Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

خدا بخش لائبریری میں فراز کے انتقال پر تعزیتی جلسہ


September 7, 2008

Ahmad Faraz

عالمی شہرت یافتہ خدا بخش لائبریری میں نامور شاعر احمد فراز کے انتقال پر جو تعزیتی جلسہ ہوا اس میں تمام شرکا بے حد سوگوار تھے اور ماحول بہت بوجھل تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ اس لائبریری سے فراز کا بے حد جز باتی تعلق تھا اور اس لائبریری میں آنے جانے والوں سے بھی ان کا بڑا گہرا رشتہ تھا۔ وہ اس ادارے میں تین بار تشریف لائے تھے۔ پہلی بار نو مئی 1998ء کو آزادی کی 50ویں سالگرہ کے موقع پر منعقدہ انڈو پاک مشاعرے میں تشریف لائے تھے۔ جس میں پاکستان کی نمائندگی احمد فراز اور حمایت علی شاعر نے کی تھی۔

 دوسری بار وہ نو مارچ 2006ء کو خدا بخش لائبریری میں واقع کرزن ریڈنگ روم کی صدی کے موقع پر منعقدہ مشاعرے میں بحثیت مہمان خصوصی تشریف لائے تھے اور گذشتہ سال 30مارچ کو وہ یہاں آئے تھے۔ جب لائبریری کی جانب سے ان کے اعزاز میں ’شام احمد فراز‘ منائی گئی تھی۔ جس کی صدارت مقتدر شاعر کلیم عاجز نے کی تھی۔

اس شام کی یاد ہر سامع کے دل میں تھی۔ کیوں کہ اس روز فراز نے اپنے فن کے بارے میں دل کھول کر باتیں کی تھیں، آپ بیتی بھی سنائی تھی اور جگ بیتی بھی۔ سامعین کے تمام سوالوں کے خندہ پیشانی سے جواب دیے تھے اور جی بھر کر کلام سنایا تھا۔ جب تک لوگ سیر حاصل نہیں ہو گئے۔ تعزیتی جلسہ میں جب اس شام کی سی ڈی دکھائی گئی تو سبھی آب دیدہ ہو گئے کہ وہ شاعر بھی موجود ہے اور اس کا کلام بھی۔لیکن طبعی طور پر وہ اس دنیا میں نہیں ہے اور جب ان کی آواز میں حاضرین نے یہ غزل سنی تو سب کی آنکھیں نمناک ہو گئیں۔
رنجش ہی سہی دل ہی دکھانے کے لیے آ
آ اور مجھے چھوڑ کہ جانے کے لیے آ
 
لائبریری کے ڈائریکٹر معروف مورخ پروفیسر ڈاکٹر امتیاز احمد جو خود بھی فراز کی شاعری کے بے حد مداح ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ گذشتہ صدی میں اردو شاعری میں پانچ بڑے شعراء پیدا ہو ئے۔ ان میں اقبال، جوش ، فراق،فیض اور احمد فراز ہیں۔ فیض کے انتقا ل کے بعد جو خلا پیدا ہو ا تھا اسے احمد فراز نے پر کر دیا تھا۔ اب ان کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنے والا کوئی نظر نہیں آتا۔ انہوں نے کہا کہ اس لائبریری سے فراز کا جو جذباتی تعلق تھا اس کا اظہا روہ بار بار کرتے تھے اور کہتے تھے کہ علم و ادب سے تعلق رکھنے والوں کے لیے یہ کعبہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ 19مارچ 2006ء کو انہوں نے اس ادارے کی ویزیٹر بک میں لکھا تھا۔

’زندگی کے بعض لمحات اتنے قیمتی ہو تے ہیں کہ وہ بقیہ عمر کا خزینہ بن جاتے ہیں۔ خدا بخش لائبریری میں آنا گویا علمی دنیا کے کعبہ کی سعادت حاصل کرنا ہے۔ یہاں نہ صرف نایاب مخطوطات کا ذخیرہ ہے بلکہ اسے جس احتیاط‘ محنت اور قرینے سے سنبھالا دے کر رکھا ہے اس کے لئے یہاں کے منتظمین خصوصاً ڈاکٹر امتیاز احمد صاحب اور ان کا عملہ نہ صرف مبارکباد کا مستحق ہے بلکہ ہم جیسے کم علموں اور تساہل پسند لوگوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ خدا انہیں مزید حوصلہ اور اجر دے۔ ‘

 اس سے قبل احمد فراز نے نومئی 1998ء کو بھی کتاب پر اپنے خیالات درج کئے تھے جس میں لکھا تھا ’مجھے یہاں آنے کا اعزاز نصیب ہوا۔ یہی وہ خزانے ہیں جو مخطوطات کی صورتوں میں عہد بہ عہد کی خوبصورتیاں محفوظ کر لی گئی ہیں۔آج کا دن میرے لیے نہایت ہی تقدس او ر تبرک سے مملو ہے۔‘

اپنے آخری سفر کے موقع پر احمد فراز نے ڈاکٹر امتیاز احمد سے فرمائش کی تھی کہ وہ لائبریری میں عظیم شاعر او رمفکر عبد القادر بیدل عظیم آبادی پر بھی ایک سیمنار کا اہتمام کریں اور انہوں نے کہا تھا کہ وہ جب بھی اس سیمنار میں بلائیں گے وہ ضرور حاضر ہوں گے اور یہ بتاتے بتاتے پروفیسر امتیاز احمد بے حد جذباتی ہو گئے اور کہاکہ انہوں نے فراز صاحب کی تجویز منظور کر لی تھی اور اس سمت میں کام بھی کر رہے تھے لیکن اس سے قبل ہی وہ آخری سفر پر روانہ ہو گئے۔ دراصل فراز کے لئے عظیم آباد کا سفر یوں بھی بہت جذباتی ہو تا تھا کیوں کہ انہوں نے بے دل عظیم آبادی کی افکار سے اکتساب فیض کیا تھا اور کیوں نہ کرتے جب غالب بھی کہتے ہیں:

طرز بیدل میں ریختہ کہنا
اسد اللہ خاں قیامت ہے
 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
”اوباما کے اقتدار سنبھالتے ہی حملے رک جائیں گے“

  مزید خبریں
افغانستان میں کار بم دھماکا
اے آر رحمان کی نئی فلم یووراج کی موسیقی مقبولیت حاصل کر رہی ہے
ایران کے پاس بم بنانے کا سامان ہے: امریکی سائنسندان
اخراجات میں کمی: حکومت ترقیاتی منصوبوں کا ازسرِ نو جائزہ لے گی
چین میں پانچواں امریکی قونصل خانہ
امریکی حملوں کے خلاف طالبان کی انتقامی کارروائی کی دھمکی
شکاریوں سے قدرتی وسائل کے محافظ تک کا سفر
بچوں کے تحفظ کی مشترکہ مہم شروع
”بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کے لیے من موہن سنگھ سے بات کروں گا“
قوم پرست لیڈر کی ہلاکت پر بلوچستان میں شٹرڈاؤن اور پہیہ جام ہڑتال
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available