Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

نیوزیم کی نیوز ہسٹری گیلری


September 8, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Newseum

انگریزی زبان میں ،نیوز ہنگری ،کی اصطلاح  عام استعمال کی جاتی ہے۔ مگر کیا  یہ اصطلاح  میڈیا کے جدید ذرائع کی پیدا وار ہےیا قدیم زمانے سے انسان  زیادہ جاننے کی بھوک میں مبتلا ہے ؟ کیاتمام  صحافی قابل اعتبار ہوتے ہیں ؟کیا خبراور اس کی پیشکش کے انداز کو کوئی مخصوص گروپ یا لابی  کنٹرول کر سکتی ہے ؟یہ اور اس جیسے بہت سے سوال عام آدمی کے ذہن میں پیدا ہوتے ہیں۔ آئیے اس سوال کا جواب تلاش کرنے کے لیے  واشنگٹن کے نیوزئم کی نیوز ہسٹری گیلری میں چلتے ہیں۔  

میڈیا کے ماہرین کے مطابق خبر کی دنیا میں اہمیت صرف آج کی ہوتی ہے۔ خبر کی ترسیل کا نطام بھلے ہی تبدیل ہوتا رہے مگر خبر کی تعریف کبھی تبدیل نہیں ہوتی۔ تین  سال پہلے اگر سمندری طوفان کترینابڑی خبر تھا  تو آج گستاف کی اونچی  لہریں اور  متاثرہ انسان امریکی  اخبارات  اور ٹی وی  کی ہیڈلائنز کا موضوع  ہیں۔  اور یہی خبریں ہیں جن کی تاریخ محفوظ کی گئی ہے ،نیوز ہسٹری گیلری میں۔

میوزیم میں رکھتی ہوئی یہ تاریخی اور نادر دستاویز 1455یعنی پانچ صدیاں پہلے سے لے کر آج تک کی وہ  کہانی سناتی ہیں۔ جو انسان کی اس ضرورت کے متعلق ہے کہ وہ جاننا چاہتا ہے۔ اور جو اس پر بیتی وہ دوسرے کو بتانا چاہتا ہے۔ ان آوازوں کی کہانی ہے جو لوگوں تک پہنچنا چاہتی ہیں۔ ان لوگوں اور مشینوں کی کہانی ہے جو آپ بیتی اور جگ بیتیاں آپ تک پہنچاتے ہیں۔ اور ان حالات کی کہانی ہے جس میں وہ ایسا کر پائے۔

کہتے ہیں  کہ  خبر کی کہانی انٹر نیٹ ،ٹی وی اور اخبارات کے دور سے کہیں پرانی ہے۔ یہ وہ سادہ آلات ہیں جن کے ذریعے غاروں کے زمانے کاسیدھا سادہ  انسان خبر سننے اور سنانے کا شوق پورا کرتا تھا۔ کبھی تصویریں ،کبھی موتی۔ کبھی سیدھا سادا ڈھول۔ اور کبھی ایلچی اور ہرکاروں کی مدد سے۔ اور پھر 1450میں جرمنی کے ایک گولڈ سمتھ  گوٹن برگ نے پرنٹنگ پریس ایجاد کر کے جدید نیوز میڈیا کی بنیاد رکھ دی۔

نیویم کی اس گیلری کے سینیئر ایڈیٹر ڈان راس کہتے ہیں کہ اس گیلری کے تین بڑے شعبے ہیں۔ گیلری کے درمیان سے ایک ٹائم لائن گزرتی ہے جسے ہم  گیلری کی  ریڑھ کی ہڈی کہتے ہیں۔ اس کے نچلے حصے میں شیشے کی الماریوں   میں  شائع شدہ اوریجنل مواد ،زیادہ تر اخبار اور کچھ رسائل موجود ہیں۔ سب سے پرانااخبار  1545کا ہے۔ اس وقت سے لے کر ہم موجودہ زمانے کے اخبار اور رسالوں تک آتے ہیں۔ تو یہاں تین شیلفوں میں  پانچ سو سال سے زیادہ عرصے کے 350اصلی دستاویز رکھے گئے ہیں۔
 
