یوکرین کے دورے میں برطانیہ کے وزیرِ خارجہ ڈیوڈ مِلی بینڈ نے صدر یوشنکو اور یوکرین کے دوسرے عہدے داروں سے ملاقات کے دوران روس پر زور دیا ہے کہ وہ نئی سرد جنگ کا آغاز نہ کرے۔
ڈیوڈ مِلی بینڈ کے دورے سے ایک روز قبل روس نے جارجیا کے علاحدہ ہونے والے علاقوں، جنوبی اوشیٹیا اور ابخازیہ کی آزادی کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا ۔ ملی بینڈ نے روس کی طرف سے جارجیا کے دونوں روس نواز علاقوں کے آزاد ہونے کے اعلان کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی فوجی اتحاد قائم کرنے کا مطالبہ کیا تاکہ روس کی طرف سے اِس جارحیت کا مقابلہ کیا جاسکے۔ ملی بینڈ نے کہا کہ یورپی یونین اور نیٹو کی طرف سے اِس جارحیت کا مقابلہ اتنی ہی سخت روی سے کیا جائے۔اُنہوں نے کہا کہ عملی طور پر اِس کا مطلب یہ ہونا چاہیئے کہ ایسے اتحادی ممالک ہوں جو روسی اقدام کی مذمت کریں۔
ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ اِس بات سے مراد یہ ہے کہ روس کے ساتھ توانائی کے تعلقات کے توازن کو درست خطوط پر استوار کیا جائے اور بین الاقوامی اداروں کے مروجہ ضابطوں کا دفاع کیا جائے۔
بعدازاں یوکرین کے دارالحکومت کیف میں اخباری کانفرنس سے اپنے خطاب میں وزیرِ خارجہ نے روس سے مطالبہ کیا کہ وہ جارجیا کے بارے میں اپنی پالیسی کو تبدیل کرے:
’گذشتہ دو ہفتوں کے دوران روس کی طرف سے جو اقدامات کیے گئے ہیں اُن کے بارے میں ہماری سوچ میں یکسانیت ہے۔ یہ اقدام نہ صرف بین الاقوامی استحکام کو کمزور کرتے ہیں۔ نہ صرف یہ بلکہ، اِن کی وجہ سے دنیا میں روس کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔‘
میلی بینڈ کا کہنا تھا کہ وہ اور اُن کے یوکرین کے ساتھیوں نے اِس بات پر اتفاق کیا کہ جارجیاکے دو علاقوں کی علاحدگی کا مقصد خطے کے نقشے کو نیا رُخ دیناہے۔ اُنہوں نے اِس واقعے کو بے تحاشا اہمیت کا حامل قرار دیا۔ انھوں نے کہا ،’ہم بین الاقوامی ضابطوں کا د فاع کرنا چاہتے ہیں جوریاستوں کے اقتدارِ اعلیٰ، استحکام اور جمہوریت کے حرمت کی ضمانت دیتے ہیں۔‘
ملی بینڈ نے ایک مرتبہ پھر اِس طرح کی صورتِ حال کو حل کرنے کے لیے سفارتکاری کے استعمال کا اعادہ کیا۔
اُنہوں نے آٹھ ملکی صنعتی گروپ میں سے روس کی رکنیت کو معطل کرنے کے مطالبے کو مسترد کیا۔ تاہم اُنہوں نے مشورہ دیا کہ ضرورت اِس بات کی ہے کہ یورپی یونین اور نیٹو روس کے ساتھ اپنے تعلقات پر نظرِ ثانی کریں۔