اسٹیٹ
بینک آف پاکستان میں مالیاتی شعبے کی ترقی اور استحکام کے لیے دس سالہ حکمتِ عملی
کا آغاز کر رہا ہے۔
گورنراسٹیٹ بینک ڈاکٹر شمشاد اختر کا کہنا ہے کہ حکمتِ
عملی کی تیاری کا بنیادی مقصد ٹھوس اور پائیدار بنیاد پر اقتصادی ترقی کا حصول
ہے،جِس کے لیے ایک فعال،مستحکم اور مضبوط بینکاری نظام کا قیام ضروری ہے۔ ایسا
نظام، ملک میں مقامی اور بیرونی وسائل کے ذریعے غریب اور محروم علاقوں تک بینکاری کی
خدمات اور سہولتیں فراہم کرنے میں معاون ہوگا۔
واضح رہے کہ گذشتہ چند برسوں میں ملک کے بینکاری کے شعبے
میں نمایاں ترقی ہوئی ہے اور اِس شعبے میں بھاری غیر ملکی سرمایہ کاری دیکھنے میں
آئی ہے۔
ڈاکٹر اختر کا کہنا ہے کہ نئی حکمتِ عملی کے ذریعے آئندہ
چار پانچ برس میں بینکاری کے شعبے کو ترقی اور کارکردگی کی نئی بلندیوں تک پہنچایا
جائے گا۔
اُنہوں نے معیشت میں نجی شعبے کے کردار کی اہمیت اجاگر کرتے
ہوئے کہا کہ نجی شعبہ ترقی کا ایک انجن ہے اور نئی حکمتِ عملی کے ذریعے پاکستانی
بینک نجی شعبے کو ملکی اور غیر ملکی وسائل مہیا کرنے کے لائق ہو سکیں۔
اُنہوں نے حکمتِ عملی پر عمل درآمد کے تقاضوں اور ضروریات
کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ اگر تمام عوام متحرک اور فعال ہو کر اِسے کامیاب بنائیں
تو ملکی مالیاتی اثاثوں میں تیز رفتار اضافہ ہوگا اور کم وقت میں قومی پیداوار میں
نجی شعبے کا حصہ دوگنا ہو جائے گا۔
منصوبے کے تحت چھوٹی بچت کرنے والوں، زراعت، ہاؤسنگ، چھوٹی
صنعتوں اور مائیکرو فنانس اسکیموں کے ذریعے قرضہ لینے والوں کی ضروریات پوری کرنے
میں مدد ملے گی جِس سے معیشت کی رفتار تیز ہوگی۔