Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

سیکیورٹی کے سخت انتظامات نے امریکہ کو گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی سے محفوظ رکھا ہے


August 18, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

September 11 Attack
گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والا  حملہ
گیارہ ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گردی کے حملوں نے امریکہ پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کئے اور یہ سوال شدت سے کیا جانے لگا کہ دنیا کی واحد سپر پاور ہونے کے باوجود امریکہ اپنی سرزمین کو چند حملہ آوروں سے کیوں محفوظ نہیں رکھ سکا۔  بش انتظامیہ نے گیارہ ستمبر کے ذمہ داروں کو  سزا دینے کے اعلان کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ کا آغاز کیا اور اسکا مقصد دنیا امریکہ اور باقی دنیا کو اس قسم کی دہشت گردی سے محفوظ رکھنا بتایا گیا۔  گیارہ ستمبر کے بعد دنیا کے بہت سے علاقوں میں دہشت گردی کے کئی واقعات رونما ہوچکے ہیں لیکن امریکہ میں اس کے بعد سے ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔  اسکے باوجود گیارہ ستمبر کے مقابلے میں آج کے امریکہ کے کم یا زیادہ محفوظ ہونے کے بارے میں رائے عامہ منقسم ہے۔  کوری سیلر امریکی مسلمانوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیم کئیر کے لیجسلیٹو ڈائرکٹر ہیں۔ 

وہ کہتے ہیں کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ گیارہ ستمبر 2001 کے مقابلے میں آج زیادہ غیر محفوظ ہے اور اسکی وجہ یہ ہے کہ صدر بش نے دنیا بھر میں بہت سے دشمن بنالیے ہیں۔  جہاں تک امریکہ کے اندر حملے نہ ہونے کی بات ہے تو اسکی بہت سی وجوہات ہیں، قانون نافذ کرنے والے اداروں  کی کارکردگی قابلِ تعریف رہی  ہے اسکے ساتھ ساتھ امریکہ میں مقیم مسلم کمیونٹی نے بھی انتہائی ذمہ داری کا مظاہرہ کیا ہے۔  انہوں نے اسامہ بن لادن کے پیغام کو نہ صرف مسترد کردیا ہے بلکہ مسلم کمیونٹی نے اس بات کو یقینی بنانے کے لیے امریکہ میں بہت کام کیا ہے کہ یہاں انتہاپسندی فروغ نہ پاسکے۔

لیکن گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ میں دہشت گردی کے مزید واقعات کو روکنے کے معاملے میں بہت سے امریکی مبصرین صدر بش کو کریڈٹ دیتے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ امریکہ اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہے۔


ہیری ٹیج فائڈیشن کے اسکالر برائن ڈارلنگ کا کہنا ہے کہ میرے خیال سے صدر بش کے دورِ صدارت میں امریکہ پہلے کے مقابلے میں زیادہ محفوظ ہوا ہے۔  گیارہ ستمبر کے واقعات کے بعد صدر بش کی صدارت کا محور امریکہ کو زیادہ محفوظ بنانا تھا اور اس مقصد کے لیے انھوں نے داخلی سلامتی کا محکمہ ڈپارٹمنٹ آف ہوم لینڈ سیکورٹی قائم کیا۔  حالانکہ انھیں اس معاملے میں کانگریس کی جانب سے کچھ مزاحمت کا سامنا بھی کرنا پڑا لیکن صدر نے ایک ایسا محکمہ  قائم کردیا جس کی ذمہ داری امریکہ کو اندرونی خطروں سے محفوظ رکھنا ہے۔  صدر بش نے دہشت گردوں کو امریکہ سے رقوم کی منتقلی کے لیے بھی زبردست اقدامات کیے اور  اسکے ساتھ ساتھ وائرٹیپنگ کے ذریعے ایسی معلومات اکھٹاکرنے کا کام کیا جس کی مدد سے دہشت گردی کی منصوبہ بندی کے بارے میں معلوم کیا جاسکے۔  سب سے اہم بات یہ ہے کہ چونکہ گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ میں دہشت گردی کا کوئی حملہ نہیں ہوا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ صدر بش امریکہ کی داخلی سلامتی کو یقینی بنانے میں کامیاب رہے ہیں۔ 

گیارہ ستمبر کے بعد سے امریکہ کو محفوظ رکھنے اور دہشت گردی کے مزید واقعات کے روکنے کے لیے جو اقدامات کئے گئے ان میں سے بعض اقدامات کو بہت سے حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور یہ کافی حد تک متنازع بن گیئے جیسے کہ وائرٹیپنگ اور لوگوں کی سرگرمیوں کی نگرانی کرنا۔  انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان اقدامات کو شخصی آزادیوں پر ضرب قرار دیا۔ 

کوری سیلر کہتے ہیں کہ صدر بش نے اپنے دورِ صدرارت میں حکومتی اختیارات میں بے پناہ اضافہ کرلیا جو کہ امریکہ کے روائتی طرزِ حکومت کے برعکس ہے۔  اسکے نتیجے میں امریکیوں کی شخصی اور شہری آزادیاں کافی حد تک متاثر ہوئیں۔

لیکن بعض مبصرین کے رائے اس سے مختلف ہے۔  برائن ڈارلنگ کا کہنا ہے کہ میں نہیں سمجھتا کہ  کسی شہری کی شحصی آزادیاں متاثر ہوئی ہیں کیونکہ امریکہ میں اظہار رائے کی آزادی  مقدس ہے  اور اسے  آئینی تحفظ حاصل ہے۔ صدر بش نے جو اقدامات کیے ان کے ذریعے صرف معلومات اکھٹا کی گئ جسے آپ ڈیٹاکلیکشن کہہ سکتے ہیں۔  اس عمل کے ذریعے دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے اہم معلومات پر نظر رکھی جاتی ہے اور دہشت گردوں کو سرمائے کی فراہمی روکنے کے اقدامات کئے جاتے ہیں۔  قوانین میں تبدیلیاں یقینناً آئی ہیں لیکن بنیادی اصول نہیں بدلے اورہر شخص کو شہری آزادیاں حاصل ہیں اور حاصل رہیں گی۔

امریکہ کو محفوظ رکھنے کے معاملے پر رائے عامہ کے منقسم ہونے کے باوجود امریکہ میں یہ احساس شدت سے موجود ہے کہ حفاظت کے نام پر کیے جانے والے اقدامات کی وجہ سے امریکہ کے روائیتی طرزِ زندگی پر منفی اثرات مرتب ہوئے

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں

  مزید خبریں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available