ہر سال 4
جولائی کو امریکی اپنے ملک کا یومِ آزادی مناتے ہیں۔ اس دن کو برطانوی راج کے تسلط
سے آزادی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ ہر ملک کی طرح امریکیوں کے لیے بھی اپنا یومِ
آزادی بہت اہمیت رکھتا ہے لیکن یہ سوال بھی کیا جاتا ہے کہ جن اصولوں پر اس ملک کی
بنیاد رکھی گئی تھی، آج امریکہ ان پر کس حد تک عمل پیرا ہے۔
امریکی تھنک
ٹینک ایس اے آئی ایس کے اسکالر والٹر اینڈرسن اس سوال کے جواب میں کہ وہ کونسے
عوامل ہیں جنہوں نے امریکہ کو دنیا کی ایک سپر پاور بنا دیا ، کہنا تھا کہ میرے
خیال میں چند چیزوں نے امریکہ کو دنیا میں نمایاں مقام دلانے میں بہت اہم کردار
ادا کیا۔ اُن میں سے ایک تو اچھی قسمت ہے۔ خوش قسمتی سے امریکہ کو اپنے محل وقوع
سے بہت فائدہ ہوا۔ امریکہ دنیا کے جس خطے میں واقع ہے ، وہاں کوئی ایسی بڑی طاقت
موجود نہیں تھی۔ جس سے اسے کوئی خطرہ ہوتا۔ پھر 19 ویں صدی کے دوران برطانیہ نے
امریکہ کے لیے ایک ڈھال کا کام کیا تاکہ یورپ کی کوئی طاقت یہاں اپنا تسلط قائم نہ
کرسکے۔ ایک خوش نصیبی یہ رہی کہ کسی بھی ملک کی معاشی اور صنعتی ترقی کے لیے
جو قدرتی وسائل درکارہوتے ہیں وہ سب یہاں
موجود تھے۔ امریکہ کی ترقی کی ایک اور بڑی وجہ وہ افرادی قوت تھی جو یورپ سے یہاں
آئی۔ یہ لوگ ہنرمند، تعلیم یافتہ اور جمہوری ذہن رکھنے والے تھے۔ پھر امریکہ کے
بانیوں نے جمہوریت اور شخصی آزادی کے جو اصول وضع کیے ، انہوں نے بھی امریکہ کو
مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔
امریکہ میں
عوام کو شخصی آزادیاں اور حقوق حاصل ہوئے
چند دھائیاں ہی ہوئی ہیں۔ ماضی میں امریکہ بھی کئی دوسرے معاشروں کی قدیم رسم وقیود
کاشکار تھا اور معاشرے کے کئی طبقوں خصوصاً عورتوں کو حقوق حاصل نہیں تھے۔ مگر آج
امریکہ میں دنیا کے اکثر ممالک سے کہیں زیادہ آزادیاں اور آگے بڑھنے کے مواقع
موجود ہیں۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے والراینڈرسن کہتے ہیں کہ امریکہ کی بنیاد جمہوریت اور عوام کو ان کی رائے کا حق دینا تھا۔
اس اعتیار سے دیکھا جائے تو امریکہ اپنے قیام کے مقاصد سے دور نہیں ہوا۔ بلکہ کئی
اعتبار سے ان تصورات کو زیادہ مضبوط بنایا گیا ہے جو کہ امریکہ کے با نیوں کے
سامنے تھے۔ مثلاً 20 صدی تک عورتوں کو ووٹ دینے کا حق نہیں تھا۔ پھر سیاہ فام
آبادی کے ساتھ امتیازی رویوں کو سماج میں
قبولیت حاصل تھی۔ اس سے قبل یہاں غلامی بھی تھی۔ اب ہم نے ان منفی رویوں سے نجات
حاصل کرلی ہے۔
امریکہ پر
بعض حلقوں کی جانب سے یہ تنقید کی جاتی ہے
کہ وہ ماضی میں عالمی جنگوں میں شریک ہوتا رہا ہے جن کا مقصد دوسرے ممالک اور
قوموں پر غلبہ حاصل کرناتھا ۔ والٹر اینڈرسن اس کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
میرے خیال میں امریکہ پر یہ تنقید درست نہیں ہے ۔ اگر آپ امریکہ کی تاریخ پر نظر
ڈالیں تو یہ اندازہ ہوگا کہ امریکہ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں شریک نہیں ہونا
چاہتا تھا۔ اسے محض مجیوری کی حالت میں ان
جنگوں میں حصہ لینا پڑا۔ امریکہ کی آبادی جن لوگوں پر مشتمل تھی ، وہ تو باہر کی
دنیا کو بھلا کر اور چھوڑ کر یہاں آئے تھے۔ ہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد تبدیلی آئی
کیونکہ اس وقت ہم سپر پاور بن چکے تھے۔ اس کے بعد امریکہ نے عالمی سیاست میں مثبت
کردار ادا کیا۔ ہم نے اقوام متحدہ بنوائی ۔ دیگر عالمی ادارے جیسے کہ ورلڈ بینک کی
تشکیل میں مدد دی تاکہ غریب ممالک کی مدد کی جاسکے۔ امریکہ سے یقنناً غلطیاں بھی
ہوئی ہیں۔ ڈکٹیٹرز کی حمایت کرکے یا غلط موقعوں پر جمہوریتوں کے قیام کی کوشش کی۔