Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

پاکستان میں یوایس ایڈ کا کردار


September 8, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

USAID Unloading-textbooks-Kabul 23mar02 150.jpg

گیارہ ستمبر کے بعد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان جو تعاون شروع ہوا اس میں امریکہ کے امدادی ادارے یو ایس ایڈ کا کردار بہت نمایاں رہا ہے۔ وائس آف امریکہ نے پاکستان میں گذشتہ سات سالوں کے دوران اس ادارے کی سرگرمیوں کے بارے میں یو ایس ایڈ  کے سینئر ڈپٹی اسسٹنٹ ایڈمنسٹریٹر برائے ایشیا اور مشرق قریب  مارک وارڈ سے ایک خصوصی انٹرویو کیا۔

پاکستان میں لگ بھگ ایک عشرے سے زیادہ تعطل کے بعد امریکی امدادی پروگرام کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کیے جانے کے بارے میں مارک وارڈ کا کہنا تھا کہ مجھے یاد ہے جب مجھ سے کہا گیا کہ میں پاکستان واپس جاکر یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں پاکستان میں دوبار شروع کرنے کی ذمہ داری سنبھالوں جو کہ 90 کی دہائی میں معطل کردی گئی تھیں۔ اس کا مقصد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم اتحادی کی مدد کرنا تھا۔  امریکی صدر اور وزیرِ خارجہ کا یہ کہنا تھا کہ ہمیں سیکورٹی کے میدان کے ساتھ ساتھ سماجی شعبے میں بھی پاکستان کی مدد کرنی چاہیے۔  اور اسی مقصد کے تحت یو ایس ایڈ کی سرگرمیاں طویل وقفے کے بعد پاکستان میں دوبارہ شروع کی گئیں۔

مارک وراڈ کا کہنا تھا کہ یہ پروگرام شروع کرنے ایک اہم مقصد سماجی شعبوں میں پاکستانیوں کی مدد کرنا  تھا  ان کا کہناتھا کہ امریکی انتظامیہ میں یہ سوچ موجود تھی کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف ان کا اتحادی ہے اس لیے  حکومت کے ساتھ تعاون کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام کی بھی مدد کی جائے۔  ہمیں یہ معلوم تھا کہ 90کی دہائی میں یو ایس ایڈ کا سرگرمیاں معطل ہونے کے بعد بہت سے سماجی شعبوں میں ترقی کا فقدان دیکھنے میں آیا جس کے باعث ہمیں اور خود حکومتِ پاکستان کو بھی تشویش تھی۔  پاکستانی حکومت یہ چاہتی تھی کہ ہم دیگر امدادی ایجنسیوں کے ساتھ مل کر اس سلسلے میں ان کی مدد کریں خصوصاً تعلیم اور صحت کے شعبوں میں۔  

یوایس ایڈ نے پاکستان کو مختلف شعبوں میں معاونت فراہم کررہی ہے۔  ان شعبوں کے بارے میں مارک وارڈ کا کہنا تھا کہ 2002 میں ہم نے چار شعبوں میں کام شروع کیا تھا۔  یعنی صحت، تعلیم ، نجی شعبے کے فروغ اوعر جمہوریت کا فروغ۔  اب ہم ان کے ساتھ ساتھ دیگر شعبوں میں بھی کام کررہے ہیں جیسے کہ قبائلی اور زلزلے سے متاثرہ علاقوں کے عوام کی مدد۔ پاکستان کے لیے یو ایس ایڈ کی امداد میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔  جب میں 2002 میں پاکستان گیا تھااس وقت ہم ایک پروجیکٹ کے لیے سال میں تقریباً 5 کروڑ ڈالرز خرچ کررہے تھے لیکن اگلے سال کے لیے کانگریس میں جو بجٹ زیرِ غور ہے وہ ماضی کے مقابلے میں تقریباً چار گنا زیادہ ہے۔  ویسے تو ہر شعبے میں ہی ہماری امداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن سب سے زیادہ  اضافہ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں ہوا ہے۔

امریکی امدادی کارروائیوں کے نتائج کا ذکرکرتے ہوئے مارک وارڈ نے کہا کہ جن علاقوں میں ہم صحت اور تعلیم کے لیے کام کررہے ہیں وہاں ان شعبوں میں ترقی ہوئی ہے جس کی وجہ سے  اپنی کوششوں کو مزید تیز کرنے کے لیے ہماری حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔ 1990 کی دہائی میں کم عمر بچوں کی شرح اموات بہت زیادہ تھی لیکن2002کے بعدکم عمر بچوں کی شرحِ اموات میں 16 فیصد کمی آئی ہےاور اسکا کریڈٹ صرف یو ایس ایڈ کو نہیں جاتا کیونکہ دیگر بین الاقوامی ایجنسیوں نے بھی اس سلسلے میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے اور ہمیں یہ کامیابی ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی وجہ سے ہی حاصل ہوئی۔  اسی طرح تعلیم کے شعبے میں ہم جن علاقوں میں کام کررہے ہیں یعنی سندھ، بلوچستان اور اسلام آباد کے قریبی علاقے، وہاں اسکولوں میں داخلوں میں 25 فیصد اضافہ ہوا ہےاور بچے تعلیمی سال مکمل کررہے ہیں۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک