Urdu ▪ وائس آف امریکہ
غیر جانبدار خبریں  |  دلچسپ معلومات

صرف متن
Search

پہلے صدارتی مباحثے میں اوباما کا پلڑا بھاری رہا: رائے عامہ کا جائزہ


September 29, 2008
اس رپورٹ کی ویڈیو - ڈاؤن لوڈ کیجیئے (Real) video clip
اس رپورٹ کی ویڈیو - Watch (Real) video clip

Democrat Barack Obama makes a point during first presidential debate with Republican John McCain at University of Mississippi in Oxford, Mississippi, 26 Sept 2008

پہلے صدارتی  مباحثے کے دوران سینیٹر جان مک کین اور سینیٹر باراک اوباما نے خارجی امور اور امریکی معیشت پر اظہار خیال کیا۔ سی این این کے ایک سروے کے مطابق کم از کم 75 فی صد لوگوں کا خیال ہے کہ باراک اوباما اور جان مک کین ،دونوں صدر کے طور پر فرائض بھرپور طریقے سے ادا کر سکیں گے۔ لیکن سروے میں حصہ لینے والے افراد میں سے 51 فی صد کی رائے کے مطابق مباحثے کے دوران جان  مک کین کی نسبت باراک اوباما کا پلڑا بھاری رہا۔  قومی سلامتی کے موضوع پر جان مک کین نے اوباما پر 4 پوائنٹ کی برتری حاصل کی، لیکن  معیشت کے موضوع پر اوبام کو  مک کین پر  21 پوائنٹ  سے سبقت رہی۔

عراق میں  امریکی افواج کی تعداد میں  اضافے کے موضوع پر دونوں امیدواروں میں  اختلاف رائے تھا۔ جان مک کین کا کہنا تھا کہ عراق میں مزید فوج بھیجنے سے بہت فائدہ ہوا ہے، لیکن اوباما نے اس خیال کو درست تصور نہیں کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ جب جنگ شروع ہوئی تو آپ نے کہا کہ یہ جلد ہی اپنے اختتام کو پہنچ جائے گی۔ بقول آپ کے،  آپ جانتے تھے کہ  تباہ کن ہتھیار کہاں کہاں پوشیدہ ہیں ۔ آپ دونوں ہی باتوں  میں غلط ثابت ہوئیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ عراقی ہمارا استقبال کریں گے، لیکن یہاں بھی آپ کی رائے غلط نکلی۔

اوباما نے کہا کہ عراق کو افغانستان پر ترجیح  دینے کی وجہ سے  موجودہ حکومت اب تک اوسامہ بن لادن کو ڈھونڈ نکالنے میں ناکام رہی ہے۔ اس کے علاوہ خارجی امور پر بحث کے دوران دونوں امیدواروں نے پاکستان کے حوالے سے   اپنا نقطہ نظر بیان کیا۔

گزشتہ چند ہفتوں کے دوران حکومت پاکستان نے نیٹو اور امریکی افواج کے خلاف پاکستان کی سرحد پر کاروائیاں   کرنے  کا الزام  عائد کیا ہے۔ مک کین کا کہنا تھا کہ اوباما کو پاکستان میں فوجی کارروائی کی اجازت کی بجائے تعاون کی بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ایسا نہیں کر سکتے، اور ایسی باتیں کرنی بھی نہیں  چاہیئں۔ اگر کچھ کرنا ہو، تو حکومت پاکستان کے تعاون کے ساتھ کرنا چاہیے۔

جبکہ براک اوباما کا کہنا تھا کہ میں نے کہا تھا کہ اگر امریکی حکومت کو القائدہ کے ارکان، یا اوسامہ بن لادن کے ٹھکانے کے بارے میں معلومات ہوں، اور پاکستان کوئی کارروائی نہ کرے تو امریکہ کو ہی ان دہشت گردوں پر حملہ کر دینا چاہیے۔ میرے نزدیک یہ حکمت عملی درست ہے۔

جارجیا پر روس کے چڑھاو کے موضوع پر دونوں امیدواروں ناپنے آپ کو زیادہ مضبوط  ثابت کرنے کی کوشش کی۔

اس کے علاوہ  دونوں امیدواروں نے ایران کے ساتھ امریکی تعلقات  کے موضوع پر بھی اپنے نظریات  بیان کیے۔ سینیٹر اوباما اور سینیٹر مک کین دونوں کا کہنا تھا کہ ایران کو ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ لیکن  اوباما کے ایرانی صدر احمدنژاد سے ملاقات کے فیصلے کو بھولا پن کہتے ہوئے  مک کین نے اس پر  سوال اٹھایا۔


 براک اوباما کا کہنا تھاکہ جب میں نے  ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے کی بات کی تو اسے بھولے پن کا نام دیا گیا۔ لیکن غور کیجیے کہ حال ہی میں صدر بش نے خود ایک سینئر سفیر، بل برنز، کو اسی موضوع پر  یورپی ممالک کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کے لیےبھیجا ہے۔

