 |
پاکستانی فوج خیبر ایجنسی میں پہرے پر |
حکومت ِ پاکستان نے طالبان کے حامی بعض عسکریت پسند گروپوں
کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ اِس بارے میں کئی سوالات اٹھائے
جا رہے ہیں مثلاً یہ کہ کیا حکومت دوسرے عسکریت پسند گروپوں کے خلاف بھی ایسی ہی کارروائی
کرے گی اور یہ کہ حکومت نے عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ امن کی بات چیت اچانک کیوں
ختم کردی۔
فروری میں بر سرِ اقتدار آنے کے بعد پاکستان کی منتخب حکومت
نے واضح کر دیا تھا کہ وہ تمام عسکریت پسندوں کے ساتھ لڑنے کے بجائے طالبان کے
حامی بعض گروپوں کے ساتھ بات چیت کو ترجیح دے گی۔ لیکن حال ہی میں حکومت نے شمالی
مغربی سرحدی صوبے کے دارالحکومت پشاورکے نزدیک عسکریت پسندوں کے اڈوں کا صفایا
کرنے کے لیے نیم فوجی دستے بھیج دیے ہیں۔ حالیہ دنوں میں طالبان کے حامی گروپوں نے
بڑی دیدہ دلیری سے خیبر ایجنسی کے بعض علاقوں میں متوازی حکومت قائم کر لی تھی۔
افغانستان اور اس
کے دارالحکومت کابل جانے کے لیے زمینی راستہ اسی علاقے سے ہو کر گذرتا ہے ۔ القاعدہ اور طالبان کے حامی گروہ پاکستان کے قبائلی
علاقوں میں منظم ہو کر وہاں سے سرحد پار افغانستان میں اتحادی فوجوں پر حملے کرتے
رہے ہیں۔
جیسا کہ امریکی
وزیرِ دفاع رابرٹ گیٹس نے گذشتہ ہفتے کہا کہ امریکہ کے لیے یہ صورتِ حال پریشان
کُن ہے۔ وہ پاکستان پر زور دیتا رہا ہے کہ وہ اسلامی عسکریت پسندی کا مقابلہ کرنے
کے لیے زیادہ کوشش کرے:
'ظاہر ہے کہ ہمارے لیے یہ بات
تشویشناک ہے کہ طالبان اور دوسرے باغی عناصر سرحد پار افغانستان میں داخل ہو سکتے
ہیں ، اور ان پر پاکستان کی سرحد کی طرف سے کوئی دباوٴ نہیں ہوتا۔میرا خیال ہے کہ
ہمیں پاکستان کی حکومت کے ساتھ اِس مسئلے سے نمٹنا چاہیئے۔'
کانگریشنل ریسرچ سروس میں
جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے تجزیہ کار، کین کاٹزمین کہتے ہیں کہ پاکستان
امریکی دباوٴ کی وجہ سے کارروائی کرنے پر مجبور ہوا ہے۔عسکریت پسند مہینوں سے
پشاور اپنا اثر و رسوخ بڑھا رہے تھے۔ میرے خیال میں اِس ہفتے کوئی نئی بات نہیں
ہوئی۔ہاں یہ ضرور ہوا کہ گذشتہ چند ہفتوں میں امریکی دباوٴ بڑھ گیا تھا۔ پاکستان
جانتا ہے کہ اگر اس نے خود کوئی کارروائی نہ کی تو امریکہ یک طرفہ کارروائی شروع
کر دے گا، بلکہ اس نے پہلے ہی کسی حد تک یک طرفہ اقدامات کرنے شروع کر دیے ہیں۔'
کاٹزمین نے اخبار نیو یارک
ٹائمز کی ایک رپورٹ کا حوالہ دیا جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی عہدے داروں نے
پاکستان کے پہاڑی علاقے میں عسکریت پسندوں کے خلاف حملہ کرنے کا ایک خفیہ منصوبہ
بنا لیا ہے لیکن پالیسی سازوں کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس پر اب تک عمل شروع نہیں کیا گیا ہے ۔کاٹزمین مزید کہتے ہیں کہ یہ خبر
پاکستان پر دباوٴ بڑھانے کے کی مہم کے طور پر جان بوجھ کر افشا کر دی گئی۔
لیکن امریکی
فوج کے جنگی کالج کے پروفیسر لیری
گڈسن اِس خیال سے متفق نہیں کہ
پاکستان نے امریکی دباوٴ کی وجہ سے فوجی کارروائی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا
ہمیشہ یہ خیال رہا ہے کہ پاکستان پر خارجی دباوٴ کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا کیوں
کہ پاکستانیوں میں یہ خیال راسخ ہو گیا ہے کہ امریکہ صرف اچھے وقتوں کا دوست ہے۔
پروفیسرگڈسن کہتے ہیں کہ اصل بات یہ ہے کہ پاکستان
پشاور ہاتھ سے نکل جانے کا خطرہ مول نہیں لے سکتا تھا۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے
کہ عسکریت پسندوں کے خلاف خیبر ایجنسی میں کارروائی کرنا دوسرے دور دراز علاقوں کے
مقابلے میں کہیں زیادہ آسان ہے:
اصل بات یہ ہے کہ پشاور پاکستان کے لیے بے حد اہم ہے۔
پاکستان ان لوگوں کو پشاور میں قدم جمانے کی اجازت نہیں دے سکتا تھا۔پاکستان خیبر
ایجنسی میں جس قسم کی کارروائی کر سکتا ہے ویسی کارروائی کرنا وزیرستان میں ممکن
نہیں ہے۔چنانچہ انھوں نے بہت زیادہ خراب اور کم خراب گروپوں کی درجہ بندی کر لی
ہے۔ لیکن حقیقتاً وہ ان لوگوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جن کے خلاف اقدام کرنا
نسبتاً آسان ہے۔'
یہ بات ابھی واضح نہیں ہے کہ کیا حکومت کا یہ آپریشن بنیادی حکمتِ
عملی میں کسی بڑی تبدیلی کی وجہ سے ہے۔ لیکن تجزیہ کار توجہ دلاتے ہیں کہ پاکستانی
طالبان کمانڈر بیت اللہ محسود نے اعلان کیا ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ مذاکرات روک
رہے ہیں۔ یاد رہے کہ حکومتِ پاکستان نے وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے قتل کا الزام
بیت اللہ محسود پر ہی عائد کیا تھا۔