امریکہ کی سابق سفیر اور سینٹر فار سٹریٹیجک انٹرنیشنل سٹڈیز سے منسلک سکالر ٹیریسیٹا شیفر کا کہنا ہے کہ یہ پاکستان کے لیے ایک اہم قدم تھا اور اب پاکستان کی حکومت کو اپنی ترجیحات کا تعین کرنا چاہیے، تاکہ پاکستان کی عوام کو درپیش مسائل کی طرف توجہ دی جا سکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سٹرٹیجی کے تحت پاکستان کو امریکہ کے ساتھ اپنا اتحاد قائم رکھنے کے علاوہ انسداد دہشت گردی پر بھی مزید توجہ دینی ہو گی۔
اسی موضوع پر ہم نے ریٹائرڈ بریگیڈیر اور جان ہاپکنز کے سکول آف ایڈوانسڈ انٹرنیشنل سٹڈیز سےمنسلک سکالر جناب نعیم سالک سے گفتگو کی۔ ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے استعفا دینے سے سیاسی فضا میں جو تلخی تھی، وہ کم ہو جانی چاہیے۔ انسداد دہشت گردی کے موضوع پر بات کرتے ہوئے بریگیڈیر سالک نے کہا کہ اس حوالے سے پاکستان اور امریکہ کے مفادات یکساں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے مستعفی ہونے سے پاکیستان میں سیاسی حالات بہتر ہو جانے چاہئیں کیونکہ اب پاکستان کے حکمرانوں کی راہوں سے وہ کئی رکاوٹیں دور ہو گئی ہیں جن سے ان کو شکایت تھی۔