ہالی وڈ کی مشہور کمپنی وارنر برادرز نے بھارتی فلم کمپنی ’مرچی فلمز‘ کےخلاف کاپی رائٹس حقوق کے تحت قانونی چارہ جوئی کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ وارنر برادرز کو شکایت ہے کہ بھارت میں ستمبر میں ریلیز ہونے والی فلم’ہری پتّر، اے کامیڈی آف ٹیرر ‘ کا نام مشہور ہیری پوٹر سیریز سے کچھ زیادہ ہی مماثلت رکھتا ہے۔
ممبئی ہائی کورٹ میں مقدمے کی اگلی سنوائی دو ستمبرکو ہوگی۔ وارنر برادرز کے اِس قانونی قدم سے فلم ’ہری پتر‘ کے ہدایت کار لکی کوہلی اور راجیش بجاج پریشان ہیں، کیونکہ فلم کو 12 ستمبر کو پورے بھارت میں ریلیز کرنے کی تیاریاں عنقریب پوری ہو چکی ہے، ایسے میں فلم کے خلاف مقدمہ اُس کی ریلیز پر اثر ڈال سکتا ہے۔
مرچی موویز کے چیف ایکزیکیٹیو افسر منیش پوری نے دعویٰ کیا ہے اُن کی فلم کا ہیری پوٹر سیریز کی فلموں سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں، اور فلم کا ٹائٹل تین سال قبل رجسٹر کروایا گیا تھا۔ منیش کے مطابق ہندوؤں میں کسی شخص کا ہری نام ہونا ایک عام بات ہے جب کہ پنجابی زبان میں پُترلفظ کا مطلب بیٹا ہوتا ہے۔
ہری پتر
جہاں ایک طرف بچوں کے مشہور ناول ہیری پوٹر سیریز پر مبنی ہالی وڈ فلموں میں بھوت، چڑیل، جادوئی دنیا، چاکلیٹ سے بنے اُڑتے مینڈک اور الؤوں کابھی اہم رول ہے ونہی بالی وڈ فلم’ہری پتّر ‘کی کہانی دس سالہ بھارتی نژاد کے غیرملکی بچےکی کہانی ہے جو اپنے گھر میں تنہا رہتا ہے۔
واضح رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب کسی بھارتی فلم ساز پر انگریزی فلم کا چربہ کرنے کا الزام لگا ہے۔ اگر اِس طرح کی فلموں کی گنتی شروع کریں تو فہرست کافی طویل ہے۔ پھر چاہے وہ ’دھوم’ ہو یاپھر پارٹنر، کرِش ہو یا زندہ ، چاکلیٹ ہو یا ہم تم، بالی وڈ کے ہدایت کار ہالی وڈ کی فلموں سے اتنے زیادہ متاثر رہتے ہیں کہ وہ انگریزی فلم کی کہانی کو بھارتی فلموں میں استعمال کرنے سے بالکل نہیں ہچکچاتے۔