 |
| رچرڈ باؤچر نے یکم جولائی کو لاہور میں نواز شریف سے ملاقات کی |
پاکستان مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم نواز شریف نے معاون امریکی وزیر خارجہ رچرڈ باؤچر کے اس بیان کو مسترد کردیا ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتوں کو صدر پرویز مشرف کے مستقبل کے معاملے پر آپس کی تکرار کی بجائے ملک کو درپیش بجلی ، توانائی ، خوراک کی قیمتوں اور انتہا پسندی میں اضافے جیسے بحرانوں کو حل کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
جمعرات کو لندن روانگی سے قبل اسلام آباد میں صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے نواز شریف نے کہا کہ پاکستان نے ایک غیر آئینی صدر کے ساتھ کیا کرنا ہے یہ اس کا اندرونی معاملہ ہے اور اس میں انہیں کسی بیرونی مشاورت کی ضرورت نہیں ہے۔
نواز شریف نے پیپلز پارٹی کی حکومت کے بعض حالیہ فیصلوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے ایک بار پھر کہا کہ مسلم لیگ ن حکمران اتحاد کی دوسری بڑی جماعت ہے لیکن ان تما قومی امور پر اسے اعتماد میں نہیں لیاگیا۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی علاقوں میں شروع کیے گئے آپریشن ، تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے حوالے سے ان کی جماعت کواعتماد میں نہیں لیاگیا ۔ مسلم لیگ ن کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ججوں کی بحالی کے معاملے پر بھی پیش رفت نہ ہونے کی وجہ سے پاکستانی عوام مایوسی کا شکار ہیں۔
ادھر وزارت خارجہ کے ترجمان محمد صادق نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں رچرڈ باؤچر کے بیان کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ انہیں اس بیان میں کوئی قابل اعتراض بات دکھائی نہیں دیتی اور صدر مشرف کو پاکستان کا صدر تسلیم کرنے سے متعلق امریکی عہدیدار کے مئوقف سے بھی انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
واضح رہے کہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران جب معاون امریکی وزیرخارجہ سے صدر مشرف کی آئینی حیثیت کے بارے میں امریکی مئوقف جاننے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کہا کہ امریکہ انہیں صدر تسلیم کرتا ہے اور ان کی اسی حیثیت میں صدر مشرف سے تعلقات استوار رکھے ہوئے ہے۔