پاکستان کے صدارتی انتخاب میں زرداری کی فتح پر امریکی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہے کہ زرداری اپنے سابقہ وعدوں کے مطابق پارلیمانی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے قدم آگے بڑھاتے ہیں یا پھر ان اختیارات کو اپنے پاس رکھتے ہیں جو اس سے قبل پاکستان میں صرف فوجی ڈکٹیٹروں کے پاس رہے ہیں۔ ان اختیارات نے انہیں پاکستان کے طاقت ور ترین سویلین صدر بنا دیا ہے۔
معروف امریکی تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے اسکالر ڈاکٹر فاروق حسنات کا کہناتھا کہ یہ بظاہر یہ امکان کم ہے کہ زرداری اس وقت صدر کو حاصل اختیارات سے دست بردار ہونا پسند کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے پاکستان کو ایک پارلیمانی جمہوری ملک بنایا تھا۔ بعد میں آنے والے فوجی ڈکٹیٹروں نے اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے اختیارات اپنی ذات میں مرتکز کرلیے۔ زرداری کو ورثے میں ایک ڈکٹیٹر کے اختیارات ملے ہیں۔ اختیارات کی پارلیمنٹ کو واپسی ان کے لیے ایک کڑا امتحان ہے کیونکہ اپنی قوت دوسروں کو منتقل کرنا ایک مشکل کام ہے۔ کیا وہ یہ کام کرپائیں گے؟ ڈاکٹرفاروق حسنات کاکہناتھاکہ بظاہر اس کا جواب نفی میں دکھائی دیتا ہے۔
عمران علی چوہدری پاکستانی امور پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر منتخب ہونے کے بعد زرداری کی ذمہ داریوں میں بہت اضافہ ہوگیا ہے۔ اب ان کی حیثیت اپنی پارٹی کے شریک چیئرمین ہونے سے زیادہ تمام صوبوں اور تمام جماعتوں کے ایک ایسے بزرگ کی ہے جو غیر جانب داری سے سب کے معاملات دیکھے اور انصاف کے تقاضوں کو سامنے رکھ کر فیصلے کرے۔ ان کا کہناتھا کہ زرداری کو ان لوگوں سے ہوشیار رہنا ہوگا جو پیپلز پارٹی اور نواز لیگ کے درمیان اختلافات بھڑکا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بہتر یہ ہوگا کہ آصف زرداری چیف جسٹس کو بحال کرکے نوازشریف کو دوبارہ اتحاد میں لانے کی کوشش کریں کیونکہ ملک میں بڑے پیمانے پر پائے جانے والے اقتصادی اور امن و امان کے خطرات کا مقابلہ دونوں بڑی پارٹیاں مل کر ہی کرسکتی ہیں۔