Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

مسائل پر قابو پانے کے لیے نوازشریف کو ساتھ لے کر چلنا زرداری کے لیے ضروری ہے


September 8, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Islamabad-Zardari and Nawaz meeting -August 05-2008

پاکستان کے صدارتی انتخاب میں زرداری کی فتح پر امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ زرداری اپنے سابقہ وعدوں کے مطابق پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے  لیے قدم آگے بڑھاتے ہیں یا پھر ان اختیارات کو اپنے پاس رکھتے ہیں جو اس سے قبل پاکستان میں صرف فوجی ڈکٹیٹروں کے پاس رہے ہیں۔  ان اختیارات نے انہیں  پاکستان کے طاقت ور ترین سویلین صدر بنا دیا ہے۔

معروف امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ  انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہناتھا کہ یہ بظاہر یہ امکان کم ہے کہ زرداری اس وقت صدر کو حاصل اختیارات سے دست بردار ہونا پسند کریں گے۔  ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو ایک پارلیمانی جمہوری ملک بنایا تھا۔  بعد میں آنے والے فوجی ڈکٹیٹروں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرلیے۔  زرداری کو ورثے میں ایک ڈکٹیٹر کے اختیارات ملے ہیں۔  اختیارات کی پارلیمنٹ کو واپسی ان کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ اپنی قوت دوسروں کو منتقل کرنا ایک مشکل کام ہے۔  کیا وہ یہ کام کرپائیں گے؟ ڈاکٹرفاروق حسنات کاکہناتھاکہ بظاہر اس کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے۔

عمران علی چوہدری پاکستانی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔  ان کا کہنا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد زرداری کی ذمہ داریوں میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔  اب ان کی حیثیت اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین ہونے سے زیادہ تمام صوبوں اور تمام جماعتوں کے ایک ایسے بزرگ کی ہے جو غیر جانب داری سے سب کے معاملات دیکھے اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔  ان کا کہناتھا کہ زرداری کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا ہوگا جو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان اختلافات بھڑکا رہے ہیں۔  انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ آصف زرداری چیف جسٹس کو بحال کرکے نوازشریف کو دوبارہ اتحاد میں لانے کی کوشش کریں کیونکہ ملک میں بڑے پیمانے پر پائے جانے والے اقتصادی اور امن و امان کے خطرات کا مقابلہ دونوں بڑی پارٹیاں مل کر ہی کرسکتی ہیں۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
امریکی سفیر کی دفتر خارجہ طلبی میزائل حملوں پر احتجاج

  مزید خبریں
نیٹو ،افغان سپلائی لائن جاری رہے گی: پاکستان
اوباما اپنی کابینہ چننے میں مصروف ہیں
اظہار رائے کی آزادی پر ایک نئی بحث
ہلیری وزیرِ خارجہ بنیں تو بل کلنٹن کی بھی پڑتال ہو گی
بنوں میں مشتبہ امریکی میزائل حملہ، القاعدہ کے اہم رکن سمیت پانچ افراد ہلاک
فیض احمد فیض: اب شہر میں تیرے کوئی ہم سا بھی کہاں ہے
عراق میں 135 صحافی اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران ہلاک ہوئے
گلیشیئر ز کا تیزی سے پگھلنا ماحول کے لیے خطرناک ہے
پاکستان میں قانون کی حکمرانی نہیں ہے: جسٹس افتخار چوہدری
اوباما کو ناکامی ہوگی، ظواہری
جاوید میانداد پی سی بی کے ڈائریکٹر جنرل مقرر
مکی ماؤس 80 سال کا ہو گیا
موجودہ عہد ادب میں ’لا نظریہ‘ کا عہد ہے:گوپی چند نارنگ
ڈاکٹر عافیہ کی ذہنی صحت: عدالتی بحث جاری
اوباما سے امیدیں
اوباما وزیرِ صحت کے اہم عہدے کے لیےسابق ڈیموکریٹ سنیٹر ڈیشل کو نامزد کریں گے: میڈیا
یورپی یونین  کی طرف سے معاشی بحالی کا پیکیج
امریکہ ایشیا اور بحرالکاہل کے ملکوں سے وابستگی اور تعاون جاری رکھے گا: ایڈمرل کیٹنگ
ایران اورشام کے بارے میں عنقریب ایک رپورٹ متوقع
کمانڈو فورس کے سابق سربراہ اسلام آباد کے قریب حملے میں ہلاک
”غربت کے باعث والدین بچے ایدھی مراکز بھیجنے پر مجبور“
گجرات کے قصبے میں AIDS/HIVکے وائرس میں اضافہ
بھارتی بحریہ نے قزاقوں کا جہاز ڈبو دیا
پووپیگنڈہ لٹریچر بھیجنا بند کیا جائے، جنوبی کوریا
کمیشن میں اضافہ کیا جائے: پیٹرولیم ڈیلرز کا مطالبہ
جھنگ کا ممتاز حسین نیویارک کا ایک کامیاب فن کار  Video clip available
عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی 2011ء تک، لیکن توسیع بھی ممکن  Video clip available