Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

خیبر ایجنسی میں پاکستان کی فوجی کارروائی


July 1, 2008

Pakistani paramilitary solider stands guard in Pakistan's tribal area of Khyber near Peshawar, 28 Jun 2008<br />
پاکستانی فوج خیبر ایجنسی میں پہرے پر
حکومت ِ پاکستان نے طالبان کے حامی بعض عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ اِس بارے میں کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں مثلاً یہ کہ کیا حکومت دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی کرے گی اور یہ کہ حکومت نے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ امن کی بات چیت اچانک کیوں ختم کردی۔

فروری میں بر سرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان کی منتخب حکومت نے واضح کر دیا تھا کہ وہ تمام عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑنے کے بجائے طالبان کے حامی بعض گروپوں کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دے گی۔ لیکن حال ہی میں حکومت نے شمالی مغربی سرحدی صوبے کے دارالحکومت پشاورکے نزدیک عسکریت پسندوں کے اڈوں کا صفایا کرنے کے لیے نیم فوجی دستے بھیج دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان کے حامی گروپوں نے بڑی دیدہ دلیری سے خیبر ایجنسی کے بعض علاقوں میں متوازی حکومت قائم کر لی تھی۔

افغانستان اور اس کے دارالحکومت کابل جانے کے لیے زمینی راستہ اسی علاقے سے ہو کر گذرتا ہے ۔ القاعدہ اور طالبان کے حامی گروہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں منظم ہو کر وہاں سے سرحد پار افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملے کرتے رہے ہیں۔

 جیسا کہ امریکی وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے گذشتہ ہفتے کہا کہ امریکہ کے لیے یہ صورتِ حال پریشان کُن ہے۔ وہ پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اسلامی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ کوشش کرے:

 'ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہ بات تشویشناک ہے کہ طالبان اور دوسرے باغی عناصر سرحد پار افغانستان میں داخل ہو سکتے ہیں ، اور ان پر پاکستان کی سرحد کی طرف سے کوئی دباوٴ نہیں ہوتا۔میرا خیال ہے کہ ہمیں پاکستان کی حکومت کے ساتھ اِس مسئلے سے نمٹنا چاہیئے۔'

 کانگریشنل ریسرچ سروس میں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار، کین کاٹزمین کہتے ہیں کہ پاکستان امریکی دباوٴ کی وجہ سے کارروائی کرنے پر مجبور ہوا ہے۔عسکریت پسند مہینوں سے پشاور اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔ میرے خیال میں اِس ہفتے کوئی نئی بات نہیں ہوئی۔ہاں یہ ضرور ہوا کہ گذشتہ چند ہفتوں میں امریکی دباوٴ بڑھ گیا تھا۔ پاکستان جانتا ہے کہ اگر اس نے خود کوئی کارروائی نہ کی تو امریکہ یک طرفہ کارروائی شروع کر دے گا، بلکہ اس نے پہلے ہی کسی حد تک یک طرفہ اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔'

 کاٹزمین نے اخبار نیو یارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی عہدے داروں نے پاکستان کے پہاڑی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف حملہ کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ بنا لیا ہے لیکن پالیسی سازوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس پر اب تک عمل شروع نہیں کیا گیا ہے ۔کاٹزمین مزید کہتے ہیں کہ یہ خبر پاکستان پر دباوٴ بڑھانے کے کی مہم کے طور پر جان بوجھ کر افشا کر دی گئی۔

لیکن امریکی فوج کے جنگی کالج کے پروفیسر لیری گڈسن اِس خیال سے متفق نہیں کہ پاکستان نے امریکی دباوٴ کی وجہ سے فوجی کارروائی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان پر خارجی دباوٴ کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا کیوں کہ پاکستانیوں میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ امریکہ صرف اچھے وقتوں کا دوست ہے۔

 پروفیسرگڈسن کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان پشاور ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ عسکریت پسندوں کے خلاف خیبر ایجنسی میں کارروائی کرنا دوسرے دور دراز علاقوں کے مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے:

