چین نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ تبت کےجلاوطن روحانی
راہنما دلائی لاما کےنمائندوں نے بیجنگ میں چینی عہدے داروں سے ملاقات کی ہے۔
چین نے منگل کے روز سے شروع ہونے والی ان ملاقاتوں کے بارے میں زیادہ تفصیل فراہم نہیں
کی۔ جمعرات کے روز چین کے سرکاری خبررساں ادارے کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ اس
بارے میں پہلی سرکاری تصدیق تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ دو قونگ لنگ، جو کمیونسٹ پارٹی کے
نسلی اور اقلیتی گروپوں کا اعلیٰ ترین ادارے کے سربراہ ہیں ، دلائی لاما کے سفیروں
لودی گیاری اور کیل سانگ گیالٹ سن سے ملاقات کی ۔
ملاقات کے دوران انھوں
نے مطالبہ کیا کہ دلائی لاما کھلم کھلا یہ ثابت کریں کہ وہ تبتیوں کی
خودمختاری کی حمایت نہیں کرتے اور یہ کہ وہ بیجنگ اولمپکس کو سبوتاژکرنے کی کوشش
نہیں کررہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر دلائی لاما نے مثبت جواب دیا تو مذاکرات
کا اگلامرحلہ اس سال کے آخر میں منعقد ہوگا۔
دلائی لاما بار بار بیجنگ اولمپکس کے لیے اپنی حمایت
کا اظہار کرچکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ وہ تبت کے لیے خودمختاری نہیں بلکہ زیادہ
خود اختیاری چاہتے ہیں۔