ٹھیک ایک صدی قبل روس کے علاقے سائبیریا میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے آج تک سائنس دانوں کو ورطہٴ حیرت میں ڈالا ہوا ہے۔ 1908ء کی ایک صبح سائبیریا کے دور دراز اور یخ بستہ ویرانے تنگس کا Tunguskaمیں ایک زبردست دھماکا ہوا، جس کی شدت اس قدر تھی کہ سینکڑوں کلومیٹر دور لوگ اپنی جگہ سے اچھل پڑے اور کھڑکیوں کے شیشے چکنا چور ہو گئے۔ اس قیامت خیز دھماکے نے دو ہزار مربع کلومیٹر کے رقبے پر پھیلے ہوئے جنگل کو تہس نہس کر دیا جس سے ایک اندازے کے مطابق آٹھ کروڑ درخت تباہ ہو گئے۔ بعد میں سائنس دانوں نے اس دھماکے کی شدت کا اندازہ 12 میگا ٹن لگایا جو 1945ء میں ہیروشیما پر گرائے گئے ایٹم بم سے ایک ہزار گنا زیادہ طاقت ور تھا۔ اس وقت روس شدید داخلی انتشار کا شکار تھا، اس لیے اس دھماکے کی وجوہات جاننے کی کوشش نہیں کی گئی۔ تاہم 29 برس بعد جب تحقیقاتی ٹیمیں وہاں گئیں تو مقامی لوگوں نے اس واقعے کے بارے میں کچھ بھی بتانے سے انکار کر دیا کیوں کہ ان کاخیال تھا کہ یہ دھماکا ان کے دیوتا اوگبی کے غیظ و غصب کا مظہر تھا۔ ٹیم نے دیکھا کہ درخت زمین پر گرے پڑے تھے اور اس سب کا رخ قطب نما کی سوئیوں کی طرح ایک ہی جانب تھا، یعنی دھماکے کے مرکز کی جانب۔ جب وہاں پہنچ کر دیکھا گیا تو معلوم ہوا کہ مرکز کے قریب درخت سلامت کھڑے تھے، لیکن ان کی شاخیں بالکل جھڑ گئی تھی اور ایسا لگ رہا تھا جیسے ٹیلی فون کے ہزاروں کھمبے ایستادہ ہیں۔ اصل میں دھماکے کی شدت اس قدر تھی کہ اس سے پہلے کہ دھماکے کی شدت شاخوں سے ہو کر درختوں کے تنوں تک پہنچتی، شاخیں پہلے ہی جل کر راکھ ہو گئیں۔ اگرچہ ایک صدی بعد بھی اس واقعے کی وجوہات پر بحث و تمحیص جاری ہے، تاہم زیادہ تر تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ اس قیامت خیز صبح تقریباً ایک لاکھ ٹن وزنی شہابِ ثاقب 53 ہزار کلومیٹر فی گھنٹا کی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سائبریا کی فضا میں زمین سے 28 ہزار فٹ کی بلندی پر پھٹ گیا، جس سے آس پاس کی ہوا کا درجہٴ حرارت 25 ہزار ڈگری سنٹی گریڈ ہو گیا۔ اس زبردست تپش اور شدید دباؤ سے شہابِ ثاقب کے ذرات بھی بخارات بن کر تحلیل ہو گئے، یہی وجہ ہے کہ تحقیقاتی ٹیم کو زمین پر اس کے ٹکرانے کے کوئی آثار نظر نہیں آئے۔ لیکن دھماکے سے پیدا ہونے والی حرارت اور شاک لہروں نے ضرور زمین کا رخ کیا اور تنگس کا کے بڑے علاقے کو تاخت و تاراج کر ڈالا۔ ماہرینِ فلکیات کہتےہیں کہ تنگس کا جیسے واقعات معمول کی بات ہیں اور ماضی میں زمین پر اس سے کہیں بڑے شہابِ ثاقب ٹکرا چکے ہیں۔ خوش قسمتی سے یہ واقعہ انسانی آبادی سے بہت دور پیش آیا، ورنہ اگر یہی شہابِ ثاقب کسی شہری علاقے کو نشانہ بناتا تو اس کے نتیجے میں جو ہول ناک تباہی پھیلتی، اسے تصور میں لانا بھی محال ہے۔