Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

ری پبلیکن پارٹی کی جانب سے نائب صدارت کی امیدوار سارہ پالین


September 4, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - Download this file (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

First-term Alaska Gov. Sarah Palin (file photo)
    سارہ پالین
چوالیس سالہ سارہ پالین اکثر امریکیوں کے لیے ایک نیا چہرہ ہیں۔ سینیٹر جان مک کین کی جانب سے ان کے  ساتھ نائب صدر  کے لیے  انتخاب لڑنے والی الاسکا کی یہ گورنر اپنے آپ کو ایک روائتی ماں کہتی ہیں۔  جب کہ تجزیہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ وہ اس سے قطعی مختلف ہیں۔ 

بہت سے امریکی سوال کررہے ہیں کہ سارہ  پالین کون ہیں؟ جمعے کے روز ریپبلکن پارٹی کی جانب سے صدارت کے لیے نامزد امیدوار جان مک کین نے  قوم کو ان سے متعارف کروایا۔  وہ ایک بیوی اور پانچ بچوں کی ماں ہیں۔  سب سے چھوٹا بچہ ڈاون سینڈروم کا مریض ہے۔   پالین کو اپنے بچے کے مرض کا علم  دوران حمل ہی ہوگیا تھا۔  لیکن وہ اسقاط حمل کی مخالف  ہیں  اور شادی سے قبل جنسی تعلقات سے اجتناب  کرنے کی حامی ہیں جس کی بنا پر قدامت پسند ان کی تعریف کرتے ہیں۔ تاہم پیر کے روز سارہ پالین نے اپنی سترہ سالہ غیر شادی شدہ  بیٹی کے حاملہ ہونے اور پیدا ہونے والے بچے کو  خود پالنے کے فیصلے کا اعلان کیا۔ وہ اور ان کے شوہر کے مطابق انہیں اپنی بیٹی کے اس  فیصلے پر فخر ہے۔

خود اپنے بارے میں گورنر کا کہنا ہے کہ میرے والدہ اور والد  دونوں ایک مقامی ایلیمینٹری سکول میں کام کرتے تھے اور میرے شوہر اور میں، ہم  دونوں بھی ا اپنے ہاتھوں سے کام کرتے ہوئے بڑے ہوئے۔ میں الاسکا کی ایک عام ہاکی مم تھی۔

وہ اوسط درجے کی طالبہ تھیں۔ ہائی سکول  باسکٹ بال ٹیم  میں وہ ایک  نمایاں  کھلاڑی تھیں جس میں انہوں نے اپنی سخت جانی کے باعث ایوارڈ بھی جیتا تھا۔  سیاست میں آنےسے پہلے وہ ماہی گیری  کے ایک  کاروبار کی مالکہ اور ٹی وی  سپورٹس رپورٹر تھیں۔

ان کے والد چارلس ہیتھ کا کہنا ہے کہ  سارہ  کی اپنی ایک  مضبوط  سوچ تھی اور خاص طور پر اس وقت جب وہ خود کو درست خیال کررہی ہوتی تھیں۔ اور   ایسا اکثر ہوتا تھا۔

انہوں نے سٹی کونسل سے ایک چھوٹے شہر کی میئر کے عہدے تک پہنچیں  اور  پھر  دو سال سے بھی کم عرصہ پہلے وہ   الاسکا کی گورنر  منتخب ہو گئیں۔

گورنر کے طور پر انہوں نے  طاقت ور گروپوں  کے خلاف جدوجہد کی اوروہ  اپنی ریاست میں  تیل نکالنے کے متنازع معاملے میں اضافے کی حامی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ توانائی کے ذرائع  پر نہ ختم ہونے وا لی بحث  خاص طور سے الاسکاوالوں کے لیے پریشان کن ہے کیونکہ وہ ترقی کرنا چاہتے ہیں۔  ہم مسئلے کو حل کرنے ، تیل پیدا کرنے  اور باقی ملک کی ترقی میں ہاتھ بٹانے  کے لیے تیار ہیں۔

الاسکا کے اسی فی صد عوام انہیں پسند کرتے ہیں۔  

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی میزائل حملوں پر احتجاج

  مزید خبریں
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available