بھارتی کشمیر میں ہندوؤں کی عبادت گاہ کے لیے 40 ایکڑ جنگلات کی اراضی وقف کرنے کے سرکاری حکم نامے کو
منسوخ کیے جانے صوبائی حکومت کے فیصلے کے خلاف جمّوں شہر اور اس کے مضافاتی علاقوں
میں آج بدھ کو تیسرے روز بھی پُر تشدد مظاہرے جاری رہے۔جن کے بعد انتظامیہ نے جموں
شہر اور اس کے مضافات میں غیر معینہ مدّت کے لیے کرفیو نافذ کر دیا ہے۔
مشتعل ہندوؤں نے ٹولیوں کی شکل میں کرفیو کی خلاف ورزی کرتے
ہوئے سڑکوں پر مظاہرے کیے اور سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا۔
دوپہر کے بعد جمّوں شہر کے مضافاتی علاقے بھی تشدّد کی کی
لپیٹ میں آگئے، سرحدی قصبے سانبھا میں تشدّد بھڑکنے کے بعد وہاں بھی کرفیو نافذ کر
دیا گیا۔
مظاہرین نے جمّوں سری نگر شاہراہ پر روکاوٹیں کھڑی کر دی
ہیں اور اس طرح امرناتھ آنے والے یاتری مسلم اکثریتی وادیِ کشمیر میں پھنس گئے
ہیں۔ مقامی مسلمانوں نے انہیں مفت خوراک فراہم کرنے لیے جگہ جگہ لنگر قائم کر دیے
ہیں۔کشمیری رہنما سیّد علی رضا گیلانی نے مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہندو
یاتریوں اور دوسرے سیاحوں کا خیال رکھیں۔ انہوں نے بھارتیہ جنتا پارٹی پر الزام
لگایا ہے کہ وہ آئندہ انتخابات میں ہندو ووٹ حاصل کرنے کے لیے اس مسئلے کو فرقہ
وارانہ رنگ دے کر تشدّد کو بھڑکا رہے ہیں۔
دوسری طرف سری نگر میں بھارتی فوج کے ترجمان نے نامہ نگاروں
کو بتایا ہے کہ کنٹرول لائین کے قریب ضلع کپواڑا میں ایک پہاڑی درّے میں مسلم
اکثریت پسندوں کے ساتھ ایک جھڑپ میں سات عسکریت پسند اور ایک بھارتی فوجی ڈاکٹر
ہلاک ہو گیا۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ فوج اور عسکریت پسندوں کے
درمیان اس علاقے میں یہ اس سال میں اب تک کی سب بڑی اورخوں ریز جھڑپ ہے۔فوج کی
مدد کے لیے مزید کمک بھی روانہ کر دی گئی ہے۔