گزشتہ پانچ صدیوں کے دوران خبر پر کیا گزری۔ خبروں کی پیشکش اور فراہمی کا انداز کیسے تبدیل ہوا۔ صحافت کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور لوگوں کوصحافت سے کیا شکایات رہیں۔ نیوز ہسٹری گیلری میں یہ اور اس جیسے کچھ اور سوالات  زیر بحث لانے کی کوشش بھی کی گئی ہے۔ ۔ جیسے  میدان جنگ سے خبریں  فراہم کرنے والے صحافی کن حالات میں کام کرتے ہیں۔

نیوز ہسٹری گیلری کے سینئیر ایڈیٹر ڈان راس جو خود بھی طویل عرصے تک صھافت سے وابستہ رہے ہیں ،کہتے ہیں کہ صحافی کی پسند ناپسند اور ذاتی رائے کا اثر اس کے کام میں نظر تو  آسکتا ہے مگر غیر جانبدار یا بامقصدصحافت   ایک  ایسا مقصد ہے جس کے حصول کی کوشش ضرور کی جاتی ہے لیکن ڈان راس کہتے ہیں کہ  وقت گزرنے کے ساتھ اب خبرکی بناوٹ میں انسانی  دلچسپی کا پہلو غالب آتا جا رہا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر آپ 60کی دہائی کے اخبارات  یا ٹی وی بلیٹنز دیکھیں تو خبر دینے کا انداز بالکل  سادا ہے۔ لیکن
آج زیادہ کوشش یہ کی جاتی ہے کہ خبر کا انسانی پہلو اجاگر کیا جائے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ بس یہ عام سی نیوزسٹوری کو زیادہ انسانی چہرہ دینے کی کوشش ہے۔

ڈان راس کہتے ہیں کہ گیلری میں موجود قدیم اخبارات ،صحافیوں کے شناختی بیجز اور فو ٹو گرافس جمع کرنے میں ان کے ساتھ 20 افراد کی محنت شامل رہی ہے اور کوشش کی گئی ہے کہ کم سے کم جگہ میں زیادہ سے زیادہ اہم نیوز سٹوریز گیلری کا حصہ بنائی جائیں۔ ان میں امریکہ کی سیاسی تاریخ کے مشہور زمانہ واٹر گیٹ سکینڈل  اور ان صحافیوں کا ذکر بھی شامل ہے جس کے نتیجے میں صدر  نکسن کووہائٹ ہاوس سے رخصت ہونا پڑاتھا۔

کیا صحافی اتنے ہی قابل اعتبار ہوتے ہیں ؟ڈان راس کا کہنا ہے کہ میں چونکہ  خود ایک صحافی تھا اس لئے میرا یقین ہے کہ ہاں۔ صحافیوں پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔ گو کہ حالیہ سالوں میں کچھ ناقابل رشک   مثالیں سامنے آئی ہیں۔ ایسے رپورٹرز کی  جنہوں نے جھوٹی خبریں گھڑیں۔ ایک یو ایس اے ٹوڈے کے لئے کام کرتا تھا اور دوسرا نام جیسن بلئیر کا ہے۔ جو نیو یارک ٹائمز کے لئے کام کرتا تھا۔ مگر زیادہ تر صحافی پوری کوشش کرتے ہیں کہ اپنی زمہ داری ایمانداری سے ادا کریں۔

ڈان راس سمیت  میڈیا کےزیادہ تر ماہرین سمجھتے  ہیں کہ خبروں کی پیشکش کے انداز پر جدید ٹیکنالوجی بھی اثر انداز ہوئی ہے مگرآج کی نیوز میڈیا انڈسٹری کسی ملک ، لابی یا  پریشر گروپ کے دباو کے تحت پالیسیاں تر تیب دینے پر مجبور نہیں۔ تاہم ڈان راس مانتے ہیں کہ ہر اخبار اپنی آزاد یا قدامت پسند پالیسی کی وجہ سے جانا جاتا ہےاور بعض اوقات یہی قارئین میں اس کی مقبولیت اورسرکولیشن کا سبب ہوتا ہے۔

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک