 |
مولوی جلال الدین حقانی (فائل فوٹو)
|
مالی وزیرستان کے مرکزی قصبے میران شاہ کے قریب ڈانڈے دربا خیل میں واقع سابق افغان وزیر اور طالبان کمانڈر مولوی جلال الدین حقانی کے گھر اور مدرسے پر پیر کی صبح نامعلوم سمت سے چھ میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں کم ازکم 16افراد ہلاک اور 20سے زائد زخمی ہوگئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں جلال الدین حقانی کی دو بیویوں اور بہن کے علاوہ دیگر رشتے دار شامل ہیں ۔ حملے میں غیر ملکی شدت پسندوں کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔حملے کے وقت حقانی وہاں موجود نہیں تھے۔بتایا جاتا ہے کہ یہ میزائل بغیر پائلٹ کے امریکی جاسوس طیاروں سے داغے گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے ایک ترجمان میجر مراد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اس علاقے میں ہونے والے دھماکے کی تصدیق کی ہے تاہم اس کی وجوہات اور اس میں ہونے والے نقصان کے بارے میں انہوں نے فوری طور یہ کہہ کر گریز کیا کہ مزید تفصیلات تحقیقات کے بعد سامنے آسکیں گی۔
27اگست کو بحرہ ہند میں ایک امریکی بحری بیڑے پر امریکی ایڈمرل مائیک مولن اور پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کے درمیان ہونے والی ملاقات کے بعد سے افغان سرحد سے ملحقہ قبائلی علاقوں شمالی اور جنوبی وزیرستان میں میزائل حملوں میں تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔
30اگست کو جنوبی وزیرستان کے گاؤں گنگی خیل میں ہونے والے میزائل حملے میں 18افراد ہلاک ہوئے۔اگلے ہی روز شمالی وزیرستان کے علاقے تپی میں ہونے والے حملے میں آٹھ افراد مارے گئے۔ دو دن کی خاموشی کے بعد تین ستمبر کو اتحادی افواج نے پہلی بارجنوبی وزیرستان کے گاؤں جلال خیل میں زمینی کارروائی کرتے ہوئے 20 افراد کو ہلاک کردیا جبکہ چار ستمبر کو شمالی وزیرستان کے محمد خیل میں میزائل حملے میں چھ افراد مارے گئے۔پانچ ستمبر کو شمالی وزیرستان کے گاؤں گورویک میں 12افراد بغیر پائلٹ کے طیاروں سے داغے گئے میزائل کا نشانہ بنے ۔
ان حملوں میں لگ بھگ 70افراد مارے جاچکے ہیں جن میں عسکریت پسندوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد عام شہریوں کی ہے اور جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