضرین کی بات کرتے ہیں۔ یہاں صرف افریقی ملکوں کے
لوگ ہی نہیں ہیں۔ یہاں لاطینی ہیں ایشیائی ہیں۔ یورپی ہیں۔ دنیا کے مختلف ملکوں کے
لوگ ہیں۔ یہی ایل اے کا اصل رنگ ہےمیں یہاں میوزک سننے آیا تھا مگر میں نے یہاں انسانیت
کو گاتے سنا۔ بہاں مختلف ثقافتیں ہیں اور یہی لاس انیجلس کا حسن ہے۔