Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

اگر چاند نہ ہوتا تو کیا ہوتا؟


August 28, 2008

[insert caption here]

نہ یہ چاند ہو گا، نہ تارے رہیں گے، مگر ہم ہمیشہ تمہارے رہیں گے

یہ تو خیر شاعرانہ باتیں ہیں، لیکن کبھی آپ نے سوچا کہ اگر واقعی چاندنہ ہوتا تو کیا ہوتا؟

زمین اور چاند کا ساتھ بڑا پرانا ہے۔ زمین تقریباً ساڑھے چار ارب سال پہلے وجود میں آئی تھی، چاند زمین کے صرف 30 کروڑ سال بعد تشکیل پا گیا تھا۔اگر فرض کیا جائے کہ زمین کی کل عمر 24 گھنٹے ہے، تو چاند پہلے دس منٹ کے بعد ہی بن گیا تھا۔

اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر چاند آیا کہاں سے؟

زمین کو تخلیق ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ اس کی تاریخ کا سب سے ہول ناک واقعہ پیش آیا۔ ہوا یوں کہ مریخ کی جسامت کا ایک سیارہ پانچ لاکھ کلومیٹر کی رفتار سے آیا اور زمین سے ٹکرا گیا۔ یہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس سے زمین کا بہت بڑا  حصہ ٹوٹ کر الگ ہو گیا۔ بعد میں یہ ٹوٹا ہوا حصہ اور کچھ ٹکرانے والے سیارے کے ٹکڑے  زمین کے گرد چکر لگانے لگے اور بعد میں انھوں نے چاند کی شکل اختیار کر لی۔
 
جب چاند وجود میں آیا، اس وقت وہ زمین کے بہت قریب تھا، یعنی تقریباً  25 ہزار کلومیٹر کے فاصلے پر۔ اور اس کی جسامت آسمان میں موجود چاند کے مقابلے پر 15 گنا زیادہ نظر آتی تھی۔ تاہم اس وقت زمین پر کوئی ذی روح نہیں تھا کہ اس دل کش نظارے سے لطف اندوز ہو سکتا۔

A false-color image provided by National Oceanic and Atmospheric Administration made at 5:15 a.m. EDT 26 Aug 2008 shows Hurricane Gustav as it approaches southern coast of Haiti<br />
بحرِ اوقیانوس پر سے اٹھنے والا ایک طوفان
یہ تو ہر کوئی جانتا ہے کہ چاند زمین کی سطح پر موجود پانی کو متاثر کرتا ہے اور  سمندر کے مدوجزر سے چاند کی کشش کے باعث  ہی پیدا ہوتے ہیں۔ لیکن اس کے علاوہ زمین کا ٹھوس خول بھی چاند کی کشش سے متاثر ہوتا ہے۔ اس کھنچاؤ کی وجہ سے زمین کے خول میں حرارت پیدا ہوتی ہے، جس سے زمین کے درجہٴ حرارت میں اضافہ ہوتا ہے۔ بعض ماہرینِ ارضیات نے نظریہ پیش کیا ہے کہ چاند کے اسی کھنچاؤ کی وجہ سے براعظموں کی حرکت، یعنی پلیٹ ٹیکٹونکس عمل میں آئی ہے۔ دوسرے سیاروں کا خول اس طرح سے حرکت نہیں کرتا بلکہ بالکل ساکن رہتا ہے۔

یہ تو آپ کو معلوم ہو گا کہ براعظم بہت سست رفتاری سے مسلسل سفر میں ہیں۔ آج سے کروڑوں برس قبل برِصغیر افریقہ کے جنوب میں واقع تھا، لیکن یہ وہاں سے چلتا ہوا آیا اور ایشیا سے ٹکرا گیا۔ ہمالیہ کا عظیم پہاڑی سلسلہ اسی ٹکراؤ کے نتیجے میں پیدا ہوا ہے۔ 

