 | | افغان پناہ گزین | |
|
پاکستان میں موجود تقریبا 18 لاکھ افغان پناہ گزینوں کے حوالے سے مہاجرین کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے کا کہنا ہے کہ حکومت پاکستان ان مہاجرین کی افغانستان واپسی کے لیے طے کردہ 31 دسمبر 2009 ء کی ڈیڈ لائن میں توسیع کرنے پر رضامند ہو گئی ہے۔اس بات کا فیصلہ پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے مہاجرین کی بحالی کے عالمی ادارے”UNHCR“ کے ہائی کمشنر Antonio Gauterres اور پاکستان کے سرحدی امور کے وزیر نجم الدین کے مابین ہونے والی ایک ملاقات میں کیا گیا۔ اس ملاقات کے بعد جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں افغان پناہ گزینوں کی واپسی کے حوالے سے کسی نئی ڈیڈ لائن کا تعین تو نہیں کیا گیا تاہم حکومت پاکستا ن کی جانب سے درمیانی مدت کا ایک فارمولا پیش کیا گیا ہے جس کے تحت افغانستان واپس جانے والے مہاجرین کی تعداد کے سالانہ جائزے کے بعد حتمی ڈیڈلائن مقرر کی جائے گی۔
خیال رہے کہ دہشت گردی کو روکنے میں ناکامی کے حوالے سے حکومت پاکستان پر بڑھتی ہوئی بین الاقوامی تنقید کے بعد پاکستان نے افغان حکومت اور مہاجرین کی بحالی کے لیے اقوام متحدہ کے ادارے سے مشاورت کے بعد افغان پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے 31 دسمبر2009 ء کی ڈیڈ لائن مقرر کی تھی۔
حکومت پاکستان کا یہ موقف رہا ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے سرحدی علاقوں کے قریب موجودافغان پناہ گزینوں کے کیمپ دہشت گردی کے مقاصد کے لیے استعمال ہو رہے ہیں ۔ اور اس حوالے سے حکومت پاکستان کی جانب سے بعض کیمپوں کو بند بھی کیا گیا۔ گو کہ مہاجرین کے لیے بنائے گئے کیمپوں سے باہر رہنا غیرقانونی ہے تاہم حکومت پاکستان کا ماننا ہے کہ افغان پناہ گزینوں کی ایک قابل ذکر تعد اد مہاجرین کے لیے بنائے گئے مخصوص کیمپوں کی بجائے شہری علاقوں میں آباد ہے۔