 |
| معاون امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر |
جنوبی اور وسطی ایشیا کے لیے معاون امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت اور سیاستدانوں کو ملک کو درپیش انتہاپسندی میں اضافے، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، بجلی اور توانائی کے بحرانوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ ان کے بقول اس وقت صدر مشرف کا ایشو پاکستانیوں کا مسئلہ نہیں ہے۔
بدھ کو اسلام آباد میں اپنے تین روزے دورے کے اختتام پر ایک نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ امریکہ معزول ججوں کی بحالی کی مخالفت کررہا ہے اور وہ 18فروری کے انتخابات کے نتیجے میں پاکستان میں ہونے والی جمہوری تبدیلی سے خوش نہیں ہے۔
رچرڈ باؤچر نے کہا کہ انتخابات کا نتیجہ وہی ہے جو پاکستان کی اکثریت چاہتی تھی اور امریکہ ان جمہوری کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔ صدر مشرف کی آئینی حیثیت کے حوالے سے پوچھے گئے سوال میں انہوں نے کہا کہ امریکہ انہیں پاکستان کا صدر سمجھتا ہے اور اسی پوزیشن میں ان کے ساتھ معاملات جاری رکھے ہوئے ہے۔قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے ساتھ امن معاہدوں کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں رچرڈ باؤچر نے کہا کہ امریکہ ایسی تمام کوششوں کی حمایت کرتا ہے جن کا مقصد قبائلیوں کو اپنے علاقوں کی حفاظت کی ذمہ داری سونپنا ہے تاکہ وہاں پر ترقیاتی منصوبوں ، صحت اور تعلیم کے شعبوں کو فروغ دیا جاسکے لیکن معاون امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ ان کا ملک بیت اللہ محسود جیسے شدت پسند لیڈروں کو رعایتیں دینے کی حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی وہ ایسے دہشت گردوں کو رہا کرنے کے حق میں ہے جو دوبارہ تخریبی سرگرمیوں میں ملوث ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے افغانستان اور پاکستان دونوں پر زور دیا کہ وہ اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں حکومت کی عملداری کو یقینی بنائیں تاکہ طالبان اور القاعدہ جیسی انتہا پسند تنظیموں کی کاروائیوں کی حوصلہ شکنی کی جاسکے۔رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں غیر ملکی دہشت گرد خودکش بمباروں کی تربیت کر رہے ہیں جو نہ صرف افغانستان میں بے گناہ لوگوں کوہلاک کررہے ہیں بلکہ پاکستان میں بھی بے گناہ شہری ان کی انتہاپسند کاروائیوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان عناصر کے خاتمے کے لیے، انہوں نے کہا، امریکہ افغانستان اور پاکستان کو مل کر کوششیں کرنی ہیں اور فوجی کارروائیوں کے ساتھ ساتھ پسماندہ قبائلی علاقوں میں سیاسی اور معاشی ترقی کے منصوبوں کو بھی عملی جامہ پہنانے کی ضرورت ہے۔