سینیٹر اوباما کولوریڈو میں اپنے حامیوں سے خطاب کر رہے ہیں
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار براک اوباما کا کہنا ہے کہ اُن کے خیال میں بالآخر کانگریس سات کھرب ڈالر مالیات کےمعاشی بحالی کے منصوبے کی منظوری دے دے گی، حالانکہ مجوزہ بل ایوانِ نمائندگان کی سطح پر کامیاب نہ ہو سکا۔
اُنھوں نے پیر کے روز کولوراڈو میں اپنے حامیوں کو بتایا کہ بیمار معیشت کو سہارا دینے کی خاطر اقدام لینے کے بارے میں، اُن کی امریکی خزانہ کے وزیر ہنری پالسن، ایوان کی اسپیکر نینسی پلوسی اور دوسرے قانون سازوں سے بات چیت ہوئی ہے۔
اوباما نے الزام لگایا کہ غیر ذمہ دارانہ سوچ کی بنا پر معاشی مشکلات سامنے آئی ہیں، جِس میں امیروں کے پاس دولت کا ارتکاز ہوا، جبکہ غریبوں تک خوشحالی کے ثمرات پھیلنے کی خواہش ادھوری رہی۔
اُنھوں نے کہا کہ ری پبلیکن سنیٹر جان مک کین بش انتظامیہ کے فلسفے پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں، جِس میں معاشی ضاطبوں کے اطلاق پر کم سے کم توجہ دی گئی ۔
پیر کے ہی دِن مک کین نے اوہائیو میں اپنے حامیوں کو بتایا کہ اوباما کی معاشی پالیسیاں،اُن کے الفاظ میں،ملک میں کساد بازاری لائیں گی۔ مک کین نے کہا کہ پچھلے ہفتے واشنگٹن میں مالی بحالی کے منصوبہ پر بات چیت کے دوران اُنھوں نے ٹیکس دہندگان کے مفاد میں باتیں کیں۔
اوباما بھی جمعے کے روز معاشی مذاکرات کے لیے وائٹ ہاؤس آئے ہوئے تھے۔