اوباما کی باضابطہ نام زدگی سے امریکی سیاست کی نئی تاریخ رقم ہو گئی
August 28, 2008
ہلیری کلنٹن نے یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدارتی امیدوار کے لیے اوباما کا نام پیش کیا
امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی نے ڈینور میں ہونے والے انتخابی کنونشن کے موقعے پر براک اوباما کو اپنا صدارتی امیدوار نام زد کر کے نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اوباما پہلے سیاہ فام امریکی ہیں جنھیں کسی بڑی جماعت نے صدارت کے لیے نام زد کیا گیا ہے۔
جماعتی وابستگی کی غیر معمولی مثال کے طور پر اوباما کی سابق حریف سینیٹر ہلیری کلنٹن نے کنونشن میں موجود ڈیموکریٹ مندوبین سے کہاکہ وہ انفرادی ریاستوں کے ووٹنگ ملتوی کر دیں:
’مستقبل پر نگاہیں جمائے، یک جہتی کے جذبے کے ساتھ اور فتح کی امید لیے ہوئے اور اپنی جماعت اور ملک پر یقین رکھتے ہوئے، آئیے ہم اسی وقت، اسی جگہ یک آواز ہو کر اعلان کریں کہ براک اوباما ہمارے امیدوار ہیں اور وہی امریکہ کے صدر ہوں گے،‘انھوں نے کہا۔
ہلیری کلنٹن کی اس تقریر کے دوران کنونشن ہال کے اندر موجود حاضرین نے تالیاں بجا کر اوباما کی نام زدگی کا خیر مقدم کیا۔ ہلیری نے ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امریکی صدارت کے امیدوار کے لیے اوباما کا نام پیش کیا۔
اس کے بعد کنونشن کی صدر اور امریکی ایوانِ نمائندگان نینسی پیلوسی نے باضابطہ طور پر اوباما کو بطور امیدوار نام زد کیا۔
اس کے بعد مندوبین نے کنونشن ہال میں ناچنا اور گانا شروع کر دیا، کچھ لوگوں کی آنکھوں میں فرطِ جذبات سے آنسو آ گئے۔
اس نام زدگی کے بعد 47 سالہ اوباما نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے جان میک کین سے مقابلہ کریں گے۔