 اصل بات یہ ہے کہ پشاور پاکستان کے لیے بے حد اہم ہے۔ پاکستان ان لوگوں کو پشاور میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔پاکستان خیبر ایجنسی میں جس قسم کی کارروائی کر سکتا ہے ویسی کارروائی کرنا وزیرستان میں ممکن نہیں ہے۔چنانچہ انھوں نے بہت زیادہ خراب اور کم خراب گروپوں کی درجہ بندی کر لی ہے۔ لیکن حقیقتاً وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جن کے خلاف اقدام کرنا نسبتاً آسان ہے۔'

 یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا حکومت کا یہ آپریشن بنیادی حکمتِ عملی میں کسی بڑی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ لیکن تجزیہ کار توجہ دلاتے ہیں کہ پاکستانی طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات روک رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام بیت اللہ محسود پر ہی عائد کیا تھا۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
بھکر میں خودکش حملہ کم از کم 15 ہلاک

  مزید خبریں
صدر کا انٹرویو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا گیا
پیر کے روز حصص کی عالمی مارکیٹوں میں مندی کا رجحان
دارفر کے کلمہ کیمپ کی حفاظت کے لیے امن کار تعینات
زمبابوے میں شراکت اقتدار کے مذاکرات
سری لنکا خودکش حملے میں کم از کم 20 ہلاک
بندکمرے میں پاکستانی پارلیمانی تاریخ کا تیسرامشترکہ اجلاس
”معزول ججوں نے دوبارہ حلف اُٹھاکر حکومت پر دباؤ کم کر دیا“
وفاقی وزیر قانون کی بھارتی قیدی سے جیل میں ملاقات
کرغستان میں زلزلے سے کم ازکم 58 ہلاک
’تیری یاد آ گئی، سو چراغ جل گئے‘ ۔۔۔ مسعود رانا کی یاد میں
فلسطینیوں کے ساتھ  امن مذاکرات جاری رہنے چاہئیں:اسرائیلی وزیرِ خارجہ
کیا بیل آؤٹ پلان معیشت کو بحران سے نکال سکے گا؟  Video clip available
امریکی نائب صدارتی مباحثے کے نوجوان ووٹرز پر اثرات  Video clip available
بھارتی کشمیر میں کرفیو، گرفتاریاں مظاہرے
اپوزیشن کی طرف سے پارلیمان کے مشترکہ اجلاس کا خیر مقدم
ایران میں سفارتی مشن کا قیام زیرغور ہے: کانڈولیزارائس
کلثوم لاکھانی اپنے بلاگ کے ذریعے پاکستان کاروشن رخ سامنے لارہی ہیں  Video clip available
روس نے جنوبی اوسیتیا کے علاقے سے اپنی چوکی ختم کردی
ماؤنٹ ایورسٹ پر پیراشوٹ کے ذریعے چھلانگ لگانے کا عالمی ریکارڈ
پیلین کی جانب سے اوباماپر دہشت گردوں سے تعلقات کا الزام
برما میں سیاسی قیدیوں کی تعداد 2100 سے زیادہ ہوگئی
نائجیریا میں تیل  کمپنیوں کے اغوا شدہ 19 کارکن رہا
عراق میں امریکی چھاپے کے دوران عسکریت پسندوں سمیت11 افراد ہلاک
کانڈولیزارائس قراقستان پہنچ گئیں
طالبان کا مشتبہ اعلی کمانڈر گرفتار
بھارت امریکہ غیر فوجی جوہری تعاون معاہدے پر صدر بش جلد دستخط کر دیں گے:وزیر خارجہ رائس
بغداد میں دو امریکی ہیلی کاپٹر ٹکرا کر تباہ ہو گئے
بھارتی کشمیر میں ایک بار پھر کرفیو نافذ کر دیا گیا
اوباما، مک کین انتخابی مہم کی انتخابی حکمتِ عملی میں تبدیلیاں
قیام امن تک دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری رہے گی:صدر زرداری
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ آٹھویں قسط: اے حرمِ قرطبہ
امریکی انتخابات میں صدارتی امیدواروں میں دلچسپی ایک تاریخی واقعہ ہے  Video clip available
کیا امدادی بل امریکی معیشت کی بحالی میں مدد دے سکتا ہے؟  Video clip available
واشگٹن ڈی سی میں عید کا سب سے بڑا اجتماع اسلامک سینٹر میں ہوتا ہے  Video clip available
امریکہ میں چاند رات کی گہماگہمی  Video clip available