 |
| نواز شریف کی نومنتخب پاکستانی صدر آصف زرداری سے ملاقات |
نومنتخب صدر آصف علی زرداری کی جانب سے مسلم لیگ ن کودوبارہ اتحاد اور کابینہ میں شامل ہونے کی دعوت پر معذرت کرتے ہوئے نواز شریف نے حکومت کے مثبت اقدامات پر تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیاہے ۔ اس بات کا انکشاف آصف علی زرداری اور نواز شریف کے درمیان اسلام آبا د میں ہونے والی ملاقات کے بعد مسلم لیگ نواز کے ایک مرکزی رہنمااحسن اقبال نے میڈیا سے بات کرتے کیا۔انہوں نے مزید کہا کہ مسلم لیگ نواز سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے آئین میں کی جانے والی متنازعہ ترامیم کے خاتمے اور تمام معزول ججوں کی بحالی کے حوالے سے حکومتی اقدامات کی غیرمشروط حمایت کرے گی۔ مسلم لیگ نواز کی جانب سے پاکستان پیپلز پارٹی کے وزراء کو پنجاب حکومت سے الگ ہونے کی تجویز کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں احسن اقبال نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے دوران پنجاب اسمبلی میں صدارتی امیدوارسعیدالزماں صدیقی کو 201 ووٹ ملنے سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ مسلم لیگ ن کوپنجاب اسمبلی میں اکثریت کی حمایت حاصل ہے۔ انہوں نے اس موقع پرا یک بار پھرپیپلزپارٹی کو مشورہ دیا کہ پنجاب اسمبلی سے الگ ہو کر مسلم لیگ ن کے مینڈیٹ کا احترام کرے۔
 |
| احسن اقبال |
احسن اقبال کے بقول منگل کو صدر کی حلف برداری کی تقریب میں ان کی جماعت کے بعض اراکین شرکت کریں گے تاہم انہوں نے واضح کیا کہ حلف برداری کی تقریب میں مسلم لیگ ن کی موجودگی سے یہ تاثر نہ لیا جائے کہ ان کی جماعت نے موجودہ متنازعہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر کوآئینی چیف جسٹس تسلیم کرلیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اچھا ہوتا اگر افتخار محمد چوہدری نو منتخب صد آصف علی زرداری سے حلف لیتے۔ نو منتخب صدر آصف علی زرداری اور نوازشریف کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شامل مسلم لیگ نواز کے راجہ ظفر الحق نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملاقات میں ملک کودرپیش اقتصادی اور سلامتی کے خطرات کے علاوہ بھارت کے زیر انتظام کشمیر کی بدلتی صورت حال پر بھی بات ہوئی۔
ادھر پاکستان پیپلزپارٹی کے ایک رہنما منظور وٹو نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت نے نہ تو مرکز میں ن لیگ کو حکومت سے الگ کیا تھا اور نہ ہی وہ خود پنجاب میں حکومت سے الگ ہونا چاہتی ہے۔ ان کے بقول اگر مسلم لیگ ن کو بہت شوق ہے تو وہ خو دپیپلز پارٹی کے وزراء کو نکال دے۔ لیکن منظو ر وٹو کے مطابق اگرایسا ہوا توصوبے میں خود نواز لیگ کی حکومت غیرمستحکم ہو جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی مرکز اور صوبے دونوں میں ن لیگ کے ساتھ مل کر چلنا چاہتی ہے اور عوام کو درپیش مسائل کو حل کرنا چاہتی ہے۔
آصف علی زرداری پیر کو اپنی دونوں بیٹیوں بختاور اور آصفہ کے ہمراہ ایوان صدر منتقل ہو گئے ہیں ، جہاں وہ منگل کو سپریم کورٹ کے موجودہ چیف جسٹس عبدالحمید ڈوگر سے حلف لیں گے۔