ایوانِ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن قائم کرنا اَوّلین ترجیح ہوگی: نو منتخب صدر زرداری
ناصر محمود اسلام آباد September 6, 2008
آصف زرداری اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ ایوانِ وزیر اعظم میں حاضرین سے خطاب کر رہے ہیں
صدارتی انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد وزیرِ اعظم ہاؤس اسلام آباد میں افطار ڈنر سے اپنے مختصر خطاب میں نو منتخب صدرِ پاکستان آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ جمہوریت کے مشن کو آگے بڑھائیں گے۔
اپنی مختصر تقریر میں نو منتخب صدرِ پاکستان نے کہا کہ پارلیمان کی بالادستی قائم کرنے کے لیے اپنے عزم کا اعادہ کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ خود مختار ہے اور بحیثیتِ صدر وہ پارلیمان کے تابع رہیں گے۔
نو منتخب صدر نے کہا کہ ایک کمزور جمہوریت نے دو تہائی اکثریت سے صدر کو منتخب کرکے وہ کام کر دکھایا جو ایک فوجی آمر نہ کر سکا،اور یہی جمہوریت کا پیغام ہوتا ہے۔
اپنے ناقدین کے اِن الزامات کا جواب دیتے ہوئے کہ وہ ایک متنازعہ صدر ہوں گے، اُنہوں نے کہا:’99فی صد لوگوں نے صدر کو منتخب کیا ہے اور اُن پر تنقید کرنے والے جمہوریت کے اِس پیغام کو سمجھیں۔‘
اِس سے قبل انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد اپنے ایک تحریری بیان میں آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان کو ایک مشکل وقت درپیش ہے اور ایسے میں اُن کے کندھوں پر ذمہ داریاں بڑھ گئی ہیں۔
اُنہوں نے کہا کہ جمہوری حکومت اور پارلیمان کی حمایت اُن کی اولین ترجیح ہوگی اور آئین میں ترامیم کرکے ایوانِ صدر اور پارلیمان کے درمیان توازن قائم کیا جائے گا۔