گھڑیاں ایک گھنٹہ آگے کرنے کا فیصلہ 31اکتوبر تک برقرار
عائشہ خان کراچی August 27, 2008
وفاقی کابینہ نے بدھ کے روز اپنے ایک اجلاس میں فیصلہ کیا ہے کہ ملک بھر میں سورج کی روشنی سے فائدہ اُٹھانے کے لیے گھڑیوں کو ایک گھنٹہ آگے کرنے کی پالیسی کو 31اکتوبر تک برقرار رکھا جائے گا، کیونکہ اِس پالیسی کے مثبت نتائج سامنے آئے ہیں۔
حکومت کی جانب سے پہلے کیے گئے اعلان کے مطابق گھڑیوں کو یکم ستمبر کو دوبارہ پرانے وقت پر کردیا جانا تھا۔
حکومت کی جانب سے مختلف اقدامات کے باوجود کراچی سمیت ملک بھر میں توانائی کا بحران سنگین صورتِ حال اختیار کر گیا ہے۔ملک میں مجموعی طور پر بجلی کی رسد میں 4000سے 4500میگاواٹ کی کمی کا سامنا ہے جِس کے باعث ملک بھر میں روزانہ دس گھنٹے سے زائد لوڈشیڈنگ نے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔
دوسری جانب، کراچی میں درجہ ٴ حرارت میں اضافے کے ساتھ توانائی کی طلب میں اضافہ 24 ہزار میگاواٹ کے قریب پہنچ گیا ہے۔
کے ای ایس سی کے مختلف پیداواری یونٹوں میں خرابی کے باعث رسد میں کمی 600سے 700میگاواٹ کے قریب ہے جس کی وجہ سے شہر کے تمام علاقوں میں ہر دو گھنٹے کے بعد تین گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے۔
واضح رہے کہ دبئی کی کمپنی الابراج نے تاحال کے ای ایس سی کے انتظامی فرائض نہیں سنبھالے۔ اِس لیے ادارے میں انتظامی سربراہ نہ ہونے کی وجہ سے توانائی پیدا کرنے والے یونٹوں کو چلانے کے لیے فرنیس آئل کی خریداری اور سابقہ ادائگیوں میں تاخیر ہورہی ہے۔
توانائی کے اِس بحران نے لوگوں کے معمولاتِ زندگی کو شدید متاثر کر دیا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ توانائی کی عدم دستیابی اور حکومت کی جانب سے بجلی کی قیمتوں میں مزید 30فی صد اضافے سے عوام کے مسائل بڑھیں گے۔ دوسری جانب تاجروں کا کہنا ہے کہ توانائی کے بحران سے کاروبای اور تجارتی سرگرمیاں ماند پڑ گئی ہیں اور پیداواری عمل بھی متاثر ہو رہا ہے۔