مالی سال کے آخر میں بڑی ادائیگیوں اور متوقع زرِ مبادلہ نہ
آنے کی وجہ سے پاکستانی روپے کی قدر میں ایک مرتبہ پھر بڑی کمی ہوئی ہے۔
اِس وقت کھلی منڈی میں امریکی ڈالر 69روپے90پیسے اور انٹر
بینک مارکیٹ میں 69روپے 70پیسے کا ہوگیا ہے، جو ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی
کی کم ترین سطح ہے۔
مارکیٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ ہر سال جون اور جولائی میں
بیرونی ادائیگیوں کا دباؤ زیادہ ہوتا ہے جِس کی وجہ سے روپے پر دباؤ آتا ہے مگر
اِس مرتبہ ایک بڑا سبب ملک میں متوقع ڈالر
کے آمد نہ ہونے کی وجہ سے بھی طلب اور رسد میں بڑھتے ہوئے فرق نے روپے کو کمزور
کیا۔
گورنر اسٹیٹ بینک اور دیگر اعلیٰ حکومتی عہدے دار یہ دعویٰ
کرتےرہے ہیں کہ 30جون سے قبل ملک میں تقریباً ساڑھے تین ارب ڈالر کی آمد متوقع
ہے۔تاہم،ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم سی بی بینک کے 15فی صد شیئرز کی فروخت سے حاصل
ہونے والے ڈالرز کے علاوہ کسی بڑی رقم کی ترسیل ابھی تک سامنے نہیں آئی۔
یہ رقم دوست ملکوں اور مالیاتی اداروں کی طرف سے مہیّا کی
جانی تھی۔
اِس صورتِ حال کی وجہ سے زرِ مبادلہ کے ذخائر بھی مسلسل گر
رہے ہیں اور گذشتہ چھ ماہ میں پانچ ارب ڈالر سے زائد کمی کے ساتھ زرِ مبادلہ کے
ذخائر اِس وقت 11ارب 29کروڑ ڈالر کی سطح پر آگئے ہیں۔
منی مارکیٹ ڈیلر، نبیل احمد کا کہنا ہے کہ روپے کی قدر کے
حوالے سے بے یقینی ہے جو آنے والے دِنوں میں بھی برقرار رہنے کا خدشہ ہے،جِس سے
روپے کی قدر میں مزید کمی آسکتی ہے۔
اسٹیٹ بینک اور حکومت کی طرف سے روپے پر دباؤ کم کرنے کے
لیے کیے گئے اقدامات کامیاب نظر نہیں آتے۔