 |
اصفہان میں یورنیم کی افودگی کے کارکانے کا فضائی منظر (فائیل فوٹو)
|
ایران کے سرکاری میڈیا کا کہنا ہے کہ ایرانی متنازعہ ایٹمی
پروگرام کو روک دینے کے عوض اسے ترغیبات کا جو پیکیج پیش کیا گیا تھا ، اس کے بارے
میں ایرانی حکومت ن اپنے ردّعمل سے باضابطہ طور پر عالمی طاقتوں کو آگاہ کر دیا
ہے۔
ابھی تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس ردِ عمل کے مندرجات کیا
ہیں۔ تاہم سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ بتایا ہے کہ آج جمعہ کے دن بیلجیم میں ایران کے
سفیر نے یورپی یونین کے امور خارجہ کے پالیسی سربراہ ہاویئر سولانا کو اپنی حکومت
کا جواب پہنچا دیا ہے۔
اس سے پیشتر سولانا کے ترجمان نے بتایا تھا کہ یورپی یونین
کے سفارت کار نے آج جمعہ کے روز ایران کے ایٹمی معاملات کے اعلیٰ مذاکرات کار سعید
جلیلی سے ٹیلی فون بات چیت کی جو خاصی مثبت اور تعمیری تھی۔ ترجمان نے ایران کے
سرکاری جواب کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔
پچھلے ماہ سولانا تہران گئے تھے اور روس، امریکہ ، چین،
فرانس، جرمنی اور برطانیہ سمیت چھ عالمی طاقتوں کی جانب سے تجارتی اور اقتصادی
ترغیبات کا ایک پیکیج پیش کیا تھا، بشرطیکہ وہ یورینیم کی افزودگی بند کردے۔
ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ وہ یورینیم کی افزادگی معطل کیے
بغیر اس پیکیج کی تفصیلات پر بات چیت کے لیے تیار ہے۔