صدارتی انتخابات سے قبل سینیٹر مک کین اور سینیٹر اوباما کے درمیان ایسے دو اور مباحثے  ہوں گے۔ اور  نائب صدر کے عہدے کے امیدواروں کے درمیان اس انتخاب کا واحد مباحثہ  اس ہفتے ہو گا۔  

 

emailme.gif اس صفحے کو ای میل کیجیے
printerfriendly.gif قابل چھپائی صفحہ

  اہم ترین خبر
ترکی میں سہ فریقی سربراہ اجلاس

  مزید خبریں
کشیدگی میں اضافے سے بھارتی فلم ڈسٹری بیوٹرز پریشان
دہشت گرد دنیا کے کسی ملک کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کانشانہ بنا سکتے ہیں: رپورٹ  Video clip available
آئی ایم ایف کا قرضہ پرانے قرضے چکانے کے لیے استعمال ہوگا  Video clip available
صوفیانہ شاعر ی میں نسوانی آوازیں  Video clip available
ممکنہ فضائی حملوں کی دھمکی کے بعد بھارتی ہوائی اڈوں پر ہائی الرٹ
ممبئی حملوں سے لشکرِ طیبہ کا کوئی تعلق نہیں: حافظ سعید کے ترجمان کا بیان
مہاراشٹر کے وزیرِ اعلیٰ نے ممبئی حملوں کی اخلاقی ذمے داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا
پی سی بی میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کا اعلان
بابری مسجد کی شہادت کی یاد میں
بانی ... نئی غزل کی منفرد آواز
امریکی فوجیں مزید تین سال تک عراق میں رہی گی
بنگلہ دیشی مصوروں کی نمائش، پریشانی میں سکون
یورپی بینکوں نے شرحِ سُود کم کردی
امریکہ کے ساتھ مثبت تعلقات کی اُمید ہے: پُوتن
زمبابوے میں ہیضے کی وبا اور حفظانِ صحت کے نظام کا خاتمہ
امریکا اپنی معیشت کو مستحکم بنائے: چین
بھارتی لوگوں کے رویے میں تبدیلی نہیں آئی: ممبئی سے واپس آنے والے پاکستانی فنکار    
سعودی عرب میں حج کے لیے زبردست حفاظتی انتظامات
بھارت کو دہشت گردی کے خلاف روسی مدد کی پیش کش
بھارت نوجوان نسل کو تعلیم اور تربیت فراہم کرے: رپورٹ
امریکی کار ساز کمپنیاں حکومت سے امداد کی منتظر ہیں
رفعت سروش کے انتقال کے ساتھ ترقی پسند ادب کے ایک عہد کا خاتمہ
افغانستان کے مستقبل کے بارے میں اقوامِٕ متحدہ کے مشن کی محتاط رائے  
”پاکستانی قیادت کے ذمہ دارانہ اور تسلی بخش دلائل“  Video clip available
”ممبئی حملوں اور پاکستانی تنظیموں کے مابین تعلق کی تحقیقات کی جائیں“
”زرداری نے یقین دلایا ہے کہ شواہد ملے تو کارروائی کریں گے“
کیا امریکہ 1930 کی کساد بازاری کی طرف بڑھ رہاہے؟  Video clip available
اوباما نے نیو میکسیکو کے  گورنر بل رچرڈ سن کو اپنی اقتصادی ٹیم میں شامل کرلیا  Video clip available
ممبئی حملے: حکومت کے خلاف عوامی برہمی میں اضافہ
اقتصادی بحران کےجلد خاتمے کے لیے  کوشش کریں گے : اوباما
ملکہ برطانیہ کا پارلیمنٹ سے خطاب: معیشت  کی بحالی سرفہرست
بان کی مون کا صدر زرداری کو فون
آدھی رات کا سورج ۔۔۔ بارھویں قسط: خوابوں خیالوں کا شہر
’پانچ سال کے اندر دنیا میں دہشت گردوں کی طرف سے بڑے حملے کا خدشہ‘
اسرائیل نے غرب ِ اردن میں پولیس بھیج دی
برما : سیاسی قیدی دور دراز جیلوں میں منتقل
افغانستان: 13 عسکریت پسند ہلاک
بنکاک: مظاہروں کے بعد پہلی پرواز  کی آمد
زمبابوے: پولیس نے دو مظاہرے منشتر کردیے
جاپان: شہنشاہ آکی ہیتو علیل، سرکاری مصروفیات منسوخ
بھارت کا گیارہ ستمبر؟
چین: نرسنگ ہوم میں آتش زدگی، 7 افراد ہلاک
فلپائن: باغیوں کے حملے میں پانچ فوجی ہلاک