گیارہ ستمبر 2001
کے بعد لاس اینجلس کے عرب امریکیوں کے
بارے میں ایک نئی فلم ایسے لوگوں کی آبادی کوایک انسانی چہرہ دے
رہی ہے جس کے بارے میں زیادہ تر امریکی
بہت کم جانتے ہی ۔امریکن ایسٹ نامی یہ فلم
ایک مزاحیہ ڈرامہ ہے جس میں ان پریشرز کو
سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے جو عرب
امریکیوں کو امریکی سوسائٹی میں ایڈجسٹ
ہونے اور منفی صورت حال سے بنرد آزما ہونے کے لیےبرداشت کرنے پڑتے
ہیں
مرکزی کردار
مصطفیٰ مارزوک کے ذریعے سے یہ فلم عرب امریکیوں کو لاس اینجلس کی تارکین کمیونٹی کے حصے طور پر پیش کرتی ہے ۔مارزوک مشرق وسطیٰ سے آنے والے تارکین وطن میں مقبول حبیبی کیفے کا مالک ہے ۔اس کا خواب اپنے یہودی
دوست سام کے ساتھ مل کر ایک اونچے درجے کا مڈل ایسٹرن ریسٹورنٹ کھولنا تھا ۔سام کا کردار
مشہور عرب امریکی فنکار ٹونی شال ہوب نے
ادا کیا ہے ۔فلم میں دونوں کے خاندان اس تعلق کے خلاف ہیں۔دونوں بہرحال ریسٹورنٹ کھول لیتے ہیں اور اس کا نام امریکن ایسٹ رکھتے ہیں ۔فنکار اور سکرین رائیٹر سید بدریہ
کہتے ہیں کہ یہ فلم اس بےاعتباری کا جائزہ لیتی ہے جس کا سامنا عربوں اور
مسمانوں کو گیارہ ستمبر کے بعد کرنا پڑا ۔
بدریہ کا
کہنا ہے کہ آئے دن عرب شناخت اور محمد نام اور ورلڈ ٹریڈ سنٹر کو اڑا دینے والے شخص
کا نام بھی محمد ہونے کے بارے میں نئی نئی
باتیں نوجوان نسل کو میڈیا میں دیکھنے اور سننے سے جس قسم کے چیلینج کا سامنا کرنا پڑتا
ہے اس پر ایک مکالمہ بھی ہم نے فلم میں شامل کیا ہے۔
ہشام عیساوی
فلم کے ڈائریکٹر اور کو سکرین رائٹر ہیں ۔ان کے مطابق یہ فلم مسلمانوں کو درپیش شناخت کے مسائل کا ایک جائزہ بھی
لیتی ہے جبکہ وہ ایک نئے ملک میں ایڈجسٹ ہونے کی کوشش کر رہے ہیں
۔ فلم میں مصطفیٰ کی بہن سلویٰ ایک غیر مسلم سے متاثر ہوجاتی ہے ۔
ہیشام عسیاوی
کا کہنا ہے کہ وہ امریکہ میں پروان چڑھی ہے لیکن پھر بھی اس کے اندر وہی روائتی معاشرہ موجود ہے۔ مسلمان ہوتے ہوئے وہ مسلمان سے ہی شادی کرسکتی ہے
، یہ سارا الجھاو اس کے خلاف جاتا ہے اور آخر میں اسے
فیصلہ کرنا ہوتا ہے ۔
امریکن ایسٹ
عرب امریکیوں کے مابین مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے ہونے والی بحث کا بھی جائزہ لیتی
ہے ۔کبھی اس گفتگو کا اختتام بد گمانی پر
ہوتا ہے۔
عرب امریکی
فلم میکرز کو ایسی کوئی خوش فہمی نہیں کہ
عرب ایسٹ فلموں میں عربوں اور مسلمانوں
کی تصویر کشی کو تبدیل کردے گی تاہم سید بدریہ اس سلسلے میں پر امید ہیں ۔ ان کا
کہنا ہے کہ امریکن ایسٹ کا بنایا جانا
درست سمت میں ایک قدم ہے ۔ اگرچہ چھوٹا ہے لیکن ہم یہاں موویز بنانے اور امریکہ کو
عرب امریکیوں کی آنکھوں سے دیکھانے کے
لیے موجود ہیں ۔
امریکی اس فلم کو ڈی وی ڈیز پر دیکھ سکیں گے سینما گھروں
میں نہیں ۔