کینیڈا میں 14اکتوبر کو نئے انتخابات کرانے کے لیے پارلیمنٹ توڑ دی گئی
لطافت صدیقی ٹورنٹو September 8, 2008
کینیڈا کے وزیرِ اعظم نے اتوار کی صبح دارالحکومت آٹووا میں گورنر جنرل مسز مشیل جینز سے ملاقات کے بعد ملک کی 39 ویں پارلیمنٹ توڑنے اور اگلے ماہ کی 14تاریخ کو عام انتخابات کرانے کے فیصلے کا اعلان کیا ہے۔
اِس اعلان کےساتھ ہی کینیڈا میں سیاسی گہما گہمی شروع ہوگئی ہے اور تازہ ترین جائزوں میں بتایا گیا ہے کہ نئے انتخابات کے نتیجے میں کسی بھی پارٹی کو اکثریت حاصل نہیں ہوگی اور اس طرح گذشتہ چار سالوں میں تیسری مرتبہ اقلیتی حکومت قائم ہونے کا امکان ہے۔
2004ء میں لبرل پارٹی کی اقلیتی حکومت قائم ہوئی تھی اور2006ء میں کنزرویٹو پارٹی اقتدار میں آئی تھی لیکن اُسے بھی پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل نہیں ہوئی تھی۔
یہاں سیاسی تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ گذشتہ انتخابات میں 308 ممبران کی پارلیمنٹ میں وزیرِ اعظم اسٹیفن ہارپر کی کنزرویٹو پارٹی کو حزبِ مخالف کی سب سے بڑی جماعت لبرل پارٹی کے خلاف 32سیٹوں کی برتری حاصل تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ ہارپر الیکشن دوبارہ جیت جائیں گے لیکن وہ اکثریتی حکومت قائم کرنے میں ناکام رہیں گے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ وزیرِ اعظم ہارپر 2009ء میں الیکشن کرانا چاہتے تھے، لیکن چونکہ اُنہیں صدر بش کی پالیسوں کا حمایتی سمجھا جاتا ہے، لہٰذا اُنہوں نے فیصلہ کیا کہ امریکہ کے صدارتی انتخابات سے قبل کینیڈا میں الیکشن کرادیے جائیں۔
14اکتوبر کے انتخابات کے نتیجے میں اگر اسٹیفن ہارپر نے دوبارہ اقلیتی حکومت بنائی تو گذشتہ 50سال میں کامیابی حاصل کرنے والے ملک کے دوسرے وزیرِ اعظم ہوں گے۔
1960ء کی دہائی میں لیسٹر پیٹرسن دو مرتبہ اقلیتی حکومت کی قیادت کر سکے تھے۔