گوا میں ایشیائی فلمی میلہ، برصغیر کی مشترکہ فلم کمپنی کا قیام
July 1, 2008
گوا میں چار روزہ جنوبی ایشیائی فلمی میلہ پیر کے روز اپنے اختتام کو پہنچا۔ اِس فلمی میلے میں آٹھ ایشیائی ممالک کی 45 فلموں کو سنیمابینوں کے سامنے پیش کیا گیا۔ میلے کے آخری دن کی خاص خبر یہ تھی کہ اس دن پاکستانی فلم ’خدا کے لیے‘ اور پاکستانی اداکارہ زیبا بختیاراور عدنان سمیع خان کے 14 سالہ بیٹے آذان خان کی مختصر فلم ’میری کہانی ‘ نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔
تاہم سب سےاچھی بات یہ ہوئی کہ پاناجی میں منعقد اِس میلے میں بین ا لاقوامی مشترکہ فلم پروڈکشن کمپنی کا قیام عمل میں آیا ۔ بھارت ، پاکستان ، سری لنکا ، بنگلہ دیش اور افغانستان کے فلم ساز مشترکہ طور پر فلم بنائیں گے جس کی کہانی برصغیر کے ملکوں کے اطراف گھومے گی۔
اینٹرٹینمیٹ سوسائٹی آف گوا کے سی ای او منوج سری واستو کے مطابق پاکستانی فلم ساز سراج ا لحق ، سری لنکا کے ہدایت کار بُدھی کیرتیینا ، بنگلہ دیش کے تنویر حُسینی اور افغانستان کے فلم ساز ’عبداللطیفی نے ایک ساتھ مل کر محبت کی داستان پر مبنی فلم بنانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ بھارت سے اِس گروپ میں پوجا بھٹ یا فلم ساز سُدھیر مشرا کے شامل ہونے کے اِمکانات ہیں۔
اِس فلم کا اِسکرپٹ دو ماہ میں تیار ہوجائے گا اور بقول سری واستو ،بھارتی ہدایت کار اپنے حصے کے 20 منٹ کی فلم کی عکس بندی پاکستان میں کرےگا ۔اِسی طرح بنگلہ دیش بھارت میں، سری لنکائی فلم ساز بنگلہ دیش میں اور پاکستانی ہدایت کار کو افغانستان میں اپنے حصے کے فلم کی شوٹنگ کرنے کی اِجازت ہوگی۔
فلم کی کاسٹ کے تعلق سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں لیا گیا ہے تاہم افغانی اداکارہ کھتیرا یوسفی کو اِس تاریخی فلم کے لیے سائن کرنے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ فلم انگریزی زبان میں فلمائی جائے گی اور اِسے سب ٹائٹلز کے ساتھ دکھایا جائے گا۔
اطلاعات کے مطابق بھارت نیپال کےساتھ مل کر مشترک ہ طور پر ماؤنواز باغیوں پر فلم بنانے کے تعلق سے سنجیدگی سے سوچ رہا ہے ۔ بھارتی فلم ساز مہیش بھٹ سمیت دیگر کئی لوگوں نے اِس موضوع پر فلم بنانے کی خواہش ظاہر کی ہے۔