فراق کو اپنی شعری عظمت کا احساس تھا۔ اسی لیے اکثر مشاعروں میں وہ یہ شعر پڑھتے تھے۔
آنے والی نسلیں تم پر رشک کریں گی ہم عصر و جب بھی ان کو خیال آئے گا تم نے فراق کو دیکھا تھا
لیکن ابھی فراق کے انتقال کو ربع صدی سے زائد ہی عرصہ گزرا ہے اور ان کے اشعار کی چمک ماند ہو نے لگی ہے۔ اس کا سبب جو بھی ہو مگر ربع صدی میں صرف 1996ء میں ہی فراق کا کچھ ذکر آیا۔ جو ان کی پیدائش کا صدی سال تھا۔ اس موقع پر ہی سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر دو چار سیمنار ہو ئے۔مگر ان کی شاعری پر سنجیدگی سے اظہا رخیال نہیں ہوا۔
اس کے علاوہ 2003ء میں کراچی میں ایک تین روزہ سیمینار بھی منعقد کیا گیا تھا جس میں فراق کی زندگی اور فن پر مقالے پڑھے گئے تھے۔
اردو شاعری کی ایک تثلیث تھی، جو جو ش ،فراق اور مجاز پر مشتمل تھی۔ مجاز کا جوانی میں ہی انتقال ہو گیا تھا، مگر اپنی رومان پرور شاعری کے سبب ان کا نام اب بھی زندہ ہے۔ جو ش کو شاعر انقلاب کا خطاب ملا اور وہ اپنے الفاظ کی گھن گرج کے سبب علاحدہ شناخت کے حامل ہیں اور فراق کو اساطیر اور ہندو دیو مالا کے استعمال کے سبب منفرد مقام حاصل ہے۔ مگر اس کے باوجد ان کی شاعری کے اوصاف کو اجاگر کرنے پر ناقدین نے زیادہ توجہ نہیں دی۔
رگھوپتی سہائے فراق گورکھپوری 28اگست 1896ءکو گورکھپور کے ایک معزز کائستھ خاندان میں پیدا ہوئے تھے۔ فراق کا آبائی گاوں بنوار پار تحصیل بانس گاوں، گورکھپور، اترپردیش میں واقع ہے۔ ان کے آباءکو شیر شاہ سوری کے دور حکومت میں یہ علاقہ جاگیر کے طور پر ملا تھا اور تبھی سے خاندان ’پانچ گاوں کے کائستھ ‘کے نام سے مشہور ہے۔ ان کے والد بابو گورکھناتھ پرساد شہر کے نامور وکیل تھے۔ وہ اردو کے شاعر تھے اور عبرت تخلص کرتے تھے۔ اس لحاظ سے شاعری فراق کو ورثہ میں ملی تھی۔
فراق کی ابتدائی تعلیم گورکھپور میں ہوئی تھی۔اس کے بعد اعلی تعلیم کے لئے وہ الہ آباد چلے گئے اور پھر ہمیشہ وہیں کے ہو رہے۔ الہ آباد یونیورسٹی میں 1930ءمیں انگریزی کے استاد ہوئے اور پھر پوری زندگی الہ آباد میں ہی گزاری۔
فراق کی زندگی کا سب سے کربناک پہلو ان کی خانگی زندگی ہے۔ ان کی شادی 18سال کی عمر میں کشوری دیوی سے ہوئی تھی۔ فراق اس المیہ کا ذکر نقوش لاہور کے شخصیات نمبر میں یوں کرتے ہیں۔
’اندازاً 18سال کی عمر میں میری شادی کر دی گئی۔ میری شادی نے میری زندگی کو ایک زندہ موت بنا کر رکھ دیا۔ زندگی کے عذاب ہو جانے کے باوجود میں نے خودکشی نہیں کی ، نہ پاگل ہوا ، نہ جرائم پیشہ بنا زندگی کی شرافت کی جو قدریں مان چکا تھا ان کا میں نے سہارا لیا۔‘
ان کی زندگی کے اس کربناک پہلو کا ذکر فراق کے جگری دوست جوش ملیح آبادی اپنی سر گذشت ’یادوں کی برات ‘ میں یوں کرتے ہیں ’کہ ان کا جو اپنی رفیقہ ٴحیات سے برتاؤ تھا وہ سینہٴ انسانیت کا ہولناک گھاؤ ہے اور شدائد سے تنگ آکر ان کا بیٹا خود کشی کر چکا ہے۔‘
فراق صاحب کا یہ کرب انہیں شاعری کی جانب لے گیا۔ انہوں نے 1922ء سے شاعری شروع کی تھی اور ابتدائی دور میں وسیم خیر آبادی سے اصلاح لی تھی، جو امیر مینائی کے شاگرد تھے۔ فراق نے شعوری طور پر کوشش کی ہے کہ وہ اسلوبِ میر کو برتیں:
فراق شعر وہ پڑھنا اثر میں ڈوبے ہوئے کہ یاد میر کے انداز کی دلا دینا
تمام شبنم و گل ہے وہ سر سے تابہ قدم رکے رکے سے کچھ آنسو، رکی رکی سی ہنسی
اب اکثر چپ چپ ہی رہے ہیں، یوں ہی کبھی لب کھولیں ہیں پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولیں ہیں
میر اور فراق بنیادی طور پر غزل کے عشقیہ شاعر ہیں۔ مگر دونوں کے عشق میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ میر کا عشق ان کے رگ و پے میں پیوست ہے۔ ان کو ذرے ذرے میں عشق نظر آتا ہے، یہاں تک کہ خود محبوب کی ذات اور اس کا حسن و جمال پس منظر میں چلا جاتا ہے اوراگر کچھ ان کے سامنے ہو تا ہے تو خود ان کا عشق۔ مگر فراق کا عشق موجودہ دور کا عشق ہے جو سر تا سر مجازی ہے:
وہ کوئی یوں ہی تھا جس نے مجھے مٹا ڈالا نہ کوئی نور کا پتلا، نہ کوئی ماہ جبیں
وہ بے قراریِ دل و فضائے تنہائی وہ سرزمینِ محبت، وہ آسمانِ فراق
رات بھی نیند بھی کہانی بھی ہائے کیا چیز ہے جوانی بھی
اگرچہ فراق نے رباعیاں اور نظمیں بھی لکھی ہیں، لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر تھے۔ ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوئے ہیں جن میں شعلہٴ ساز (1945)، روحِ کائنات (1945ء) رمز و کنایت (1947ء)، شبنمشتان (1947ء) وغیرہ شامل ہیں۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ یہ تمام مجموعے بازار میں دستیاب نہیں ہیں۔
فراق نے تنقید بھی لکھی۔ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ’اندازے‘کے نام سے شائع ہوا، جسے تاثراتی تنقید کا عمدہ نمونہ قرار دیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے ’اردو کی عشقیہ شاعری‘اور ’اردو غزل گوئی‘ کے نام سے بھی کتابیں لکھیں۔
1961ء میں فراق کو بھارت کی ساہتیہ اکیڈمی کی جانب سے اعلیٰ ترین ادبی اعزاز سے نوازا گیا۔