اس کے علاوہ چاند کا موسم پر بھی اثر ہوتا ہے۔ آپ نے ال نینو کا ذکر سنا ہو گا۔ بحرالکاہل میں پیدا ہونے والے اس موسمی مظہر کے پیچھے بھی چاند کا ہاتھ ہے کیوں کہ چاند کی کشش سے بادلوں اور ہواؤں پر بھی  پر بھی اثر پڑتا ہے، جو آگے جا کر طوفان کی شکل اختیار کر سکتی ہیں۔

اس کے علاوہ چاند زمین کی حرکت کو متوازن رکھنے کا کام بھی سرانجام دیتا ہے۔ زمین کے اپنے محور پر مستقل 23 درجے کے زاویے  پر برقرار رہنے کی وجہ کی وجہ سے چار موسم وجود میں آتے ہیں۔ اگر چاند نہ ہوتا تو  یہ زاویہ قائم نہ رہ پاتا اور زمین ایک بے قابو لٹو کی طرح گھومتی جس کی وجہ سے موسم انتہائی بے ترتیب ہوتے۔ آج کڑاکے کی گرمی  تو کل چلچلاتی ہوئی سردی۔

موسموں کا زندگی کے ارتقا پر بھی گہرا اثر ثبت ہوا ہے، چناں چہ اگر زمین کے موسم مختلف ہوتے، تو اس پر پائی جانے والی زندگی بھی کچھ مختلف ہوتی۔ کئی سائنس دانوں کا خیال ہے کہ اس وقت زمین پر جو پیچیدہ زندگی، بہ شمول انسانوں کے، موجود ہے، وہ چاند کے بغیر ممکن نہ ہوتی۔ گویا اس نظریے کے مطابق اگر چاند نہ ہوتا، تو ہم بھی نہ ہوتے۔ 

Moon

اور جہاں تک انسانوں کی بات ہے، تو انسانی تاریخ میں شروع ہی سے چاند کی بہت اہمیت رہی ہے،یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں سمیت کئی مذاہب کے کیلنڈر کا انحصار چاند پر ہوتا ہے۔

اس کے علاوہ چاند کا سائنس کی ترقی پر بھی گہرا اثر پڑا ہے۔ چاند کا مشاہدہ کر کے ہی ماہرینِ فلکیات اس قابل ہوئے ہیں وہ دوسرے اجرامِ فلکی کا مطالعہ کر سکیں اور ان کی جسامت اور فاصلوں کا اندازہ لگا سکیں۔

ہم نے آغاز میں ذکر کیا تھا کہ چاند وجود میں آنے کے بعد زمین سے صرف 25 ہزار کلومیٹر دور تھا، لیکن اس وقت چاند زمین سے تین لاکھ 76ہزار کلومیٹر دور ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ چاند زمین سے دور ہٹتا جا رہا ہے۔ ناسا کے سائنس دانوں نےتخمینہ لگایا ہے کہ چاند کے زمین سے دور ہٹتے کی رفتار ڈیڑھ انچ سالانہ ہے۔

گویا ایک دن واقعی ایسا آئےگا کہ چاند نہیں رہے گا۔ لیکن اس وقت یقیناً ہم بھی نہیں ہوں گے۔
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
”اوباما کے اقتدار سنبھالتے ہی حملے رک جائیں گے“

  مزید خبریں
افغانستان میں کار بم دھماکہ
ایران کے پاس بم بنانے کا سامان ہے: امریکی سائنسندان
اخراجات میں کمی: حکومت ترقیاتی منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لے گی
چین میں پانچواں امریکی قونصل خانہ
امریکی حملوں کے خلاف طالبان کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
شکاریوں سے قدرتی وسائل کے محافظ تک کا سفر
بچوں کے تحفظ کی مشترکہ مہم شروع
”بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے من موہن سنگھ سے بات کروں گا“
قوم پرست لیڈر کی ہلاکت پر بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available