نہ یہ چاند ہو گا، نہ تارے رہیں گے، مگر ہم ہمیشہ تمہارے رہیں گے
یہ تو خیر شاعرانہ باتیں ہیں، لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ اگر واقعی چاندنہ ہوتا تو کیا ہوتا؟
زمین اور چاند کا ساتھ بڑا پرانا ہے۔ زمین تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آئی تھی، چاند زمین کے صرف 30 کروڑ سال بعد تشکیل پا گیا تھا۔اگر فرض کیا جائے کہ زمین کی کل عمر 24 گھنٹے ہے، تو چاند پہلے دس منٹ کے بعد ہی بن گیا تھا۔
اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر چاند آیا کہاں سے؟
زمین کو تخلیق ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس کی تاریخ کا سب سے ہول ناک واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ مریخ کی جسامت کا ایک سیارہ پانچ لاکھ کلومیٹر کی رفتار سے آیا اور زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے زمین کا بہت بڑا حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ بعد میں یہ ٹوٹا ہوا حصہ اور کچھ ٹکرانے والے سیارے کے ٹکڑے زمین کے گرد چکر لگانے لگے اور بعد میں انھوں نے چاند کی شکل اختیار کر لی۔
جب چاند وجود میں آیا، اس وقت وہ زمین کے بہت قریب تھا، یعنی تقریباً 25 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر۔ اور اس کی جسامت آسمان میں موجود چاند کے مقابلے پر 15 گنا زیادہ نظر آتی تھی۔ تاہم اس وقت زمین پر کوئی ذی روح نہیں تھا کہ اس دل کش نظارے سے لطف اندوز ہو سکتا۔
بحرِ اوقیانوس پر سے اٹھنے والا ایک طوفان
یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ چاند زمین کی سطح پر موجود پانی کو متاثر کرتا ہے اور سمندر کے مدوجزر سے چاند کی کشش کے باعث ہی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ زمین کا ٹھوس خول بھی چاند کی کشش سے متاثر ہوتا ہے۔ اس کھنچاؤ کی وجہ سے زمین کے خول میں حرارت پیدا ہوتی ہے، جس سے زمین کے درجہٴ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض ماہرینِ ارضیات نے نظریہ پیش کیا ہے کہ چاند کے اسی کھنچاؤ کی وجہ سے براعظموں کی حرکت، یعنی پلیٹ ٹیکٹونکس عمل میں آئی ہے۔ دوسرے سیاروں کا خول اس طرح سے حرکت نہیں کرتا بلکہ بالکل ساکن رہتا ہے۔
یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ براعظم بہت سست رفتاری سے مسلسل سفر میں ہیں۔ آج سے کروڑوں برس قبل برِصغیر افریقہ کے جنوب میں واقع تھا، لیکن یہ وہاں سے چلتا ہوا آیا اور ایشیا سے ٹکرا گیا۔ ہمالیہ کا عظیم پہاڑی سلسلہ اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔
اس کے علاوہ چاند کا موسم پر بھی اثر ہوتا ہے۔ آپ نے ال نینو کا ذکر سنا ہو گا۔ بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے اس موسمی مظہر کے پیچھے بھی چاند کا ہاتھ ہے کیوں کہ چاند کی کشش سے بادلوں اور ہواؤں پر بھی پر بھی اثر پڑتا ہے، جو آگے جا کر طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ چاند زمین کی حرکت کو متوازن رکھنے کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔ زمین کے اپنے محور پر مستقل 23 درجے کے زاویے پر برقرار رہنے کی وجہ کی وجہ سے چار موسم وجود میں آتے ہیں۔ اگر چاند نہ ہوتا تو یہ زاویہ قائم نہ رہ پاتا اور زمین ایک بے قابو لٹو کی طرح گھومتی جس کی وجہ سے موسم انتہائی بے ترتیب ہوتے۔ آج کڑاکے کی گرمی تو کل چلچلاتی ہوئی سردی۔
موسموں کا زندگی کے ارتقا پر بھی گہرا اثر ثبت ہوا ہے، چناں چہ اگر زمین کے موسم مختلف ہوتے، تو اس پر پائی جانے والی زندگی بھی کچھ مختلف ہوتی۔ کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس وقت زمین پر جو پیچیدہ زندگی، بہ شمول انسانوں کے، موجود ہے، وہ چاند کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ گویا اس نظریے کے مطابق اگر چاند نہ ہوتا، تو ہم بھی نہ ہوتے۔
اور جہاں تک انسانوں کی بات ہے، تو انسانی تاریخ میں شروع ہی سے چاند کی بہت اہمیت رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سمیت کئی مذاہب کے کیلنڈر کا انحصار چاند پر ہوتا ہے۔
اس کے علاوہ چاند کا سائنس کی ترقی پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔ چاند کا مشاہدہ کر کے ہی ماہرینِ فلکیات اس قابل ہوئے ہیں وہ دوسرے اجرامِ فلکی کا مطالعہ کر سکیں اور ان کی جسامت اور فاصلوں کا اندازہ لگا سکیں۔
ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ چاند وجود میں آنے کے بعد زمین سے صرف 25 ہزار کلومیٹر دور تھا، لیکن اس وقت چاند زمین سے تین لاکھ 76ہزار کلومیٹر دور ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ چاند زمین سے دور ہٹتا جا رہا ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نےتخمینہ لگایا ہے کہ چاند کے زمین سے دور ہٹتے کی رفتار ڈیڑھ انچ سالانہ ہے۔
گویا ایک دن واقعی ایسا آئےگا کہ چاند نہیں رہے گا۔ لیکن اس وقت یقیناً ہم بھی نہیں ہوں گے۔