 |
حسن ہابرے
|
اس سال
انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنے بین الاقوامی فلم میلے میں ایک
دستاویزی فلم شامل کی ہے جس کی کہانی کا محور تنظیم کا ایک قانون دان اور چاڈ کا
ایک سابق سیاسی قیدی ہے۔ وہ حکومت کی مدد کے بغیر چاڈ کے سابق ڈکٹیٹر کو قانون کے
کٹہرے میں لانے کے لیے کام کرتے ہیں۔ تین براعظموں اور کئی برسوں پر محیط اس فلم
کی کہانی تجسس سے بھرپور ہے۔
ڈچ فلم ساز
کلیر چہ کوی رینزکی فلم ڈکٹیٹر ہنٹر کا آغاز انسانی حقوق کی تنظیم واچ کے ایک
قانون دان ریڈ براڈے کے چاڈ کے دورے سے ہوتا ہے۔وسطی افریقہ کے اس ملک میں امریکی
پشت پناہی سے حسن ہابرے1982 میں اقتدار میں آیا۔ہابرے نے ایک خفیہ پولیس بنائی جس
نے، انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق ہزاروں افراد کو یا تو ہلاک کردیا یا پھر
جیلوں میں ڈال دیا۔
انسانی حقوق
کی عالمی تنظیم واچ کے لیے کام کرنے والے ایک وکیل ریڈ براڈے کہتے ہیں کہ اگر آپ
ایک شخص کو ہلاک کرتے ہیں تو آپ کو جیل جانا پڑتا ہے ۔ اگر آپ 40 لوگوں کو ماردیتے
ہیں تو آپ کو پاگل سمجھ کر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ لیکن اگر آپ 40 ہزار لوگوں کو ہلاک
کردیتے ہیں تو آپ کو اپنے بینک اکاؤنٹ کے ساتھ کسی دوسرے ملک میں باعزت پناہ مل
جاتی ہے۔ ہم یہ تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔
چاڈ کا ایک
سابق سیاسی قیدی سو لی مان گِنگ گِنگ اس فلم کا دوسرا اہم کردارہےجسے نیویارک میں
انسانی حقوق کی تنظیم واچ کے بین الاقوامی فلمی میلے میں دکھایا گیا۔ حسنے ہابرے
کو 1990 میں اقتدار سے الگ ہونا پڑا ۔ اور وہ سینی گال میں ایک پرتعیش جلاوطنی
گذارنے لگا۔ گِنگ گِنگ کو جیل سے رہائی ملی ۔ اس نے متاثرہ افراد کی ایک تنظیم
بنائی اورشہادتیں اکھٹی کرنی شروع کیں اورپھر اسے دھمکیوں کے پیش نظر چاڈ چھوڑ
پڑا۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ صرف خدا پر کامل یقین تھا کہ وہ ایذیتوں کے باوجود زندہ
رہا۔
فلم ساز
کیوری جنز گِنگ گِنگ اور براڈی سے نیویارک
میں انسانی حقوق کی تنظیم واچ کے دفتر میں ایک ساتھ ملا اور انہوں نے یہ ہابرے کو
قانون کے کٹہرے میں لانے لیے مہم کی منصوبہ بندی کی۔
کیوری کہتے
ہیں کہ میں نے ان دو افراد پر فلم دیکھی جس کا ایک کردار قانون اور دوسرا خداپر
اعتقاد رکھتا تھا۔ وہ دونوں بہت مصیبت زدہ تھے۔ میں نے ڈرامے کے نکتہ نظر سے سوچا
کہ یہ بہت ہی دلچسپی کی حامل کہانی ہے کہ ایک کالا شخص، جس کے پاس کاغذات نہیں
ہیں، نیویارک میں چھپا ہوا ہے۔ وہ اپنے خاندان سے نہیں مل سکتا۔ وہ دونوں ایک
ڈکٹیٹر کا پیچھا کررہے ہیں ۔ مگر یہ کارروائی افریقہ میں کی جاتی ہے۔
چاڈ کے ایک
منظر میں ، جیل کا ایک سابقہ قیدی بتاتا ہے کہ کس طرح ہر رات جیل میں کچھ قیدی مرجاتے
تھے یا انہیں پھانسی دے دی جاتی تھی۔بعد میں کچھ مقامی عورتیں اس جگہ جاتی ہیں
جہاں مرنے والے قیدیوں کو دفن کیا گیا تھا۔
کیوری کہتے
ہیں کہ اور وہ منظر جہاں وہ ہاتھ اوپر اٹھاتی ہیں ، اس بات کی علامت ہے کہ وہ
پریشان اور برہم ہیں ۔ میں وہ دیکھ رہا تھا اور مجھے کچھ معلوم نہیں تھا۔ مجھے
یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ کیمرے کےسامنے ہورہا ہے۔ آپ کو یہ یقین کرنا پڑتا ہے کہ
اکثر عورتیں وہاں کبھی نہیں گئیں اور ہوسکتا ہے کہ وہاں ان کے خاوند یا خاندان کے
افراد دفن ہوں۔ یہ ان کے لیے ایک بہت ہی جذباتی لمحہ تھا۔
فلم ڈکٹیٹر
ہنٹر زیادہ تر حسنے ہابرے پر مقدمہ چلانے کی بین الاقوامی مہم پر مرکوز ہے۔افریقی یونین کی ایک رولنگ کے بعد دو سال قبل
سینی گال چاڈ کے سابق ڈکٹیٹر پر مقدمہ چلانے پر راضی ہوگیا تھا۔ مگر ابھی تک اس پر
مقدمہ نہیں چلا۔ ریڈ براڈے اور سلیمان گنگ گنگ کا کہنا ہے کہ اس پر عمل ہونے کے
بعد وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دوسرے واقعات کو سامنے لائیں گے چاہے
حکومتیں ان کا پیچھا نہ کریں مگر ظلم کا
نشانہ بننے والے ضرور کریں گے۔