 |
| گذشتہ ایک سال سے وکلاء سراپا احتجاج ہیں |
معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر کے خلاف وکلاء کی جانب سے ملک گیر احتجاج کا سلسلہ ایک بار پھرشروع ہو گیا ہے اور پہلے مرحلے میں ملک بھر کے تمام شہروں جن کراچی ، لاہور، پشاورنمایاں ہیں ،کے مرکزی چوراہوں اور اہم شاہراہوں میں وکلاء کی جانب سے دن بارہ سے دو بجے تک دھرنے دیئے گئے۔وکلاء نے اسی طرح کا دھرنا وفاقی دارلحکومت کے مرکزی چوراہے زیر و پوائنٹ پر بھی دے کر ٹریفک کو مفلوج کر دیاگیا۔اس موقع پر معزول ججوں کے حق اور حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی گئی۔
اس موقع پر وکلاء تحریک کے ایک سرکردہ رکن اطہر من اللہ نے کہا کہ وکلاء تحریک کے رہنماؤں کی جانب سے یہ کہا جا چکا ہے کہ یہ احتجاج پرامن ہوگا،انہوں نے کہا کہ وکلاء کی جدوجہد اشخاص کے لیے نہیں بلکہ قانون اور آئین کی بالا دستی کے لیے کی جا رہی ہے۔
وکلاء تحریک کے سربراہ اعتراز احسن نے کہا ہے کہ یہ وکلاء کی جانب سے احتجاج کا آغاز ہے اور ان کے بقول اگر معزول ججوں کی بحالی میں تاخیر ہوتی ہے تو دھرنوں سمیت احتجاج کے دیگر وں طریقوں میں شدت آتی جائے گی۔
دوسری جانب حکمران جماعت کے سربراہ آصف علی زرداری نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ حکومت تمام ججوں کو بحال کرے گی۔تاہم معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے حوالے سے وفاقی وزیر قانون فاروق ایچ نائیک کی جانب سے متنازعہ بیان سامنے آیا ہے جسں میں انہوں نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر نے آئین کے مطابق حلف لیا ہے۔ وزیر قانون کے بقول حکومت کوسپریم کورٹ کے معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کوبحال کرنے سے پہلے دو مرتبہ سوچنا ہوگا کیونکہ معزول چیف جسٹس کی بحالی سے آئینی بحران پیدا ہو سکتا ہے۔
معزول چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے بارے میں وزیرقانون کے حالیہ بیان پر تاحال وکلاء کی جانب سے ردعمل سامنے نہیں آیا، تاہم وکلاء کا موقف ہے کہ معزول ججوں کا دوبارہ اپنے عہدوں کا حلف اٹھانا ، سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے تین نومبر2007ء کو لگائی جانے والی ایمرجنسی کو قانونی جواز فراہم کرنے کے مترادف ہے۔
ادھر اسلام آباد میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے چھ ستمبر کو ہونے والے صدر کے انتخاب کے لئے تینوں بڑی سیاسی جماعتوں کے امیدواروں آصف علی زرداری، سعید الزماں صدیقی اور مشاہد حسین کے کاغذات نامزدگی جانچ پڑتال کے بعد منظور کر لیے ہیں ۔
صدارتی انتخاب کے لیے الیکشن کمیشن کے جاری کردہ شیڈول کے مطابق کاغذات نامزدگی کی منظوری کے بعد اگر کوئی امیدوارانتخابات سے دستبردار ہونا چاہے تو وہ 30 اگست دن بارہ بجے تک اپنے کاغذات نامزدگی واپس لے سکتاہے ،اور اسی روز الیکشن کمیشن صدارتی امیدواروں کی حتمی فہرست جاری کردے گا۔